کرونا ! گھبرانا نہیں مگر…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکم ہم سب کے لئے یہ ہے کہ ’’گھبرانا نہیں‘‘۔ حساب مگر ’’سیدھا‘‘ نہیں ہے۔دورِ حاضر میں Dataیعنی ٹھوس اعدادوشمار ہر مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے ضمن میں کلیدی شمار ہوتا ہے۔منگل کی صبح اُٹھ کر اخبارات دیکھے ہیں تو وفاقی حکومت کے کرونا وائرس کے مقابلے کے لئے ’’پوائنٹ پرسن‘‘ بنائے ڈاکٹر ظفر مرزا کی بتائی گنتی کے مطابق 22کروڑ آبادی والے پاکستان میں پیر کی رات تک اس مرض کے 94مریضوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔قومی سطح پر بتائی اس تعداد کے مقابلے میں سندھ حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس نے اپنی کاوشوں کی بدولت فقط اپنے صوبے میں پیر کی شام تک 150افراد کو اس کی زد میں آئے ہوئے شمار کیا تھا۔

سندھ حکومت کی بتائی تعداد کو مان لیں تو ملک بھر میں 16مارچ 2020کی شام تک کل 183افراد کرونا میں مبتلا ہوچکے تھے۔183اور94 کے مابین فرق کو کلرکوں سے سرزد ہوئی حماقتیں ٹھہراکر نظرانداز کرنا اس شخص کے لئے ممکن ہی نہیں جو صحافی ہونے کا دعوے دار ہو۔ جس کا بنیادی فریضہ ہی ٹھوس اعدادوشمارکے ذریعے لوگوں کو مستند معلومات پہنچانا ہو۔

وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے بتائے اعدادوشمار کے مابین موجود فرق کو نام نہاد Digitalدور میں نظرانداز کرنا اس لئے بھی ممکن نہیں کیونکہ قومی سطح پر ایک ’’حتمی‘‘ ڈیسک قائم ہونے کا دعویٰ بھی ہورہا ہے۔ہمیں یہ باور کروایا جارہا ہے کہ ملک بھر کے تمام اضلاع کی مقامی انتظامیہ اس ڈیسک تک اپنے ضلع میں رپورٹ ہوئے کیسوں کی فہرست پہنچاتی ہے۔دن گزرجانے کے بعد تمام اضلاع سے آئے اعدادکو اکٹھاکرکے اجتماعی تعداد کا اعلان ہوتا ہے۔موبائل فونز،لیپ ٹاپس،ماسٹر کمپیوٹرز اور Power Point Projectionکے اس دور میں 183اور 94کے مابین فرق کسی صاحبِ دل کے لئے نظرانداز کرنا لہذا ممکن ہی نہیں۔حکم مگر یہ ہے کہ ’’گھبرانا‘‘نہیں۔

مزاجاََ ایک ڈھیٹ آدھی ہوں۔صحافتی زندگی میں بہت کچھ دیکھنے کے بعد دل بہت بے حس ہوچکا ہے۔چونکنے کی سکت باقی نہیں رہی۔ وباء کے موسم میں لیکن خلقِ خدا کی فکر لازمی ہوجاتی ہے۔خود غرضی کی انتہا تک پہنچا شخص بھی وباء کے موسم میں کم از کم اپنی ذات کے بارے میں پریشان تو ہر صورت ہوتا ہے۔

بیوی اور بچوں کی عافیت بھی چاہتا ہے۔ ملازموں کی صحت کے بارے میں اپنی سہولت کی غرض ہی سہی تھوڑا پریشان تو ضرور ہوتا ہے۔ حکم مگر یہ ہے کہ گھبرانا نہیں ہے۔ 16مارچ 2020کی شام تک پاکستان بھر سے فقط 94 افراد کورونا کی زد میں آئے ہیں۔اس مرض سے ہلاک ہوجانے والوں کی تعداد بھی اپنے تناسب کے اعتبار سے پریشان کن نظر نہیں آرہی۔ اکثر مریض دوہفتوں بعد شفایاب ہوجاتے ہیں۔60 سال سے زائد عمر کے افراد کو البتہ مزید محتاط رہنا ہوگا۔خاص کر وہ افراد جن کے پھیپھڑے کمزور ہیں دمے کے مریض رہے یا اکثر ’’نزلہ زکام‘‘ کی زد میں آتے رہے۔

’’گھبرانا نہیں‘‘ والا رویہ پریشان اس لئے کرتا ہے کیونکہ امریکی صدر نے بھی کرونا کے حوالے سے ایسا ہی رویہ اختیار کیا تھا۔عالمی میڈیا کا بغور جائزہ لیں تو کرونا وائرس کے نمودار ہوتے ہی امریکہ اور یورپ کے ’’مہذب‘‘ قرار پائے لوگوں نے نہایت ڈھٹائی سے اس مرض کو فقط چین سے وابستہ کردیا تھا۔طویل مضامین کے ذریعے ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش ہوئی کہ ہزاروں برس سے چینیوں کو Exotic اور Wild جانور کھانے کا جنون ہے۔ایسے ہی کچھ جانوروں میں چمگادڑ کے ذریعے کرونا منتقل ہوا۔ وہ جانور چین کے شہر ووہان کی ایک مارکیٹ میں بکے۔ لوگوں نے ان کا گوشت کھایا تو بیمار ہوگئے۔

کرونا کو چین سے مختص کرنے کے بعد وہاں کے ’’آمرانہ نظام‘‘ کی داستانیں شروع ہوگئیں۔ چینی حکومت کو ’’حقائق‘‘ چھپانے کا مرتکب ٹھہرایا گیا۔ وہاں کے شہر اور محلوں میں جولاک ڈائون مسلط ہوئے وہ ’’انسانی حقوق‘‘ کو کچلتے بتائے گئے۔نسلی اور سیاسی تعصبات کی تسکین کا سامان پہنچاتی ان کہانیوں کی بدولت دُنیا کے کئی ’’ترقی یافتہ ممالک‘‘ میں ہر چینی نژاد شخص کوکرونا وائرس کا کیئرئیر تصور کرلیا گیا۔ انہیں ’’اچھوت‘‘ بنانے کی کوشش ہوئی۔

کرونا کے حوالے سے چین کی بھداُڑاتے نسل پرستوں نے مگر اس امر پر غور ہی نہیں کیا کہ چین ہی کے ایک نسبتاََ ’’خودمختار‘‘ صوبے ہانگ کانگ نے نہایت خاموشی مگر کمال مہارت سے اپنے ہاں اس وائرس کو پھیلنے نہیں دیا۔چین سے جدا ہوئے تائیوان نے بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا۔سنگاپور نسلی اعتبار سے ’’چین‘‘‘ ہی ہے۔وہاں کی تنگ زمین پر بلندعمارتوں میں بنائے فلیٹس میں لوگ بہت ہی Close Proximityرہتے ہیں۔سنگاپور نے بھی کامل لاک ڈائون مسلط کئے بغیر محض مستعد سکریننگ کے ذریعے اس وباء کو اپنے ہاں پھیلنے نہ دیا۔ جنوبی کوریا نے بھی ایسی ہی مستعدی دکھاتے ہوئے خود کو محفوظ بنالیا۔

چین کے قریب ترین ہمسایہ ملکوں میں کورونا کے مقابلے کے لئے اپنائے اقدامات کی مناسب تشہیر نہ ہوئی۔لوگ غافل رہے اور بالآخر یورپ کے قلب میں واقع اٹلی میں یہ مرض پھوٹ گیا۔اٹلی کے شمالی شہر وہاں کے جنوبی علاقوں کے مقابلے میں انتہائی خوش حال ہیں۔ وہاں صحتِ عامہ کا نظام بھی قابلِ رشک ہے۔ اٹلی میں یہ وباء پھوٹی تو اس کا مقابلہ نہ کرپایا۔ابھی تک فی کس تناظر میں وہاں کرونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دُنیا میں سب سے زیادہ ہے۔طبی نظام قطعاََ Collapse کرگیا ہے۔ڈاکٹروں کے لئے اخلاقی بحران یہ بھی ہے کہ بے تحاشہ مریضوں کو وہ ’’ناقابل علاج‘‘ قراردیتے ہوئے کسی بھی نوعیت کی توجہ دینے کی فرصت نہیں پارہے۔سفاک ترین معالج بھی Let Him / Her Dieکا رویہ اپنانے سے قبل سوبار سوچنے کو مجبور ہوتا ہے۔

بالآخر اٹلی کے حکام اس امر پر مجبور ہوئے کہ اپنے شمال کے پُررونق اور تاریخی شہروں کو مکمل کرفیو میں جکڑلیں۔ اپنے گھر سے باہر نکلنے والوں کو اب تحریری طورپر سفر کرنے کا جواز فراہم کرنا ہوتا ہے۔جھوٹ بولنے کی صورت میں جیل کی سزا بھی تجویز ہوئی ہے۔

ثقافتی اعتبار سے پاکستان اٹلی کی سماجی روایات کے بہت قریب ہے۔ وہاں بھی فقط مصافحہ کافی نہیں۔جپھی ڈالے بغیر قربت کا بھرپور اظہار نہیں ہوتا۔ اٹلی کے لوگ ہماری طرح مگر ’’ڈھیٹ‘‘ بھی ہیں۔گھروں میں بند ہوئے وڈیو پیغامات کے ذریعے ایک ’’آزاد اور جمہوری ملک‘‘ کے باسی ہوتے ہوئے بھی ’’کرفیو‘‘ کے نفاذ کو اپنا مذاق اُڑاتے ہوئے خوش دلی سے قبول کررہے ہیں۔اپنے فلیٹوں کی بالکنی میں آکر ہمسایوں سے مل کر موسیقی سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔

فروری کے اوائل میں ہمارے ہمسایہ ملک ایران میں یہ وائرس پہنچ گیا تھا۔اپنے گھر تک محدود ہونے کے باوجود میں اس کالم کے ذریعے دہائی مچانا شروع ہوگیا کہ پاکستان اور ایران کے مابین انسانی آمدورفت کو ذہن میں رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔بلوچستان کے تفتان پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔اب یہ واضح ہورہا ہے کہ اس ضمن میں مناسب پیش بندی نہیں ہوئی۔

سندھ کی حکومت شاباش کی مستحق ہے کہ اس نے تفتان سے آئے لوگوں پر نگاہ رکھی۔ ان کا سراغ لگانے کے لئے Data پر انحصار کیا۔انہیں چیک کیا اور کورونا کی زد میں آئے افراد کو قرنطینہ کا پابند بنایا۔دیگر صوبوں کی حکومتوں نے ایسی مستعدی دکھانے سے گریز کیا۔سکریننگ کا نظام اب بھی قابل ستائش حد تک مستعد نہیں ہے۔مجھے خدشہ ہے کہ دیگر ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی بالآخر ایک بڑی تعداد کورونا کی زد میں نظر آئے گی۔وہ سامنے آئے تو حیران وپریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔دُنیا بھر میں یہ Pattern نمودار ہورہا ہے کہ انتہائی کم تعداد ’’اچانک‘‘ بلند ترین سطح کو چھوتی نظرآتی ہے۔اس سے سراسیمگی پھیلتی ہے۔چند دن بعد مگر اعدادوشمار Flat ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ایک نوعیت کا ’’معمول‘‘ دِکھتے ہیں۔

سراسیمگی سے اجتناب اور خود اعتماد رعونت دو مختلف رویے ہیں۔ہانگ کانگ، سنگاپور اور جنوبی کوریا کی حکومتوں نے پہلا رویہ اپنایا۔ہمارے حکمران خوداعتمادی کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ربّ کریم سے فریاد ہی کرسکتا ہوں کہ خوداعتمادی کا بھرم برقرار رہے۔اس بھرم کو برقرار رکھنے کے لئے اگرچہ ضروری ہے کہ کم از کم Data توسیدھا رکھا جائے۔گنتی صحیح رہے۔ ہمیں بتایا جائے کہ 16مارچ 2020کی شام تک پاکستان بھر میں کوروناوائرس کی زد میں آئے افراد کی کل تعداد 183تھی یا 94۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *