ماں مر گئی، مادر وطن زندہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری ماں بانوے سال کی ہے۔ میں اسی کے پاس جارہا ہوں، اس نے آہستہ سے کہا تھا ”یوآر اے لکی مین، تم خوش قسمت آدمی ہو، تمہاری ماں زندہ ہیں۔ میں نے جواب دیا۔

ہاں یہ بات تو ہے ہم لوگ تین بھائی ہیں اورایک بہن۔ ہم تین بھائی سال کے تین تین مہینے ان کے پاس رہتے ہیں اور ہماری بہن چھ مہینے ان کے ساتھ رہتی ہے کیونکہ اب تہران میں کوئی نہیں ہے ہم میں سے۔ ہر ایک امریکہ میں ہے اور ہماری ماں امریکہ نہیں آنا چاہتی ہے، تو یہ انتظام کیا ہے ہم لوگوں نے۔ اس نے میرے جواب کا جواب دیا تھا۔ کل اسے دل کا دورہ پڑا ہے، وہ ہسپتال میں ہے مجھے اگلے مہینے جانا تھا لیکن میں اب جارہا ہوں، خدا کرے سب ٹھیک رہے۔ وہ اور زندہ رہے ہمارے سروں پر سایہ بن کر۔

میرے خیال میں تو تمہاری ماں بھی خوش قسمت ہے کہ تم لوگوں جیسے بچے ہیں، ورنہ کون آج کل اتنا وقت دیتا ہے بوڑھے ماں باپ کو۔ میری بات سن کر وہ دھیرے سے اُداسی سے مسکرادیا تھا۔

چھیاسٹھ سالہ احمد عباس دارابی مجھے فرسٹ کلاس کے کیبن میں نیویارک سے دبئی آتے ہوئے جہاز پر مل گیا۔ میں نے زندگی میں کبھی بھی فرسٹ کلاس میں سفر نہیں کیا، ہمشہ سستے اکنامی کلاس کا ٹکٹ لیا تھا میں نے۔ جسے اکثر لوگ کیٹل کلاس یعنی مویشیوں کے سفر کی جگہ کہتے ہیں۔

جب تک میں فرسٹ کلاس میں نہیں بیٹھا اس وقت تک مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اکنامی کلاس کو کیٹل کلاس کہنا اتنا بے جا بھی نہیں ہے۔ فرسٹ کلاس کی کشادگی، وہاں ائرہوسٹس کا رویہ، وہاں کا کھانا، وہاں کا ٹیلی ویژن اور رسائل و جرائد سب بہت مختلف ہوتے ہیں۔ فرسٹ اور اکنامی کلاس کا فرق اتنا ہی ہے جتنا لاہور کے ماڈل ٹاؤن اور گوالمنڈی کا فرق ہے، وہی فرق جو شیرٹن ہوٹل میں اور ہائی وے کے دھابے میں ہے، جو آغا خان ہسپتال اور کسی بھی سول ہسپتال میں ہے۔

اس دن ہوا یہ کہ ایمرٹس ائرلائن کا نیویارک سے دبئی جانے والا جہاز مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ اکنامی کلاس کے چند مسافروں کو فرسٹ کلاس میں بٹھایاجارہا تھا۔ جب میں بورڈنگ کارڈ لینے پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ مجھے فرسٹ کلاس میں جگہ دی جارہی ہے۔ بس یہی اتفاق تھا جس نے مجے اس کا شریک سفر بنا دیا۔

احمد عباس دارابی میرے پڑوس والی نشست پر پہلے ہی سے بیٹھا ہوا تھا۔ اُداس اور پریشان، مجھے لگا جیسے اس کی آنکھوں میں آنسو ہیں، میں نے خود ہی گفتگو شروع کی تھی۔

عباس کا تعلق ایران سے تھا اور وہ گذشتہ چالیس سال سے امریکہ میں رہ رہا تھا بلکہ سارا خاندان ہی امریکہ میں آباد تھا۔ باپ کی موت واقع ہو چکی تھی اور بانوے سالہ ماں ابھی بھی تہران میں رہ رہی تھی سب کچھ ٹھیک تھا ایک بہن تین بھائی سال کو تقسیم کرکے ماں کی خدمت کررہے تھے لیکن اب وہ ہسپتال میں تھیں۔

ارے تو آپ لوگ ایران میں ہی رہیں۔ اگر آپ کی والدہ امریکہ نہیں جانا چاہتی ہیں اور وہ آپ لوگوں کے لیے اتنی اہم بھی ہیں کیونکہ جب آپ ایران میں نہیں ہوتے ہوں گے تو ان کے لیے بے قرار ہی رہتے ہوں گے۔

ہاں رہتے تو ہیں مگر کیا کریں، آٹھ ملین سے زیادہ ایرانی ایران سے باہر مہاجر ہوگئے ہیں۔ امریکہ میں ہی ایک ملین سے زیادہ ہیں۔ ہم بھی انہی مہاجروں میں سے ایک ہیں اور اب تو ایران جانا اور جا کر رہنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس نے آہستہ آہستہ بہت واضح الفاظ میں جواب دیا۔ ہم سب نے زندگی ایسے ہی قبول کرلی ہے۔

آپ نیویارک میں کیا کرتے ہیں۔ میں نے سوال کیا تھا۔

اب توریٹائر ہوگیا ہوں پہلے کولمبیا یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا اور اب کبھی کبھار کچھ لکھنے پڑھنے کا کام کرلیتا ہوں ورنہ آزاد ہوں اورتہران بھی تھوڑا زیادہ آنا جانا ہوگیا ہے، پتہ نہیں بوڑھی ماں کب ساتھ چھوڑ جائے۔

میں سمجھ گیا تھاکہ اُس کے لیے نیویارک چھوڑنا مشکل کیوں ہے، اب بچے بھی ہوں گے جن کی شادیاں ہوچکی ہوں گی اور ان کے بھی بچے ہوں گے جن کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ آدمی اپنے بچوں اوراپنی ماں باپ کے درمیان بٹ جاتا ہے وہ بھی ایک بٹا ہوا آدمی تھا اور بٹا ہوا آدمی کیا کرسکتا ہے، وہ بھی بٹا ہوا ہی رہتا ہے۔

دنیا میں یہی ہورہا ہے۔ جب سے دنیا بنی ہے انسان یہی کررہے ہیں وہ درختوں کے نیچے، چھوٹے سے گھروں میں، شہروں، ملکوں میں اوربراعظموں کے چھوٹے بڑے مکانات اور عالی شان محلوں میں پہلے بھی بٹے ہوئے تھے اب بھی بٹے ہوئے ہیں۔ یہی دستور ہے اورشاید یہ دستور بدلنے والا نہیں ہے۔

میں نے سوچا نہیں تھا کہ میں امریکہ میں رہ جاؤں گا مگر رہنا پڑگیا۔ شروع میں اس امید میں کہ بہت جلد وقت بدل جائے گا، پھر واپس تہران کی فضائیں ہوں گی مگر نہ وقت بدلا اورتہران کی فضاؤں میں مستقل رہنا ہوسکا۔ ہاں آنا جانا لگا ہوا ہے اورشاید ماں کی زندگی تک لگا رہے گا پھر نہ ماں ہوگی نہ ہی میرے لیے ایران ہوگا۔

امریکہ میں کیوں رہ گئے آپ؟ کسی امریکن سے شادی کرلی ہوگی۔ میں نے دل میں یہ سوچتے ہوئے سوال کیا تھا۔

لمبی کہانی ہے شاہ کے زمانے میں دبستان البرز میں پڑھنے والا ہر بچہ یورپ امریکہ کے خواب دیکھتا تھا، ایران میں بنیادی تعلیم کے بعد میں نے بھی یہ خواب دیکھے اوراچھے نمبروں کی بنیاد پر مجھے امریکہ میں پڑھنے کا وظیفہ بھی مل گیا۔ اس زمانے میں شاہ کی پالیسی تھی کہ علم کو عام کیا جائے اور خاص طور پر مغربی تعلیم کو۔ سائنس اور ٹیکنالوجی پڑھنے والوں کے لیے بہت سارے وظائف تھے جو آسانی سے مل جاتے تھے۔

ہمارے بچپن کے شاہ کا زمانہ خوابوں کا زمانہ تھا، امیدوں کا زمانہ تھا، دور سے روشنی نظر آنے کا زمانہ تھا، پھر نہ وہ زمانہ رہا اور نہ روشنی رہی۔ خواب سارے ٹوٹ گئے اور امیدیں ساری مرگئیں۔ پھر نہ ایران رہا اور نہ ایران جانے کی خواہش، ایک اگرماں کا تعلق نہیں رہتا تو شاید میں تمہارے ساتھ جہاز میں بیٹھا ہوا بھی نہیں ہوتا۔

احمد عباس نے میرے سوال کا لمبا جواب دینے کے لیے جیسے ابتدا کی ہو۔

یہ نہ سمجھنا کہ میں شاہ کے زمانے کی تعریف کررہا ہوں۔ نہیں وہ زمانہ بادشاہت کا تھا اوراس بادشاہت کے خلاف امریکہ، لندن، پیرس، برلن، ڈنمارک، جنیوا، برسلز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جہاں جہاں ایرانی طلباء تھے وہاں وہاں ہنگامہ تھا وہاں وہاں جدوجہد تھی، وہاں وہاں جمہوریت کے لیے جنگ تھی اور ایران کے لیے ایک خواب دیکھا جارہا تھا اور امید تھی کہ ایران میں روشنی کی کرنیں بکھر جائیں گی ایک حکومت ہوگی جو سُنے گی، ایک وطن ہوگا جہاں بولنے کی آزادی ہوگی، سوچنے پر کوئی قدغن نہیں اور خوابوں پر کوئی پہرہ نہیں ہوگا۔

یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا اور پھر رک کر بولا۔

ہوا یہ کہ ایران سے شہنشاہت کا خاتمہ ہوگیا۔ شہنشاہ کو ایران چھوڑنا پڑگیا۔

مجھے یاد ہے، میں اس وقت کراچی کے ایک کالج میں پڑھتا تھا اس زمانے میں جب شاہ ایران کی واشنگٹن میں موجودگی کے دوران ایرانی طلباء نے ایسا مظاہرہ کیا تھا کہ پولیس کواتنی آنسو گیس استعمال کرنی پڑی کہ بادشاہ کا جلسہ بھی نہیں ہوسکا اور بادشاہ کو تو بھاگنا ہی پڑ گیا تھا آخرکار، میں نے اسے بیچ میں ٹوک دیا تھا۔

میں اس جلسے میں تھا بلکہ میں اس وقت ایرانی طلباء کی فیڈریشن کی کونسل کا ممبر تھا اوراس جلسے کو منظم کرنے کی ذمہ داری میری ہی تھی۔

عباس نے فوراً جواب دیا اوریہی تو کہہ رہا ہوں میں کہ شاہ کے بھاگنے کے بعد ایران میں نہ تو جمہوریت آئی، نہ شخصی آزادی، نصیب ہوئی، نہ خفیہ پولیس کا خاتمہ ہوا اور نہ ہی عورتوں کو ان کا حق ملا۔ پہلے سب کچھ شاہ کے لیے ہوتا تھا اور اب سب کچھ مذہب کے نام پر ہورہا ہے۔

یہ کہہ کر وہ رکا تھا پھر دھیرے سے بولا، تم مذہبی آدمی تو نہیں ہو۔

نہیں نہیں میں مذہب کو مانتا ہوں شراب نہیں پیتا، سور نہیں کھاتا مگر وہ میرا مسئلہ ہے میں مذہبی آدمی نہیں ہوں، میں سیکولر ہوں۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

سیکولر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں سیکولر خواب دیکھے تھے ہم لوگو ں نے ایران میں، کہ جب شاہ چلا جائے گا تو ایران سیکولر ہوجائے گا، نہ سنی نہ شیعہ۔ مذہبی حکومت نہیں ہوگی وہاں مگر خواب تو جھوٹے نکل گئے۔ یہ کہہ کر وہ جیسے کچھ سوچنے لگا۔

مگر کیوں ہوا ایسا کیوں بکھر گئے خواب۔ میں نے پھر سوال کیا۔

سوال بڑا سادہ ہے لیکن جواب سادہ نہیں ہے۔ لیکن میں جواب دوں گا پر برا نہ ماننا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ بات چیت کرنا چاہ رہا ہے، اس کی یا تو یہ عادت تھی یا وہ اپنے ذہن کو بٹانا چاہ رہا، یا پھر شاید ایک استاد ہونے کی وجہ سے اس کی تربیت ہی یہی تھی کہ سوالوں کے جواب دے۔ اور اس طرح سے دے کہ ہر جواب میں ایک سوال بھی ہو۔

نہیں میں بالکل بُرا نہیں مانوں گا، تم اگرمذہب کے خلاف بھی بولوگے تو یہ تمہارا مسئلہ ہے۔ میرے عقائد اتنے نازک نہیں ہیں کہ تمہارے کسی بات سے ختم ہوجائیں یا میں وہ سب کچھ چھوڑ دوں جو میں سمجھ بوجھ کر کررہا ہوں۔ میرا مذہب میرے لیے ہے اور وہ ان جھوٹی باتوں سے افضل ہے۔

نہیں میں مذہب کے خلاف نہیں بولوں گا، مگر آج کل لوگوں کی سمجھ نہیں آتی ہے وہ کسی بھی طرح سے کچھ بھی سمجھ لیتے ہیں اور کچھ بھی کربیٹھتے ہیں۔ اس نے مسکرا کر کہا۔

بات دراصل یہ ہے کہ ایران پاکستان نہیں ہے۔ پچاس ساٹھ سال پرانا ایک مصنوعی ملک۔ مختلف لوگوں کا جمگٹھا مختلف قومیتوں کا ملغوبہ جو تاریخ کے جبر کے طور پر اکٹھے ہوگئے ہیں۔ اور سب کے چہرے ایک دوسرے کے مخالف سمت میں ہیں۔ ایک ملک تو ہے تمہارا مگر ایک قوم نہیں ہو تم لوگ۔

ایران پرانا ملک ضرور ہے مگر وہ بھی قومیتوں کا ملغوبہ ہے، بلوچی، کرد، تاجک، سنی، شیعہ، زواستورین بہائی یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی۔ میں نے اس کی بات کاٹی تھی۔

میں نے کہا تھا نا کہ برا مان جاؤگے، تمہاری بات صحیح ہے مگرہم لوگ تاریخی جبر کا نتیجہ نہیں ہیں۔ پانچ ہزار سال سے رہ رہے ہیں ساتھ ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہوئے ایک دوسرے کے تہواروں کو اپناکر ایک دوسرے کے لیے مرتے ہوئے پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ میری پوری بات سن لو پھر کچھ کہنا۔ اس نے ہنس کر کہا تھا۔

زرتشت، مانی، مزدک کا نام سنا ہے تم نے، زرنشت ہندوستان کے گوتم بدھ سے بھی پرانا ہے۔ مانی اور مزدک وہ لوگ تھے جنہوں نے ایران کو شناخت دی ہے۔ ایران کی مذہبی تاریخ پانچ ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے اور موجودہ ایران کی مذہبی تاریخ کو سینکڑوں سال نہیں ہوئے ہیں میں ایسے ایران میں پیدا ہوا تھا جس کی تاریخ تھی جس کی ثقافت تھی، رہن سہن کے ہزاروں سال پرانے ڈھنگ تھے 1، ہمارے جیسے لوگ شاہ کے ایران دور میں رہتے ہوئے بھول گئے کہ عام آدمی کے مسائل صرف ماضی کے ڈھول کی تاپ پر حل نہیں ہوتے یں۔ اسی غلطی نے ہم سے ہمارا ایران چھین لیا۔

میری چہرے کی حیرانی کو وہ بھانپ گیا۔

بات دراصل یہ ہے کہ جب ہم لوگ انقلاب، انصاف، سوشلزم کے خواب دیکھ رہے تھے، واشنگٹن لندن پیرس، برلن میں مظاہرہ کررہے تھے تو یہ بھول گئے کہ ملک ایران میں بھی کچھ کرنا ہے۔ وہاں کے لوگو ں کے بھی مسئلے ہیں۔ انہیں بھی روٹی تعلیم صحت چاہیے۔ ایران میں ہمارا جھگڑا روسی اور چینی کا تھا سوشلزم کمیونزم کے تھیوری پر بات ہو رہی تھی مارکزم کے حوالوں سے تضادات پر دانشمندانی کی دکان چمکائی جارہی تھی۔ ٹرائسکی اور اسٹالن کے جھگڑے پہ تھیوری بنائی جارہی تھی، البانیہ کے انور ہوژ اور جمروشیحیف کے مابین مذاکرات پہ بغلیں بجارہے تھے اور شاہ کے لوگ ہمیں چن چن کر مار رہے تھے اوردوسری جانب مذہبی لوگ گاؤں دیہاتوں میں عوام سے رابطے میں تھے، معاملہ یہاں سے ہی خراب ہوگیا۔ بہت خراب ہوگیا، ا ہم نے تو ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ حالات اس طرح سے پلٹا کھائیں گے۔ میں تمہیں تفصیل بتاتا ہوں۔

یہ کہہ کر اس نے لمبی سانس لی اور اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بڑے مضبوط لہجے میں بولا۔

جب شاہ ایران سے بھاگ گیا اورمذہبی حکومت کو موقع ملا تو پہلے ہفتے ہی تیس ہزار سے زائد لوگ قتل ہوگئے۔ شاہ کے لوگ تو شاہ سے پہلے بھاگ گئے، زیادہ تر قتل ہونے والے لوگ روشن خیال تھے، شاعر تھے، ادیب تھے، فلسفی تھے، صوفی تھے، دانشور تھے، جو شاہ کے بھی خلاف تھے اور ختم کے بھی خلاف تھے۔ یہی وہ وقت تھا جب مجھے اور میرے جیسے لوگوں کوکھڑا ہوجانا چاہیے تھا، ایرانی اقدار کے لیے انصاف کے لیے، جمہوریت کے لیے مگرہم سب ڈرگئے، اپنی خودغرضی کا شکار ہوگئے، میں نیویارک میں رہ گیا اورمیرے جیسے لوگ ایران سے بھاگ گئے۔ پھر جو کچھ ہوا وہ تاریخ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تاریخ یہی ہے کہ جب پڑھے لکھے لوگ مصلحت کا شکار ہوتے ہیں تو عوام کے ساتھ وہی کچھ ہوتا ہے جو ایران میں ہورہا ہے۔

ایرانی اقدار کیا ہیں۔ ایران شیعہ ملک ہے اور میرے شیعہ دوست کہتے ہیں کہ ایران میں شیعہ مسلک کی حکومت ہے جو مثالی ہے، دنیا کی تاریخ سے الگ اور اسلامی تاریخ میں یکتا۔ اللہ کی حکمرانی ہے اور شریعت کا بول بالا۔ وہ کہتے ہیں کہ سارے ایرانی خوش ہیں انہوں نے عراق سے جنگ جیتی ہے ملک میں تعلیم عام ہے غربت کا خاتمہ ہوگیا ہے ایٹم بم بننے والا ہے اور پوری قوم مرگ بر امریکہ کے نعرے لگا لگا کر اسلام کے لیے جان دینے کوتیار ہے، متحد ہے اتنی متحد کہ امریکہ جیسی طاقت سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کررہی ہے۔ میں نے اس کی بات حیرت سے سنی تھی اور سوال کرڈالا تھا۔

میں بھی شیعہ ہوں مگر میری بات تمہیں آج عجب لگے گی۔ کل مجھے یاد رکھنا۔ اس نے مسکرا کر کہا تھا۔

پندار نیک، گفتار نیک، رفتار نیک یعنی اچھی سوچ اچھی باتیں اوراچھا سلوک زر تشت کے زمانے سے مانی کے ایران تک یہی ایرانی اقدار رہے ہیں۔ مانی نے بھی اس اقدار کو مانا اس فرق کے ساتھ کہ وہ کہتا تھا کہ جب بھی برا ہوگا اس کے ساتھ اچھا بھی ہوگا اورضرور ہوگا۔ مزدک نے کارل مارکس سے سینکڑوں سال پہلے ایران میں برابری کو تسلیم کرالیا۔ یہ سب ایرانی اقدار ہیں، باقی بادشاہوں، سپہ سالاروں، جنگجوؤں اور مذہبی رہناؤں کی تاریخ ہے جو کبھی بھی مستقل نہیں ہوتی ہیں۔ اقدار اگر صحیح ہوں تو وہ پھر حاوی ہوجاتے ہیں۔ ایران میں یہی ہوگا اورجلد ہوگا۔ کیونکہ جب بھی برا ہوتا ہے اس کے ساتھ اچھا بھی ہوتا ہے۔

میں نے اسے بے یقینی سے دیکھا لیکن کچھ کہا نہیں مگر وہ میرے چہرے کے تاثر سے شاید سمجھ گیا تھا، جہاز بادلوں کے اوپر تیر رہا تھا اورائرہوسٹس ہم لوگوں کے لیے فرسٹ کلاس کھانے کی ٹرالی لے کر چلی آئی تھی۔

بہت ہی اچھا کھانا اور ساتھ میں کئی قسم کے پھل ہمیں دیے گئے تھے۔ میں تو شراب پیتا نہیں ہوں لیکن مجھے حیرت ہوئی تھی کہ عباس نے بھی کسی قسم کی وائن بیئر یا وھسکی نہیں لی۔ میری طرح سے وہ بھی سیب کا جوس پی رہا تھا۔

کھانے کے بعد کافی کی پیالی سے چسکی لیتے ہوئے عباس نے کہا کہ شاہ کے زمانے میں شاہ کے مخالفین زیادہ تر ملک بدر کردیئے جاتے تھے، جیسے امام خمینی کو کیا گیا۔ بہت لوگوں کو مارا بھی گیا۔ صفحہ ہستی سے مٹایا نہیں گیا۔ خاندان کے خاندان دربدر کردیئے گئے قتل نہیں کیے گئے اس طرح سے نہیں کہ نسل در نسل ختم کردیئے جائیں۔ آج حکومت کے خلاف کوئی بھی ہو اسے محارب بہ خدا مفسد الافی الرض کہہ کر ماردیتے ہیں، ملک بدر نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اول تا آخر خاندان کے خاندان ختم کردیتے ہیں۔

لیکن پھر بھی ایرانی اقدار زیرنگیں نہیں ہوں گے۔ آج وہ ایران نہیں ہے جہاں خانم گو گوش کی آواز گونجتی تھی جہاں الکیش، مرضیعہ شاہ پوری، الاھیا ناظری شجریا فاخری کے دھنوں پر لوگ سر دھنتے تھے۔ اسکول کالج یونیورسٹی میں احمد شاہ ملاک، فریدون، نادر پور، شمسہ بہہ بہانی اور قوی اسماعیل کی کتابوں مقالوں اور کہانیوں پر بحث و مباحثہ ہونا تھا۔ اب کا ایران قُم کا ایران ہے۔ خمینی اور خلخالی کا ایران ہے مگر یاد رکھنا یہی لوگ جو قم کا ایران لائے ہیں وہی اسے قم واپس لے جائیں گے۔ یہی ایرانی اقدار ہے۔

میں نے کچھ نہیں کہا، مجھے نیند آرہی تھی۔

دبئی ائرپورٹ سے عباس نے ایران فون کیا، اس کی ماں زندہ تھی اور ہسپتال میں تھی۔ ہم دونوں نے ائرپورٹ کے کافی ہاؤس میں کافی پی اپنے اپنے ای میل کا تبادلہ کیا ایک دوسرے کے فون نمبر لیے، میں کراچی کے جہاز پہ اور وہ تہران کے سفر پہ روانہ ہوگئے تھے۔

کراچی میں ایک ہفتے تو میں کچھ ایسا مصروف رہا کہ مجھے عباس کا خیال تک نہیں آیا۔ ایک دن شام کو نہ جانے کیسے مجھے عباس اور اس کی باتیں یاد آگئی تھیں۔ میں نے اسے تہران فون کیا۔ اس کی ماں کی موت واقع ہو چکی تھی۔ میں نے افسوس کا اظہار کیا، تھوڑی دیر بات کی اس کی اور خاندان کی خیریت پوچھی اور دوبارہ فون کرنے کا وعدہ کیا تھا کہ اس نے زور سے کہا تھا یاد رکھنا، گفتار نیک پندار نیک رفتار نیک میری ماں مرگئی ہے مگر مادر وطن زندہ ہے اورایرانی اقدار بھی, دونوں آزاد ہونے والے ہیں۔

میں دل ہی دل میں مسکرا دیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *