ماں جیسا چاہتی ہے ہسپتال ویسا نہیں ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ڈاکٹر اچھا ہو تو آدھی بیماری ختم ہو جاتی ہے ۔یہ بات ٹھیک ہے یا صرف ایک جذباتی سا وہم جو بیمار لوگ عموماً اپنے آپ کو تسلی دینے کے لئے سوچتے ہیں ۔ یا یہ ہمارا اک بہانہ ہے اپنی بیماری ڈاکٹر کے سر ڈالنے کا ۔
چند سال پہلے بیٹی کی انجیو پلاسٹی کے لئے پنڈی کے ایک مشہور دل کے ہسپتال پہنچے ۔

میری ہنستی کھیلتی بیٹی ہے ۔ ٹریٹمنٹ سے پہلے اسے رونق دکھاتے گھماتے رہے ۔ ہمیں تسلی دی گئی تھی ، بتایا گیا تھا کہ ایک گھنٹے کا مختصر سا پروسیجر ہے ۔ اگلے دن آپ گھر جا سکیں گے ۔ ایسا کچھ نہ ہوا پروسیجر کے بعد ہمیں کئی دن تک ایک کمرے میں محدود ہونا پڑا ۔  کمرے میں آنے کے بعد صبح دس سے رات دس بجے تک  تک بچی ہوش میں نہ آئی ۔ میری بیٹی پہلے بھی طویل سرجری کے عمل سے گزر چکی ہے ۔ پیدائشی طور پر یہ پٹھوں اور جوڑوں کی تکلیف میں مبتلا تھی ۔ پہلے کبھی جب بھی اس کا کوئی پروسیجر ہوا تو یہ جلدی ہوش میں آ کر چہکنے لگتی تھی ۔

اس بار ایسا نہ ہوا ، ہم بار بار سٹاف کو بلاتے رہے ۔ کسی نے چیک کرنے کی زحمت ہی نہ کی ۔ رات گئے جب بچی کو فٹس پڑنے شروع ہوگئے ، اسکی  زبان دانتوں میں آکر لہو لہان ہو گئی ۔ شور مچانے پر نرس  آئی بھی تو اس نے نے تمسخرانہ انداز میں کہا کیا ہو گیا ہے دانتوں میں زبان ہی تو  آئی ہے۔   بحرحال بچی کو نیم مردہ حالت میں آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا ۔ جہاں تین دن وہ وینٹیلیٹر پر رہی ۔

مجھے بحثیت ماں ساتھ ایک حال نما کمرے میں بند کر دیا گیا ۔ اس کمرے کو باہر سے لاک بھی کیا جاتا تھا ۔ وہاں مجھ جیسی کئی مائیں سہمی بیٹھی رہتی  تھیں،  کہ نانے کس ٹائم  بری خبر آجائ۔ وہاں مریض کے ساتھ رکنے کی کسی کو  اجازت نہیں تھی۔

مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ بچے کی تکلیف واقعی ماں کا کیسے کلیجہ کاٹتی ہے ۔ میرے خاوند  باہر کوریڈور کے ایک بنچ پر بیٹھے رہتے تھے ۔ وہ بنچ بھی رات کو بارہ بجے کے بعد الٹا دیے جاتے تھے ۔

خیر رات جیسے تیسے کر کے گزری۔ نماز کے ٹائم باہر آئی تو ہسبنڈ پریشان حال کھڑے تھے ۔ مجھے دیکھ کر کہا کہ بیٹی کے لئے زندگی کی نہیں آسانی کی دعا کرو ۔میں حیران ہوکر  ان کی شکل دیکھنے لگی۔  تو وہ بولے ایک بار  آئی سی یو میں جا کر بچی کو سانس لیتے دیکھو تو تم بھی یہی کہو گی ۔میں بہت ہمت کر  کے بھی بیٹی کو دیکھ کر نہ آ سکی ۔

خیر تین دن بعد کچھ حالت سنبھلی وینٹی لیٹر سے اتار کر روم میں شفٹ کیا گیا ۔ اس روم میں تین بیڈ تھے۔ ان بیڈ پر بچے تبدیل ہو جاتے ۔ جب ان کو کمبل سے اتار کر سفید چادر میں لپیٹ دیا جاتا ۔ مسلسل دس دن بے بس والدین کی چیخ و پکار سنتی رہی ۔ یہ وہ چیخیں آہیں ہوتی ہیں ، جن کے بعد مائیں اپنا زندہ بچوں کو زیادہ زور سے ساتھ لگا لیتی ہیں ۔

سب سے تکلیف دہ  دور دراز گاؤں مختلف صوبوں شہروں سے آئے  والدین کے ساتھ ہسپتال کے سٹاف کا رویہ تھا ۔ سٹاف حقارت سے ان بچوں کو ہاتھ نہ لگاتا جن کے ڈائپر نہیں لگا ہوتا تھا ۔ اس مہنگے ہسپتال میں ہم لاکھوں روپیہ بل دے کر بھی انہی بے بس دیہاتیوں کی طرح ٹریٹ ہوئے ۔ یہاں شائد عادت یا روٹین میں ہمیں سول بلایا جاتا تھا ۔ یہ برا لگتا تھا اور غلط بھی ۔

بچی روم میں شفٹ ہو چکی تھی ۔ بول سکتی تھی نہ ہل سکتی تھی ۔ صرف چیخیں مار سکتی تھی ۔ اسکی بے جان آنکھیں لگتا تھا ہم سے بس سوال ہی کرتی ہیں ۔ لگتا تھا کہ کہتی ہے کہ  ماما پاپا میں تو سکول سے چھٹیاں لے کر آئی تھی ۔ میرے ساتھ کیا کیا آپ نے خوراک کے لئے ناک میں نالی لگوا دی۔ ڈاکٹر  آتے اور بچی کی ٹانگوں میں پن کی نب ٹچ کر کے آنکھوں آنکھوں میں باتیں کرتے۔ ہمیں پانچ چھ دن کچھ نہ بتایا گیا اور آخر میں نے بچی کو اٹھا کر ہاسپٹل کے کاؤنٹر پر لٹایا اور چلائی کہ کوئی  کچھ تو بتائے ۔اسے ہوا کیا ؟

آپ نے تو کہا تھا اگلے دن واپس چلی جائے گی ۔ تب بتایا گیا کہ ائیر ببل دماغ تک چلا گیا ہے ۔ بچی عارضی طور پر مفلوج ہو گئی ہے۔ اس کے بعد مجھے ایک عدد سکون کی گولی پکڑا کر روم میں بھیج دیا گیا ۔ خیر دس دن کے بعد چھٹی ملی لیکن بچی چھ مہینے مفلوج رہی ۔

بیماری تو جو ہمارے نصیب میں لکھی تھی آ گئی ۔لیکن ہسپتال کے ڈاکٹرز سرجن  نرسیں وارڈ بوائز سبکا رویہ بہت تکلیف دہ رہا تھا۔ باپ کے آنے کا وقت مقرر تھا ۔ بطور ماں  میرے لئے سب کچھ اکیلے ہینڈل کرنا بہت مشکل تھا ۔ بیٹی کے جسم میں اتنا کھچاؤ تھا کہ اٹھانا ہی محال تھا ۔

نماز کے بعد سٹاف سونے نہیں دیتا تھا۔  ایک  بار ہاسپٹل سے باہر جانے پر دوبارہ پورے تحقیقاتی اور تلاشی کے عمل سے گزر کر واپس آنا پڑتا تھا ۔ تب ہم سوچتے ہماری سب سے قیمتی چیز ہاسپٹل کے اندر زندگی موت کی جنگ لڑ رہی اور انکو ہم پر ہی اعتبار نہیں ۔ دس بارہ گھنٹے تک انجیو پلاسٹی کے بعد بار بار کہنے کے باوجود بھی بچی کو دیکھا نہیں گیا۔ جسکی وجہ سے پھیپھڑوں میں پانی بھر گیا۔

کیا ڈاکٹر کی صرف اتنی زمہ داری ہوتی کہ وہ اپنا کام ختم کر کے مریض سے لاتعلق ہو جائے ۔  اگلے شعبے کے حوالے کر دے ۔  والدین کو حقائق سے آگاہ کرنا کیوں ضروری نہیں ؟ اگر ڈاکٹر ایسے مریض اور واقعات دیکھ دیکھ کر سخت دل ہو جاتے ہیں  تو اس میں والدین کا کیا قصور ہوتا ہے ؟

ہمارے سوال پوچھنے پر ہمیں کہا گیا کہ آپکی بچی پہلے ہی بیمار تھی اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ۔ ایک ڈاکٹر کا ایسا جواب میرے لئے بہت تکلیف دہ تھا ۔میرا بہت دل کیا کہ ڈاکٹرز کو اپنی بیٹی کی سکول نوٹ بکس لا کر دکھاؤ کہ میری بیٹی کتنی اچھی سٹوڈنٹ تھی ٹھیک ہے جسمانی طور پر بیمار تھی لیکن اتنی ذہین کے ایک دفعہ کی بات اسے بھولتی نہیں بلکہ ہمیں جب بھی کچھ یاد نہ آئے اسی سے پوچھتے ہیں اس حادثے سےمیری بیٹی کی پڑھائی میں جو گیپ آیا وہ اسے آج تک بھر نہیں سکا اور ہمارے دِلوں میں اتنا خوف بیٹھ گیا کہ ہم بچی کی کسی بھی مزید ٹریٹمنٹ کا سوچ کر ہی سہم جاتے ہیں۔

میں نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب جس حالت میں یہ بچی اب ہے کیا آپ کے پاس اس حالت میں لائی گئی تھی ؟ کیا جسمانی طور کمزور یا بیمار لوگ علاج میں کوتاہی کے مستحق ہو جاتے ہیں ؟کیا انکے اور نارمل بچوں کے علاج میں فرق رکھا جانا چائیے ؟

لیکن ابھی آج جب یہ کالم لکھنے بیٹھی ہوں تو فیاض الحسن چوہان کے الفاظ کانوں میں پڑے کہ جسمانی معذور بچے والدین کے اعمال یا گناہوں کی سزا ہوتے ہیں ۔  جس معاشرے کے ڈاکٹرز اور حکومتی عہدیدار بیمار بچوں کے بارے میں یہ سوچ رکھیں اس معاشرے کا ، اس معاشرے کا حصہ ایسے بچوں کا کیا مستقبل ہو گا ؟

ہمیں جو ایک مشہور ہسپتال میں تجربہ ہوا ۔ ہمارے ایک صوبائی وزیر نے جیسے بات کی ہے ۔ اس سے ہیلتھ کے سارے سسٹم پر ہی اعتبار اٹھ جاتا ہے ۔ اچھے ڈاکٹروں اچھے سٹاف کا سارا اچھا عمل گہنا سا جاتا ہے ۔ ہسپتالوں کا ڈاکٹروں کا نظام قائم کرتے اسے ڈیزائین کرتے ، پروٹوکول بناتے یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ ایک ماں اپنے بیمار بچوں کے لیے کیا محسوس کرتی کیسے سوچتی ہے ۔ جب ہسپتال بنائیں تو اسے ویسا بنائیں جیسا مائیں اپنے بچوں کے لیے چاہتی ہیں ۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *