سناتھن دھرم کے اکھاڑوں کا گیان: سنیاس سے آہنسا تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

باہر سے آنے والوں کے لئے اس ملک کا نام ہندوستان اور یہاں کے رہنے والے لوگ ہندو ہی رہے۔ یہاں صدیوں تک حکومت کرنے والے ترکوں، منگولوں، افغانوں، ایرانیوں نے بھی کبھی ہندو اور ہندوستان کو اندر سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ بقول ڈاکٹر اسرار احمد، مسلمانوں نے یہاں حکومت کرنے کے دوران سنسکرت زبان سیکھنے کی کبھی زحمت گوارا نہیں کی جس کی وجہ سے وہ ہندوؤں کے مذہب اور سماج کو سمجھنے سے قاصر رہے اور اس کو ڈاکٹر اسرار مسلمانوں کی غلطی سمجھتے ہیں۔

جس طرح اس سر زمین کو ہندوستان کہا گیا جو ایک جغرافیائی پہچان ہے اسی طرح یہاں کے رہنے والوں کو ہندو کہا گیا جو شہریت کے علاوہ مذہبی شناخت بھی ہے۔ فارس کا البیرونی پہلا شخص تھا جس نے ہندو عقیدے کو سمجھنے کی کوشش کی اور کتاب الہند لکھی۔ جتنا البیرونی کو بتایا گیا یا اس کی سمجھ میں آسکا اس کے مطابق اس نے ہندوؤں کو موحد قرار دیا اور ان کے عقیدے کو ابراہیمی عقائد جیسا ہی پایا۔ البیرونی کے نزدیک انسان کی تخلیق اور بعد از مرگ کے تصوارت اور پیامبروں، فرشتوں اور روح کے بارے میں خیالات ہندوؤں اور ابراہیمی مذاہب میں یکساں تھے۔

غیر برہمنوں کے لئے ہندو عقیدے کو سمجھنے میں حائل سب سے بڑی رکاؤٹ سنسکرت زبان رہی جو ایک خاص مذہبی طبقے کے علاوہ کسی کو بولنے حتیٰ کہ سننے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ نقصان یہ ہوا کہ سنسکرت زبان اہستہ اہستہ معدومی اور ہندوؤں کے عقائد دوسروں کی نظر میں ابہام کا شکار ہوتے گئے۔

جیسا کہ ہندوستان ایک ملک نہیں تھا ویسے ہی ہندو کوئی ایک مذہب یا عقیدہ نہیں تھا۔ برہمن وید اور شاستر لے کر آئے تھے جنھوں نے یہاں ایک نیا تصور دیا اور وہ اپنے عقیدے کو دھرم کہتے تھے جو بعد میں سناتھن دھرم کہلایا۔ جین مت اور سناتھن دھرم کے ملنے سے بودھ مت اور سناتن دھرم، بودھ مت اور اسلام کے یکجا ہونے سے سکھ مت کا ظہور بھی ہندوستان میں ہی ہوا۔

کہتے ہیں کہ ہندوستان یا بھارت کو سمجھنے کے لئے سناتھن دھرم کو سمجھنا اور سناتھن دھرم کو سمجھنے کے لئے کومبھ (کمبھ یا کنبھ) کے میلے کو سمجھنا ضروری ہے۔ کومبھ کا میلہ دریائے گنگا کے کنارے دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع ہوتا ہے۔ ہندوستان کی سر زمین اور یہاں کے عقائد کی طرح کومبھ کا میلہ باہر کے لوگوں خاص طور پر مسلمانوں کو سادھوؤں کا ایک اجتماع ہی نظر آیا اس کے اندر کی باریکیوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

گنگا کنارے آباد آج کا شہر بنارس جو ورناسی اور کاشی شہر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے سناتھن دھرم، بودھ اور جین مت سب کے لئے ہمیشہ سے تقدیس کا حامل رہا ہے۔ سناتھن دھرم کے ماننے والے اس شہر کو شیوا اور برہما کا گھر سمجھتے ہیں تو بودھ مت کا آغاز بھی ادھر سے ہی ہوا تھا اور جین مت کے ماننے والے بھی اپنی مکتی یہی ڈھونڈتے ہیں۔ گنگا جل کی تقدیس بھی سب کے لئے یکساں ہے۔ سناتھن دھرم کے ماننے والے زندگی میں ایک بار گنگا میں آشنان کر کے (ڈبکی لگا کر) اپنے جیون کے پاپ دھوتے ہیں اور مرنے کے بعد اپنے جسم کی راکھ اسی دریا میں بہا کر مکتی پاتے ہیں۔

سناتھن دھرم اور ہندوستان کی تاریخ پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ کومبھ کے میلے سے کوئی مذہبی عقیدہ یا کوئی ایسا واقعہ وابستہ نہیں جس کی احیاء یا تجدید کے لئے اس کا انعقاد ہو اور نہ ہی اس کی ابتدا کا معلوم ہے کہ کب کس نے اس میلے کا آغازکیا تھا۔ گنگا آشنان یا دریائے گنگا میں نہانا ہندوستان کے لوگوں خاص طور پر سناتھن دھرم کے ماننے والوں کے لئے مذہبی طور پر متبرک ضرور ہے مگر اجتماعی آشنان کو باقاعدہ میلے کی شکل دینا مذہبی سے زیادہ ایک سیاسی تحریک تھی جو وقت کے ساتھ باقاعدہ ایک مذہبی رسم بن گئی ہے۔

قرون وسطیٰ میں مقامی راجاؤں نے باہر سے آنے والے حملہ آوروں سے تحفط کی خاطر مذہبی بنیادوں پر صف بندی سناتھن دھرم کے تیرہ اکھاڑوں کو آٹھویں صدی عیسوی میں پیدا ہوئے شنکر اچاریہ کے فلسفہ کے مطابق مسلح تربیت گاہوں میں بدل کر کیا جس میں تن پر کپڑوں سے بے نیاز سادھوؤں کو شاسترادری سنیاس کے ساتھ ساتھ استرادری جسمانی مشقوں، لٹھ بازی، تلوار اور نیزہ بازی وغیرہ کی تربیت بھی دی جاتی تھی۔ ان اکھاڑوں سے تربیت پانے کے بعد ناگا سادھو ہندوستان کے طول و عرض میں پھیل جاتے تھے اور اپنے ماننے والوں کو نہ صرف دھرم کا سنیاس دیتے تھے بلکہ ان کو منظم کرکے بیرونی خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار رکھتے تھے۔

اکھاڑے ایک منظم انداز میں چلائے جاتے ہیں جو ایک طرف یہاں رہنے والے سادھوؤں کی رہائش اور کھانے پینے کا بندوبست کرتے ہیں تو دوسری طرف علاقے میں سیاسی و ثقافتی سرگرمیوں کے لئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔ ایک ایک اکھاڑے سے لاکھوں لوگ وابستہ ہیں مثال کے طور پر ہردیوار کے جونا اکھاڑے سے پورے ملک اور باہر سے ساٹھ لاکھ لوگوں کی براہ راست وابستگی بتائی جاتی ہے۔ کومبھ کے میلے کا انعقاد سناتھن دھرم سے منسلک 13 اکھاڑے مل کر کرتے ہیں۔ میلے میں ترشول، برچھی اور تلواروں سے مسلح دھرم کے کماں ڈو کہلانے والے ناگا سادھو سارے معاملات اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں جو سب سے پہلے خود آشنان کرتے ہیں اور پھر دوسروں کے لئے آشنان کا موقع دیتے ہیں۔

اب جب ہندوستان میں جمہوریت ہے اور بیرونی خطرات نہیں مگر اب بھی ان اکھاڑوں میں ایک طرف روایتی کشتی اور تن سازی کے ساتھ لٹھ برداری اور دھینگا مشتی کی تربیت کا انتظام ہوتا ہے تو دوسری طرف سادھنا کے گیان میں داخلی سیاسی محرکات شامل کردئے گئے ہیں۔ انتہا پسند مذہبی سیاسی نظریات کی حامل سیاسی جماعتیں مذہبی اکھاڑوں سے تربیت یافتہ سادھوؤں اور سنتوں کے بدلے گیان کو اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے بطور سیڑھی استعال کرتی ہیں۔

2013 ء کے بعد ناگا سادھوؤں کی فوج میں خواتین بھی شامل کی گئی ہیں جن کو سادھوئی کہا جاتا ہے۔ ان سادھؤویوں کو بھی یکساں تربیت کے مراحل بشمول اپنے ہاتھوں خود اپنی آخری رسوم کی انجام کے بعد دنیا اور اپنے گھر بار کو تیاگ (ترک) کرنا پڑتا ہے اور ساری زندگی دھرم رکھشا (مذہب کی حفاظت) کا عہد کرنا ہوتا ہے۔

کومبھ کے پچاس دنوں تک جاری رہنے والے میلے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد برطانیہ اور اسپین کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہوتی ہے۔ ایک طرف اتنی بڑی تعداد میں لوگ پرامن رہ کر دنیا کو امن اور آشتی کا پیغام دیتے ہیں تو دوسری طرف ہندوستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی جو حالیہ برسوں میں گجرات اور دہلی میں اپنی انتہا میں دیکھنے میں آئی وہ ہندوستان کی روایتی امن پسندی اور آشتی کے برعکس ہے۔ ہندوستان کی سیاست میں مذہبی انتہا پسندی اور تشدد سناتھن دھرم کے گیان میں سنیاس سے زیادہ اہنسا کی ترویج کا نتیجہ نظر آتا ہے جو اکھاڑوں کی چار دیواری سے نکل کر شہروں، گلیوں اور بازاروں میں پھیل گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 220 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *