ہم اللّے بللّے پاکستانیوں کا رب وارث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب اس میں تو دو رائے نہیں پاکستانی جیالے اور جی دار ہیں۔ یہ آپ کی مرضی ہے کہ انہیں احمقانہ صف میں گھسیٹ لیں۔ دلیل کے ساتھ چلیں گے تو پھر اتفاق کرنا پڑے گا۔ پر جیالے پن کا بھی تو ایک اپنا حسن ہے۔ برصغیر کے دو ماں جائے جو ہمسائے بن گئے تھے کوئی پچپن سال قبل جب پہلی بار لڑے تو دنیا نے دیکھا۔ لاہور کاآسمان جنگ وجدل کا پانی پت بنا ہوا ہے۔ اور لاہوری خندقوں مورچوں میں کودنے کی بجائے چھتوں پر کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ تالیاں پیٹ رہے ہیں۔ پاگلوں کی طرح دشمن کے گرے جہازوں کا مزید تیاپانچہ کرنے بگٹٹ بھاگے جاتے ہیں جیسے مانو یہ بھی گڈیاں پتنگ ہوں۔

کورونا وائرس کِسی ناگہانی آفت کی طرح دُنیا پر نازل ہوا ہے۔ ہم بیچارے تیسری چوتھی دنیا کے نہنگے ملنگوں نے کیا پریشان ہونا ہے کہ وہ تو پیدائش کے ساتھ ہی پریشانیاں اور دکھوں کے انبار لے کر آتے ہیں۔ بات تو اُن بڑے لوگوں اور بڑے ملکوں کی ہے کتنی کمینی سی خوشی ہورہی ہے۔ ٹرمپ کا کورونا میں مبتلا ہونے کا ڈر۔ چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی ہیں۔ اب یہ بھی مکاریاں اور عیاریاں ہیں کہ چین نے تو کہہ دیا ہے ساری حرامزدگی امریکہ کی ہے۔ یا پھر اللہ نے اپنے ہونے کا احساس دلایا ہے کہ لو دیکھ لو کیسے تمہاری ساری ٹیکنالوجی سائنس اور ریسرچ کی کاوشیں تہس نہس کردی ہیں۔ ایک ماہ میں پوری دنیا کا اقتصادی نظام تل پٹ کرکے رکھ دیا ہے۔

دو یورپی ملکوں کے مقتدر شخصیتوں کو دیکھ کر تو ہنسی چھوٹ گئی ہے کہ ہاتھوں کی بجائے پاؤں کے جوتوں سے مصافحہ ہورہا ہے۔ جدت طرازیاں تو بھئی ان پر ختم ہیں۔ اب سپر پاور کے ہاں ماسکوں کا قحط پڑگیا ہے۔ سپر سٹورز پر سامان کے حصول پر جھگڑوں کی خبریں ہیں۔ دیکھ لیجیے اندر کی کمینگیاں کیسے باہر آتی ہیں۔ سکول، کالج، یونیورسٹیاں سب بند۔ پروازیں معطل۔ اب ایسے میں اپنے لوگوں کو کیا کوسیں یہ تو ہیں ہی سدا کے ازلی نکمے اور نالائق رہے حکمران تو وہ اپنے چکروں میں۔

سچ تو یہی ہے کہ اگر پاکستانی قوم اللّی بللّی سی ہے تو حکمران کون سا کِسی ہج چھج کے ہیں۔ بڑے ریاست مدینہ کے دعوے دار۔ بندے کو عقل نہ ہو تو کِسی سے ادھار ہی مانگ لے۔ چین جیسا گوانڈی خیر یہ گوانڈی کہنا بھی کچھ درست نہیں کہ ہم تو اس کا بغل بچہ ہیں۔ اب جب وہ مصیبت میں مبتلا ہوا تو پل بھر کے لیے سوچ لو کہ ہمیں تو رگڑا لگنا ہی لگنا ہے۔ تو دفاع کیسے کرنا ہے۔ اس پر فوراً کام کرنے کی ضورت تھی۔ مگر ہمیں ہوش پھر نہیں آیا۔ اب جب دنیا کو رگڑا لگنے لگا تو آنکھیں کھلیں۔ اتنی بھی عقل نہ تھی کہ ایران کا باڈر کراس کرتے زائرین کو اچھی طرح سنبھالتے۔ جو انتظامات کیے تو وہ بھی اتنے ناقص تھے کہ مسائل کم ہونے کی بجائے اور بڑھنے لگے۔

لو میں بھی بچوں جیسی باتیں کرنے لگ گئی ہوں۔

جمعے کی شام کو حکم جاری ہوگیا۔ سکول، کالج، یونیورسٹیاں بند، ٹیوشن سنٹر بند، شادی ہالز بند، اجتماع پر پابندی دفعہ 144 نافذ۔ بڑے ہنگامی اقدامات، فیصلوں کے بھاشن۔ ہائے ہائے بچے بیچارے نئے سال میں پڑھائی کی پٹٹری پر ابھی چڑھے ہی تھے۔ صبح کام پر گئی۔ ملتان روڈ اورنج ٹرین اسٹیشن کے شیڈ کے نیچے سینکڑوں کی تعداد میں دیہاڑی دار مزدور بیٹھے کہیں اپنے سامنے برش پینٹ کے ڈبے رکھے اور کہیں ہتھوڑے چھینیاں تیسی، کانڈی رکھے پر امید نظروں سے دیکھتے تھے کہ کب کوئی آئے اور انہیں کام کے لیے لے جائے۔ ایک رونق اور میلے کا سا سماں تھا۔ بازار میں دودھ دہی کی بڑی دکانوں پر رش، نان چھولوں کی دکانوں پر خریداروں کے جمگھٹے۔ بازار کی صبح کی رونقیں اپنے عروج پر۔ کہاں کا کرونا اور کیسا کرونا۔ کیسا ڈر اور کیسا خوف؟

ڈیڑھ بجے باہر نکلی۔ پارک میں نماز جنارہ ہورہی تھی۔ کوئی دو سو کا مجمع نیت باندھے کندھے سے کندھا جوڑے نمازجنازہ پڑھ رہے تھے۔ چند لمحوں کے لیے انہیں دیکھا اور خود سے کہا۔ اللہ ہی ہمارا بیلی ہے۔

بشری اعجاز فون پر تھی۔ ہماری بشری اعجاز کمیٹیوں کی بڑی دلدادہ ہے۔ اس کی بات میں بھی وزن ہے کہ اِس بہانے ملنا ہوجاتا ہے۔ وہ کہہ رہی تھی۔ مجھے پندرہ کے بعد کراچی جانا ہے۔ ڈیفنس کلب کا طے ہوگیا ہے۔ Close Friendsکے نام سے تشکیل کردہ اِس کے ممبران کو مطلع کردیا گیا ہے۔ فوری ردّعمل نیلم احمد بشیر کا سامنے آیا۔ خدشات اور خوف سے بھرے لہجے میں۔ ویٹروں کے ہاتھوں بارے، گوشت بارے، جمگھٹے بارے۔ وہ ابھی کوئی دو گھنٹے قبل سرگودھا سے ایک مشاعرہ میں شرکت کرکے لوٹی تھی۔ میں جانتی تھی۔ اس کے تو میں نے لتّے لیے۔ نہ وہاں کیا گوشت نہیں کھایا تھا۔ جن ملازموں نے سروس دی انہوں نے ہر پانچ منٹ بعد ہاتھ دھوئے تھے۔ یقین ہے تمہیں۔ اور کیا وہاں مجمع نہیں تھا۔ اگر یہ سب بھگت کر آئی ہو تو چپکی بیٹھو۔

شام چھ بجے سو کر اٹھی۔ باورچی خانے میں آئی۔ خادمہ بارے بہو نے بتایا کہ وہ دو دن کے لیے گاؤں گئی ہے۔ اندر کا وہم اور خوف چیخا ”ہائے وہاں کیوں گئی۔ “ جانور گند مند۔ طبعیت کا کھولاؤ صرف چند لمحوں کا تھا۔ اب اپنے آپ سے کہتی ہوں۔ میرے اپنے گھر کی کیا گارنٹی ہے؟ گھر کے پچھواڑے مزدور کام کررہے ہیں۔ پندرہ دن ہوئے ہیں صبح سے شام تک ادھر ہی رہتے ہیں۔ ”بس اللہ مولا تیری پناہ۔ “ کہا اور خود کو شانت کیا۔ سلیب پر دو لفافے پڑے تھے۔ ایک میں سموسے اور دوسرے میں جلیبیاں۔ مزدوروں کے لیے شام کی چائے پر کبھی کبھی یہ چیزیں منگوانا میرے میاں کا محبوب مشغلہ ہے۔ ہماری بھی موجیں ہوتی ہیں۔ لفافے میں بچے ہوے دو سموسے۔ ہائے سموسے سدا کی کمزوری۔ بازار کی چیزیں۔ وہم نے سر اٹھایا۔ پر چند ہی لمحوں بعد ارے بھاڑ میں جائے سب۔ سموسہ کھانا ہے۔ اوون میں گرم کرنے کی بجائے توے پر خوب گرم کے بعد دہی رائتہ کی چٹنی سے بسم اللہ پڑھ کر کھایا۔ دودھ میں جلیبیاں پکا کر میٹھا اڑایا۔ لمبا ڈکار بھرا۔ عشاء کی نماز پڑھی۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔

مولا کل ہم سب دوست لوگ بلقیس ریاض جو رضا رومی کی ماں بھی ہیں اور ایک خوبصورت لکھاری بھی کے ہاں اکٹھی ہورہی ہیں۔ کلب کی طرف سے جو اب مل گیا ہے۔ مولا سب کی خیر۔

پروردگار میری جان جگر، میری آنکھوں کی ٹھنڈک میری اکلوتی بیٹی بیجنگ کے دوزخ میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ مقید ہے۔ اُس کے بچوں کے امتحانوں کا کچھ پتہ نہیں۔ اللہ میرے اُن کی خیر، اُن کے لیے آسانیاں۔ پاکستانیوں کی خیر۔ چین کی خیر کہ بہر حال اِس اللّے بللّے پاکستان کے ساتھ مشکل وقتوں میں کھڑا ہوتا ہے۔ میرے ملک کی خیر۔ مولا یہ دن تو میرے کسانوں کے لیے آزمائش کے دن ہیں۔ انہیں دھوپ چاہیے۔ بوندیں نہیں۔ چاہے وہ سونے کی ہوں۔ میرے مولا اُن کے بھڑولے دانوں سے بھر دے۔ میرے اللہ میرے غریب، میرے معصوم لوگوں پر تیرا کرم ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *