صحافت اور صحافی سدھائے ہوئے جانور نہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احتساب بیورو نے چونتیس سال پرانے ایک معاملے میں جنگ و جیو گروپ کے چیف ایگزیکٹو اور چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمان کو گرفتارکیا ہے۔ احتساب عدالت نے میر شکیل الرحمن کا 12 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر تے ہوئے انہیں 25 مارچ تک کے لئے نیب کی تحویل میں دے دیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں کئی اپوزیشن رہنماؤں نے میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے حوالے سے قومی احتساب بیورو (نیب) پر سخت تنقید کی۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید نے میر شکیل الرحمن کی گرفتاری پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے چیئرمین کو خط میں کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی ہے تا کہ عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے والے ذمہ داروں کا احتساب اور عوام کا اطلاعات حاصل کرنے کا حق دلوانے میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔

میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کی امریکی حکومت کی طرف سے بھی مذمت کی گئی ہے۔ امریکا کی نائب معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ایلس ویلز نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے پاکستان کی سب سے بڑی میڈیا کمپنی کے مالک کی گرفتاری کو تشویش کے ساتھ نوٹ کیا ہے۔ ایلس ویلز نے کہا کہ میڈیا کی آزادی، شفاف قانونی عمل اور قانون کی حکمرانی ہر جمہوریت کے لیے ستون ہے۔

ملک میں آزادی اظہار پر پابندی کے حوالے سے صحافت اور صحافیوں کے خلاف مختلف نوعیت کی سخت کارروائیاں موجودہ حکومت کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں صحافیوں اور صحافت کے خلاف حکومتی، سرکاری کارروائیوں کا احاطہ کیا جائے تو اس کے لئے تفصیلی مضمون درکار ہو گا۔ یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کا آزادی صحافت کے خلاف کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن کوئی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ کیونکہ انگریزی روزنامہ ”ڈان“ کی طرح روزنامہ ”جنگ“ اور جیو ٹی وی کے خلاف حکومتی، سرکاری ارادے پوشیدہ نہیں رہے۔

آزادی اظہار پر پابندیوں سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ ملکی حاکمیت اور اہم ملکی امور کے حوالے سے جو پالیسیاں، حکمت عملی اختیا ر کی گئی ہیں، انہیں عوام میں مقبولیت، قبولیت کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ خاص طور پر ملک کے ان صحافتی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں جن اداروں کا عوامی دائرہ کار نہایت وسیع ہوتا ہے اور اس حوالے سے وہ بڑے پیمانے میں عام شہریوں پر اثر انداز ہو تے ہیں۔ آزادی اظہار پر پابندی کے حوالے سے مختلف نوعیت کی کارروائیاں یوں وسعت اختیار کرتی چلی گئیں کہ اس طرح کا ماحول سامنے آیا کہ گویا حکومت نے ملک میں صحافت کو مکمل طور پر مغلوب، مفتوح کر لیا ہے۔

تاہم شکست خوردہ ہونے کے باوجود صحافت اور صحافیوں نے شکست تسلیم نہیں کی۔ ملکی اور علاقائی حالات و واقعات کے تناظر میں ایسی کئی ڈرامائی تبدیلیاں واقع ہوئیں کہ حکومت کے لئے ملکی صحافت کو کسی سدھائے ہوئے جانور کی طرح استعمال کرنا دشوار ہوتا گیا۔ ملک بھر میں میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی وسیع پیمانے پر مذمت کی جارہی ہے۔ آزاد کشمیر کے صحافتی حلقے بھی نیب کے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کو آزادی اظہار اورصحافت پر پابندی کا حربہ قرار دے رہے ہیں۔

راولپنڈی سے شائع ہونے والے کشمیر کے ممتاز و معروف ہفت روزہ ’کشیر‘ میں کام کرتے دس سال کا عرصہ گزر گیا تو میں خود کو صحافی سمجھنے لگا۔ اس سے پہلے میرا یہی خیال تھا کہ جب تک صحافت کے مختلف شعبوں میں مہارت حاصل نہ ہو جائے، اس وقت تک خود کو صحافی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہفت روزہ ’کشیر‘ کے مدیر اعلی میرے والد گرامی، خواجہ عبدالصمد وانی ( 1935۔ 2001 ) ملکی سطح کے نامور صحافی تھے اور ملک کے اکثر سینئر صحافیوں سے ان کا قریبی تعلق رہا۔

وانی صاحب سال میں دوبار اپنے اخبار کے حوالے سے کراچی جاتے اور وہاں دوست صحافیوں سے بھی ملاقات ہوتی۔ 1994 میں وانی صاحب معمول کے مطابق کراچی گئے، دوست صحافیوں سے ملاقاتوں کے دوران میر شکیل الرحمان سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ میر شکیل الرحمان نے وانی صاحب سے بچوں کی بابت دریافت کیا کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ وانی صاحب نے انہیں اس بارے میں بتایا اور کہا کہ میرا ایک بیٹا، اطہر مسعود وانی میرے ساتھ ہی اخبار میں کام کرتا ہے۔

وانی صاحب نے ہنستے ہوئے میر شکیل الرحمان سے کہا کہ اس اخبار میں کام کرتے تقریبا دس سال ہو گئے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ اب میں صحافی بن گیا ہوں۔ اس پر میر شکیل الرحمان نے کہا کہ اطہر سے کہئے گا کہ جب تک وہ روزنامہ اخبار میں کام نہیں کرتا، خود کو صحافی نہ سمجھے۔ میرے متعلق چند باتیں سن کر میر شکیل الرحمان نے والد محترم سے کہا کہ اطہر کو کہئے کہ وہ ہمارے ( روزنامہ جنگ) کے راولپنڈی آفس میں کام کرے۔ اس کے چند ہی دنوں بعد میں نے روزنامہ ”جنگ“ کے راولپنڈی آفس میں نیوز ڈیسک پہ کام شروع کر دیا۔ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی اطلاع سے 26 سال پرانی وہ باتیں یاد آ گئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *