کیا عمران خان پانچ سال پورے کرنا چاہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوش بختی  اقتدار دلوا سکتی  ہے مگر امورِ سلطنت چلانے کیلئے فقط صلاحیت ہی درکار ہوتی ہے۔

جولائی 2018 میں پاکستان کی مضبوط ترین حکومت وجود میں آئی اور عمران خان ایسے وزیراعظم کے طور پر منتخب ہوئے جسے طاقتور اداروں کی بھرپور حمایت حاصل تھی. پہلی بار سب ایک ہی صفحے پر نظر آئے. عمران خان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ فوج نہ صرف حکومت کے پیچھے ہے بلکہ تحریک انصاف کے منشور کے بھی ساتھ ہے. یہ دعوے کچھ ایسے بےبنیاد بھی نہ تھے. فوج کی جانب سے ‘مثبت رپورٹنگ’ کی تلقین سمیت بہت سے اقدامات اس سے پہلے کسی اور حکومت کیلئے دیکھنے میں نہیں آئے.

اپوزیشن کے معاملے میں بھی خوش بختی نے عمران خان کا ساتھ نہ چھوڑا. صرف چار ووٹوں کی برتری سے وزیراعظم منتخب ہونے والے عمران خان کو ایک بہت ہی کمزور ‘ہومیوپیتھک اپوزیشن’ کا سامنا رہا ہے. عدالتی کیسز اور بیماریوں میں گھری اپوزیشن قیادت کو اپنے ہی معاملات سیے فرصت نہیں تھی چہ جائیکہ وہ حکومت کیلئے مشکلات کھڑی کرتے. ایسی آئیڈیل صورتحال مارشلائی ڈکٹیٹرز کے علاوہ کسی سول حکمران کو میسر نہیں ہو سکی.

ایسے سازگار ماحول میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عمران خان اپنے طرز حکمرانی سے ایسے انمٹ نقوش چھوڑتے کہ انکا ذکر دیومالائی قصے کہانیوں کے کرداروں کی طرح کیا جاتا. کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اس قوم کیلئے خزاں زدہ خشک ماحول بنانے کی بجائے بہار کے خوش رنگ پھولوں جیسا دلفریب منظر بناتے مگر افسوس صد افسوس کہ انکا کردار ابھی تک سرسبز پیڑوں پر پھیلی زرد رنگ کی آکاس بیل کی مانند ہے.

حکمرانوں کی اولین ترجیح اپوزیشن کو ساتھ ملا کر داخلی استحکام قائم رکھنا ہوتا ہے. حاکم وقت ایسی پالیسی بناتے ہیں جس سے سرمایہ کاروں کو کاروبار کیلئے سازگار ماحول میسر ہو سکے مگر عمران خان اپنے بیانات اور عمل کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے. اس کا نتیجہ بزنس مینوں کی بڑھتی بےچینی اور معاشی گراوٹ کی صورت میں سب کے سامنے ہے.

بطور وزیراعظم قومی اسمبلی میں اپنی پہلی ہی تقریر میں احتجاج کیلئے کنٹینر کے ساتھ کھانا دینے کا اعلان کر کے انہوں نے اپنے عزائم ظاہر کر دئیے تھے. اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی میثاق معیشت کی تجویز کو ٹھٹھوں میں اڑایا گیا. معیشت میں بہتری کے اقدامات کرنے کے برعکس گزشتہ اٹھارہ ماہ میں احتساب کے نام پر بدترین انتقام کا منظرنامہ ہی حاوی رہا. جرمنی کی نازی پارٹی کو ظالم جماعت کے طور پر پیش کرنے والے عمران خان نے اقتدار کی کنجی سنبھالتے ہی ‘یوٹرن’ لیا اور مخالفین کو سبق سکھانے کیلئے وہی ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دئیے جنہیں وہ پہلے نفرت انگیز قرار دیتے تھے. لفظ کرپشن کو دہشت بنانے کے چکر میں احتساب کا نام اتنا بدنام کر دیا ہے کہ اب یہ صرف عتاب نما اک تماشہ بن چکا ہے.

اسوقت نیب اور ایف آئی سمیت تمام ادارے ایک ہی صفحے پر اور عمران خان  جابر حکمران کے طور پر نظر آتے ہیں. واحد ایجنڈا اداروں کے ذریعے مخالفین کو کچلنا ہے. انکے چشم ابرو پر کسی کو بھی پکڑ کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے. حیران کن طور پر احتساب اپوزیشن کا ہو رہا ہے مگر کرپشن کہانیاں حکومتی افراد کی زبان زد عام ہیں مگر اندھیر نگری چوپٹ راج کے مصداق حکومتی مخالفین جیل میں اور حکومتی افراد سے صرف نظر برتا جا رہا ہے. انتقام نما احتساب کے ڈرامہ کو آج ایک بڑا دھچکہ لگا جب خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی ضمانت ہو گئی. تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود آجتک ایک دھیلا بھی وصول نہیں کیا جا سکا.

حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ سیاسی چپکلش بعد عدلیہ اور میڈیا کے ساتھ محاذ آرائی بھی ضروری سمجھی. جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس اور جیو کے ایڈیٹرانچیف میر شکیل الرحمٰن کی چونتیس سالہ پرانے مقدمہ میں گرفتاری منقسم مزاج عمران خان کے بغض و انتقام کا شاخسانہ ہے.

اپوزیشن پریس کانفرنس یا پریس ریلیز جاری کرنے کے علاوہ کسی بھی طرح کے احتجاج کے موڈ میں نہیں. عمران خان کی ترجیحات دیکھیں تو لگتا ہے کہ خود انھیں بھی یقین ہو چکا ہے کہ گورننس میں بہتری لانا انکے بس کی بات نہیں. وہ اپنی نالائقیوں کا بوجھ اپوزیشن پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں.

ابھی تک پچاس لاکھ گھروں کی ایک اینٹ بھی نہیں رکھی جا سکی اور لاکھوں افراد بیروزگار ہو چکے ہیں. پانچ سال بعد مسائل حل نہ کرنے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں رہے گا. گمان ہے کہ گورننس پر توجہ دینے کی بجائے ریاست کے اہم ستونوں کے ساتھ انتقام پر مبنی محاذ آرائی بڑھا کر وہ اپنی نااہلی چھپانا چاہتے ہیں تاکہ انھیں زبردستی گھر بھیجا جائے.

اقتدار کے مواقع قسمت سے ملتے ہیں اور ان مواقعوں کو عوام کی بہتری کیلئے استعمال کرنے والے حکمران تاریخ میں امر ہو جاتے ہیں. ہر وقت ہاتھ میں تسبیح گھما کر ریاست مدینہ کا ذکر کرنیوالے عمران خان بھول جاتے ہیں کہ حکمرانی کا حساب بھی ہونا ہے. وقت ہاتھ سے سرک رہا ہے اور فیصلے کا اختیار صرف عمران خان کے ہاتھ میں ہے. اپنے ہی فیصلوں کے بوجھ تلے دبنے سے پہلے کچھ کر لیں ورنہ مطلق العنان حکمرانوں کے زیر عتاب آنے کی داستانوں سے تاریخ بھری ہوئی ہے.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *