کورونا وائرس سے گھبرانا نہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کی وبا ملکوں ملکوں پھیل رہی ہے، جدید ترین سائنسی آلات، علاج معالجے کے باوجود کورونا سرحدیں عبور کر رہا ہے، شہر کے شہر قرنطینہ بن رہے ہیں، لوگ مقید ہورہے ہیں، امیرجنسی نافذ ہورہی ہے، اس دنیا کے ساتھ بیس برسوں میں جو کچھ ہوا ہے، نائن الیون سے قبل اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اسی طرح کی صورتحال کورونا وائرس کے نئے ایڈیشن کے بعد دنیا کو درپیش ہے۔ کورونا وائرسے قبل یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ کوئی ملک خود ہی پوری دنیا سے اپنا ہر قسم کا رابطہ منقطع کرسکتا ہے اور اپنے پورے کے پورے شہروں کو قید خانے میں تبدیل کرسکتا ہے، کورونا وائرس کے بعد یہ سب کچھ انتہائی کامیابی سے ہورہا ہے کہ خوف کے سائے میں ایک ایک کرکے سارے ملک اپنے آپ کو ازخود لاک ڈاؤن کرتے جارہے ہیں۔

دنیا بھر میں درجنوں بیماریوں سے لاکھوں لوگ مرجاتے ہیں، مگر کبھی بھی ازخود لاک ڈاؤن کرنے کیصورتحال سامنے نہیں آئی تھی۔ کورونا وائرس نے ساری دنیا کو خوف زدہ کردیا ہے، حالا نکہ فلو اور کورونا کی علامات اور نتائج میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے، دونوں بیماریاں ایک ہی طرح سے ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتی ہیں، فلو کی ہلاکت خیزی اب تک دنیا میں کورونا کے مقابلے میں انتہائی زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر برس ساڑھے چھ لاکھ افراد فلو کی وجہ سے موت کی نیند سو جاتے ہیں، چونکہ اس کے بارے میں کہیں کوئی نیوز الرٹ نہیں، اس لیے پوری دنیا میں کوئی خوف بھی نہیں ہے، جبکہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا گیا ہے، لوگ آنے والے وقت سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ اشیائے خور ونوش کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہورہے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کو کورونا وائر و س کے خطرے کے پیش نظرعملی طور پر بند کیا جارہا ہے، بین الاقوامی آمدو رفت بتدریج صفر پر لائی جارہی ہیں۔ اندرون ملک آمدو رفت بھی بیش تر ممالک میں روکی جاچکی ہے، جبکہ دیگر ممالک میں بھی یہ کام جاری ہے۔

دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس کے خوف کے باعث جہاں دیگر ممالک اہم اقدامات کررہے وہیں مسلم ممالک بھی اس وبا سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوششوں میں مصروف ہیں۔ مسلم ممالک کی جانب سے کورونا وائرس جیسے خطرناک مرض سے عوام کو بچانے کے لیے اذان کے ذریعے لوگوں کو گھروں میں نماز ادا کرنے کا پیغام دیا جارہا ہے، جبکہ ایران، مصر اور عمان میں نماز جمعہ کے اجتماعات منسوخ کردیے گئے ہیں اور سعودی عرب نے عمرہ زائرین کے داخلے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی عرب نے جراثیم کش اسپرے کے عمل کے لیے خانہ کعبہ میں زائرین کی آمد پر بھی عارضی پابندی لگائی، البتہ زائرین کو دن کے وقت مساجد میں عبادت کی اجازت دی گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں حکومت نے کورونا وائرس کے خدشے کے باعث مساجد میں نماز سمیت تمام مذاہب کی عبادت گاہوں میں عبادت اور دیگر سماجی تقریبات معطل کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ پاکستان میں بھی علما نے متفقہ طور پر کورونا وائرس کے خلاف حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات کو شریعہ کے مطابق قرار دیتے ہوئے حفاظتی تدابیر کے طور پر عوام سے اس پر عمل کرنے کاکہا جا رہا ہے، جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی قوم کو گھبرانہ نہیں کا دلاسا دے دیا ہے۔

کرونا وائرس کے خلاف حکومتی کا ؤشوں سے انکار نہیں، مگر عملی اقدامات غیر تسلی بخش ہیں، حکومت کو وسائل کی کمی کا رونا رونے کی بجائے بہتر حکمت عملی سے کرونا چیلنج کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ ایک طرف عوام کورونا وائرس کا شکار ہیں تو دوسری جانب کرونا بچاؤ کے لیے ماسک اور سینی ٹائزر کے ساتھ راشن کی بڑے پیمانے پر ہونے والی خریداری کے سبب منافع خور مافیا نے سرگرم ہو کرمارکیٹ سے ماسک اور سینی ٹائزر کا حصول مشکل بنا دیا ہے۔

حکومت کو کورونا وائرس کے بعد مارکیٹ پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے پیش بندی کرنا چاہیے تھی، مگر ایسا نہیں ہو سکا جس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دکانداروں نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیاہے۔ ہمارے ہاں جب بھی کوئی اہم دن آئے یا کوئی بحرانی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو تاجروں کا ایک مافیا ان حالات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے روز مرہ کی اشیا مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کر دیتا ہے، جبکہ حکومت کی کارکردگی تحقیقاتی رپورٹس کے ساتھ صرف دعوؤں تک محدود رہ جاتی ہے۔

تحریک انصاف حکومت کو کرونا وائرس کے تدارک کے موثر عملی اقدامات کرنے کے ساتھ اس کے زیر اثرمفاد پرست مافیا پر بھی سخت ہاتھ ڈالنا ہو گا۔ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے جہاں حکومت حفاظتی وعملی اقدامات کر رہی ہے، وہاں عام شہریوں پر بھی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اپنائیں، کیونکہ لاپروائی کا رویہ ان کے اپنے اور دوسروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی وبا کی صورت اختیار کر جانے والی اس بیماری پر قابو پانے کے لیے پوری دنیا کے ماہرین سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں، ہماری دعا ہے کہ اس بیماری کا جلد از جلد علاج دریافت ہو تاکہ انسانی ہلاکتوں کا سلسلہ رکنے میں آئے اور جو خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو چکی ہے اس کا خاتمہ ہوجائے، ان مشکل حالات میں قابل احترام مولانا معظم علی جیسے بیشترعلمائے کرام نے لوگوں کی درست رہنمائی کرتے ہوئے انھیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دے کر اس وبا کے پھیلاؤ کے انسداد میں اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔

ہمارے یہاں عمومی رویہ ہے کہ ہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے لاپروائی کا رویہ اپناتے ہوئے قسمت کا لکھا قرار دے دیتے ہیں، کورونا وائرس مہلک وبا ہے، مگر خوفزدہ ہو کر خود پر حاوی نہیں کرنا اور گھبرانا نہیں ہے، ہمیں غیر فطرتی طرز عمل ترک کرتے ہوئے خوف کی فضا سے نکل کر حفاظتی و عملی تدابیر اختیار کر نا ہوں گی، اصل میں کسی چیز کاخوف ہی انسان کو بزدل سے کمزور بناتاہے، یہ خوف ہی شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، ہمیں بحیثیت مسلمان شیطانی خوف پر قابوپاکر دنیا و آخرت میں سر خرو ہو نا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply