آیا کرونا کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تو ہونا ہی تھا۔ کرونا کی بلا دنیا کے کسی گوشے میں سر اٹھائے، اسے کراچی پہنچنا ہی تھا۔ کراچی کے لوگ اسے بین الاقوامی شہر سمجھتے ہیں، تو پھر پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والی اس دبا کو یہاں بھی آنا تھا۔ سو آگئی ہے اور شہر والے بھی بے خبر نہیں ہیں۔ ان کی ایک آنکھ کھُلی ہے اور ایک آنکھ بند۔ ایک طرف تشویش ہے اور دوسری طرف کراچی والوں کے مخصوص روّیے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کرونا میں کراچی کیسا نظر آتا ہے۔

بیماری سے بڑھ کر شہر افواہوں کی زد میں ہے۔ کوئی نہ کوئی دوست حفظانِ صحت کی تمام تلقین کو بالائے طاق رکھ کر اپنا منھ میرے کان کے قریب لاتے ہیں، اور پھسپھساتے ہیں، ’’حکومت چھُپا رہی ہے! اصل میں کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ کرکٹ کا میچ ختم ہو جائے تو پھر دیکھنا تعداد کتنی بڑھتی ہے۔‘‘

دوسرے دوست کہتے ہیں، ’’حکومت وہی کر رہی ہے جو اسے کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اس کے پیچھے امریکا ہے، چین ہے، نہیں، نامعلوم افراد ہیں!‘‘

اس بیماری کا آغاز کیسے ہوا اور ساری دنیا میں پھیلنے لگی، اس کے بارے میں سازش اور عذاب والے نظریے اب پرانے پڑ گئے۔ افواہوں میں بتدریج اضافے کے لیے نوعیت میں تبدیلی اس شہر کے لوگوں کو خوب راس آتی ہے۔ کوئی دوست آغا خان اسپتال کا نام لیتا ہے اور کوئی جناح اسپتال کا، پھر بڑے اعتماد سے بتاتا ہے، ’’اسپتال کا مُردہ خانہ اُبلا پڑ رہا ہے۔ جگہ کم پڑ گئی ہے اجتماعی قبریں بنیں گی۔ لیکن ابھی بتایا نہیں کسی کو ….‘‘

’’ارے بھئی بتایا نہیں کسی کو تو آپ کو کیسے معلوم؟‘‘ میں پوچھتا ہوں۔

 کوئی یہ نہیں کہہ پاتا کہ اپنی آنکھوں سے خود دیکھا۔ فلاں دوست نے بتایا، فلاں دوست کو ان کے فلاں دوست نے۔ اصل میں ان کے ساڑھو کے سمدھی وہاں کام کرتے ہیں…..‘‘ اس قسم کے جواب ملتے ہیں اور پتہ نہیں چل پاتا، بات کہاں سے چلی تھی۔

ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑھی۔ بات پھیل گئی۔ بلکہ ٹیلی فونوں چڑھی۔

ادھر کوئی افواہ ملی، فوراً ہی ٹیلی فون کے بٹن دبائے اور سارے دوستوں کو بھیج دی۔ پرانے زمانے میں کہتے تھے کہ افواہ ایک چُڑیل ہے جس کی ہزاروں زبانیں ہیں۔ آج کی دنیا میں اس چڑیل کی زبانیں نہیں، ہاتھ ہزاروں ہیں اور ہر ہاتھ میں موبائل فون۔ سچ جانتا ہوں، اگر اس ٹیلی فون کا اتنا رواج نہ ہوتا تو اس بیماری کا اتنا خوف بھی نہ ہوتا۔

مگر اس سے آگہی بھی نہ ہوتی۔ کراچی والوں کے پاس مجرّب نسخے بھی ایک سے ایک ہیں۔ کوئی کلونجی سے علاج بتا رہا ہے کوئی دوسری جڑی بوٹیوں سے، کسی نے قرآن شریف کی آیت بتا دی ہے کہ اس کا ورد کرو۔ کل کے روزنامہ ’’ڈان‘‘ میں ایک دلچسپ خبر تھی۔ رپورٹر شازیہ حسن نے لکھا کہ کراچی کے کینٹ اسٹیشن پر بہت گہما گہمی ہے، بہت سے لوگ پنجاب جا رہے ہیں کہ وہاں ابھی تک عافیت ہے۔ ایک نوجوان نے بتایا کہ اسے بیماری کا خوف نہیں اس لیے کہ وہ آیت پڑھتا رہتا ہے۔ رپورٹر نے پوچھا، کون سی سورت میں اور کون سے پارے میں۔اس نے جواب دیا کہ یہ سب تو نہیں پتہ میری امّی کے پاس جو قرآن شریف ہے، اس کے صفحہ نمبر ستائیس پر لکھی ہوئی ہے۔

سنیاسی باوا اور کامیابی کا دعویٰ کرنے والے حکیم اپنی جگہ۔ شُکر ہے کسی نے وہ نُسخہ تجویز نہیں پیش کیا جس کا ہمارے پڑوسی مُلک میں باجماعت عملی مظاہرہ نظر آرہا ہے۔ یعنی ہمارے لیے نجات کا ایک راستہ موجود ہے۔

علاج سے پہلے صورت حال کا دُرست جائزہ۔ بیماری کس طرح پھیل رہی ہے، اب کس ملک کی باری ہے، اس کے اثرات کیا مرّتب ہو رہے ہیں، کون سے مُلک میں تالہ بندی (یا لاک ڈائون) کی کیفیت ہوگئی اور کہاں کے سفر کے راستے ایک ایک کرکے بند ہوتے گئے۔ کراچی میں پلنے، پنپنے والی کاٹیج انڈسٹری میں یہ افواہیں بھی زوروں پر ہیں۔ جس کو دیکھیے، بڑے اعتماد کے ساتھ بات کر رہا ہے۔ لمبے لمبے اور تکنیکی الفاظ سے بھرے ہوئے مقالے فارورڈ کر رہا ہے۔ اس یقین کے ساتھ کہ مُستند ہے میرا فرمایا ہوا۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کراچی میں علوم جراثیمیہ میں پی ایچ ڈی ماہرین کی تعداد راتوں رات بڑھ گئی ہے اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہوکر وہ نکل کھڑے ہوئے ہیں۔

آپ خود فیصلہ کیجیے کہ ادھ کچری معلومات کون سی ہیں اورمُستند کون سی۔ آپ فیصلہ نہ بھی کریں، تب بھی میسیج فارورڈ کرتے جایئے۔ اللہ بھلا کرے گا اور چند دن میں آپ کو خوشی کی خبر ملے گی۔

خوشی کی خبر اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ شہر ان دنوں کچھ نکھرا سُتھرا لگ رہا ہے۔ دھواں اور گرد و غبارکم ہے، فضائی آلودگی بھی اس حد تک نہیں دیکھنے میں آرہی  __ کراچی والے اس کے بغیر اداس تو نہیں ہو گئے؟ ٹریفک بھی سڑکوں پر کم نظر آرہا ہے۔ ائیرپورٹ پر بیٹھنے کی گنجائش کم اور اسپتالوں میں بے ہنگم ہجوم۔ بعض علاقے جو پہلے بہت پُررونق نظر آتے تھے ان دنوں سنسان لگ رہے ہیں۔ ہاں، گلشن اقبال میں اور بہادر آباد میں جن سڑکوں پر بڑے بڑے سُپر اسٹور بن گئے ہیں، وہاں گاڑیوں کی لین ڈوری نظر آرہی ہے۔ خریداروں کا ہجوم ہے ’’مہینے کی پہلی تاریخ‘‘ نہیں آئی لیکن لوگ مہینے دو مہینے کا راشن خرید کر لے جارہے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں جاری panic buying کی مقامی شکل ہے۔ اصل میں لوگوں کو خوف ہے کہ وبا بڑھے گی، چیزیں کم پڑ جائیں گی۔ بازار بند ہو جائیں گے۔ لوگ پیسے لے کر نکلیں گے اور ان کو کچھ نہیں ملے گا۔

مجھے سب سے زیادہ خوف دوا کا ہے۔ اگر دوائیں ملنا بند ہو گئیں تو کیا ہو گا؟ جب سے میں نے اداکار ٹام ہینکس کی زبانی سُن لیا ہے کہ میرے عمر کے نوجوانوں کو زیادہ خطرہ لاحق ہے، خاص طور پر اگر وہ سرطان یا ذیابیطس میں مبتلا ہوں۔ اس کے بعد سے میں اپنی طرف بڑھتی ہوئی موت کی چاپ سُن رہا ہوں۔

اس سے بھی تکلیف دہ پوسٹ مُنیزہ نقوی نے لگائی ہے جو پایونیر بُک ہائوس کو زندہ کر دینے والی لکھاری خاتون ہیں۔ انہوں نے کسی حوالے سے لکھا کہ قرنطینہ کی صورت ہو گئی تو کتاب پڑھنے والوں کو بڑی مشکل پیش آئے گی۔ پہلے سے کتابیں گھر میں بھر کر رکھیں۔ ان کے اکسانے کی دیر تھی میں نے بھی کتابوں کے ڈھیر کے خواب دیکھنا شروع کر دیے۔ رتن ناتھ سرشار کے فسانۂ آزاد کے پرانے افیمچی یاد آگئے جو چنڈو خانے میں بیٹھ کر دُعا مانگتے تھے، مہنگا کر آٹا سستی کر افیم۔ اے کرونا وائرس کے والی وارث، کتابیں جمع کرنے کی مہلت دے دے۔ پھر اس دُنیا کو جی بھر کر تاراج کر!

شہر کی فضا یوں بھی بدلی ہے کہ میرے کئی ٹھکانے ایک ایک کر کے بند ہوگئے۔ آرٹس کونسل نے سارے پروگرام ملتوی کر دیے۔ ناپا والوں نے تھیٹر فیسٹیول ملتوی کر دیا۔ یعنی وہ ثقافتی مراکز جن کی وجہ سے کراچی، کراچی معلوم ہونے لگا تھا۔ شہر میں جلسے جلوس پابندی کا شکار ہوئے۔ لائبریریاں تو پہلے ہی بند تھیں۔ حالانکہ وہاں جاتا کون ہے؟ سینما ہال اور شادی گھر بند ہوگئے۔ فلم کے بغیر تو جیسے تیسے گزارا ہو جائے گا، شادی کی تقریب اور اس میں رات گئے دیر سے ملنے والے کھانے کے بغیر کراچی والے کیا کریں گے؟

کراچی کی سڑکوں کا ذکر آیا تو مجھے صبح سویرے ان کے کنارے بیٹھے ہوئے وہ لوگ یاد آنے لگے جو روزانہ کی مزدوری کی آس لے کر گھروں سے نکل کھڑے ہوتے یں۔ ان دنوں کام مندا ہے __ ان کی تعداد بتاتی ہے۔ مکانوں کے رنگ روغن، مرمّت سے لے کر سامان ڈھونے تک کے کام متاثر ہوگئے ہیں۔ کاروبار نہیں ہوگا تو مزدوری کیسے ملے گی؟ مزدوری نہیں ملے گی تو دو وقت کی روٹی کیسے آئے گی؟ بھوک سے بڑھ کر کیا بلا سکتی ہے، کراچی کے غریب عوام سے پوچھیے۔

روزمرہ کے کام میں فرق فقیروں کے لیے بھی آیا ہے۔ کراچی کی سڑکوں پر گھومنے پھرنے والے فقیر اب کرونا سے محفوظ رہنے کی دعا بھی دینے لگے ہیں۔ کیوں نہ ہو، وقت کا تقاضہ ہے۔ لوگوں کے خوف کو اپنے کاروبار کا حصّہ بنا لینے میں فقیر اکیلے تھوڑی ہیں۔ یہ کام شہر کراچی میں پہلے بھی ہوتا آیا ہے۔

امید پر آسرا ہے۔ امید کی ضرورت اس لیے زیادہ ہے کہ صورت حال روزبروز گمبھیر ہوتی جارہی ہے، اتنی گمبھیر کہ سندھ حکومت کے بیانات کو سنجیدگی سے پڑھنے لگا ہوں۔

فارسی کا ایک خوب صورت نغمہ فیس بُک پر گردش کر رہا ہے، وہ حسبِ حال معلوم ہو رہا ہے:

شہر خالی، جادہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی

جام خالی، سفرہ خالی، ساغر و پیمانہ خالی …..

کسی نے اس کو حافظ سے منسوب کر دیا کیوں کہ آخر میں ان کا حوالہ آتا ہے:

باز آتا بردرِ حافظ سر اندازیم

گل بیفشانم و مے در ساغر اندازیم

(لوٹ آئو کہ  حافظ کے دروازے پر سر دے ماریں

پھول بکھیریں اور پیالے میں شراب انڈیلیں)

اچھے دنوں کی یہ دعا جو حافظ کے کلام پر مبنی ہے، کس قدر خوبصورت معلوم ہوتی ہے۔ کون جانے کراچی کے اچھے دن کب واپس آئیں گے؟ اس نحوست بھری وبا سے جان کب چھوٹے گی، کراچی کی اور ساری دنیا کی جان۔ پوری دنیا سے رُخصت ہو گی تب ہی جا کر کراچی بھی اس بلا سے آزاد ہو گا۔

حالات بہت گمبھیر ہیں، اتنے زیادہ کہ حکومت سندھ کے بیانات سنجیدگی سے پڑھے جانے لگے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *