کرونا وائرس اور طبقاتی جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 11 مارچ 2020 ء کو کرونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیا جاچکا۔ کرونا وائرس دنیا بھر میں دن بدن تیزی سے پھیلتا چلا جارہا ہے۔ عالمی وبا قرار دیے جانے والے روز یہ وائرس 113 ممالک تک پھیل چکا تھا، تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 1,18,319 اور اموات 4,292 تھیں۔ اب تک مرض سے متاثرہ ممالک کی تعداد 150 سے زائد ہوچکی۔ عالمی ادارہ صحت کی 16 مارچ 2020 ء کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر سے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 1,67,515 اور اموات 6,606 افراد تک پہنچ چکی ہے، شرح اموات 3 سے 4 فیصد تک ہے۔

اس وبا کے پھوٹنے سے پھیلنے تک کئی ”طبقات“ اور ان کے نظریات سامنے آچکے ہیں، یوں کہیے کہ جیسے ایک طرف مرض میں اسیاتی اضافہ ہورہا ہے ویسے ہی نظریات بھی بڑھ رہے ہیں۔ پہلے پہل جب یہ مرض چین میں پھیلا تو فوری طور پر کچھ طبقات سامنے آگئے، ایک طبقہ چینیوں پر لعن طعن کرنے لگا کہ یہ اول بلا کھاتے رہتے ہیں اس لیے بیماری لگ گئی، ایک طبقہ تواتر سے اسے غیر مسلموں پر اللہ کا عذاب کہنے لگا، تو کسی نے اسے چین میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا خدائی رد عمل قرار دے دیا۔

کچھ طبقات اسے امریکی حیاتیاتی سازش کہنے لگے کچھ اسے خود چینی سازش کہہ کر الگ ہوتے بیٹھتے دکھائی دیے۔ کسی نے اسے سالوں پرانی کتاب سے نکال دکھایا تو کسی نے اسے برسوں پرانی فلم میں پہچان لیا، پھر فلم پروڈیوسر کو وضاحتیں دینا پڑیں کہ فلم کے ساتھ مماثلتیں اتفاقیہ ہیں ہم لوگوں کو ڈرانا نہیں چاہتے وغیرہ۔

تقاضا بشریت ہے کوئی افتاد آن پڑے تو خدا یاد آہی جاتا ہے، لادین طبقہ ایسے میں کیا کرتا ہوگا معلوم نہیں، خیر جب ہر شخص نے خدا کو یاد کیا اپنے مذہب سے لو لگائی تو اسے اپنا ہی مذہب وائرس سے محافظ دکھائی دیا جیسے ہر فرقہ خود کو ”ناجی“ سمجھتا ہے۔ ایسے میں کئی طبقات سامنے آنے لگے کسی نے شراب میں کورونا کا علاج ڈھونڈھ لیا، کسی نے وضو میں، کسی نے گائے کے فضلے میں۔ وائرس برابر بڑھتا رہا تو کچھ اور طبقات سامنے آنے لگے جو دوسرے مذہب و مسلک پر وائرس کی توپ سے گولے برسانے لگے، کوئی کہنے لگا مقامات ِ مقدسہ و مزارات میں کوئی علاج نہیں تو کوئی دوسرا طبقہ جواباً سوال کرنے لگا کہ خانہ خدا میں کیوں سرگرمیاں معطل کی گئیں، زم زم کیوں بند کیا گیا؟ شہر شہر، ملک ملک لاک ڈاؤن ہونے لگے تو ایک طبقہ مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤن سے دنیا کو طعنے دینے لگا، ہاتھ ملانے سے گریز کی بات آئی تو کوئی طبقہ اسے اپنے مذہب کی پرانی روایت سے منسوب کرکے طالبِ داد ہونے لگا۔ ایک طبقہ اس ساری صورتحال پر لمحہ بہ لمحہ میمز بنا کر اپنا دل بھلا رہا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ وائرس مذہب دیکھ رہا ہے نہ جغرافیہ۔ سوشل میڈیا پر آپ کو پرانی سے پرانی کھانسی سے لے کر بالکل نئے کرونا وائرس تک ہر بیماری کا ”شرطیہ علاج“ مل جائے گا مگر دنیا سے یہ تمام بیماریاں ختم پھر بھی نہیں ہورہیں۔ ہمیں تخیلاتی دنیا سے باہر آنا ہوگا اور ان تمام حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا، مستند علاج یا ویکسین کی تیاری میں وقت درکار ہے، جو کچھ اب تک ہمیں ملا ہے جیسے ہاتھوں کو بار بار دھونا، میل ملاقات محدود کرنا، چھینکتے کھانستے وقت منہ ڈھانپنا وغیرہ یہ سب علاج نہیں احتیاط ہے اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو صرف کرونا وائرس سے احتیاط نہیں بلکہ ہر بیماری کی بنیادی احتیاطی تدابیر ہیں۔

”موت برحق“ ہے مگر ہر شخص جو اس بیماری کا شکار ہے جان کی بازی ہار جائے گا ضروری نہیں اور ہر تندرست زندہ رہے گا یہ بھی ضروری نہیں، زندگی و موت کا مالک حق تعالیٰ ہے۔ اب تک اس وبا سے صحتیاب ہونے والے افراد کی شرح، اموات کی شرح سے کئی گنا زیادہ ہے۔ کسی مذہب یا طبقے کی توہین مقصود نہیں، ممکن ہے ان کی تشویش و توجہات درست ہوں جیسے یہ بات قابل تسلیم ہے کہ یہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ہوسکتی ہے۔

مشکل حالات یکجہتی کے متقاضی ہیں، اب یہ وبائی مسئلہ کسی فرد، ملک، مذہب یا گروہ کا نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہے اس کے تدارک کے لیے سب کو مل جل کر ہی کام کرنا ہوگا۔ گھبراہٹ اور افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ کچھ تذکرہ وطن عزیز کا جہاں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دو سو کا ہندسہ عبور کرچکی اور مبینہ طور پر ایک شخص چل بسا ہے۔ ہم ایک سخت جان و بہادر ( کبھی بے حس بھی ) قوم واقع ہوئے ہیں۔ ہم مشکل حالات سے سبق سیکھیں یا نہ سیکھیں ان سے گزر جاتے ہیں، سیلاب ہوں یا زلزلے، جمہوریت کے مظالم ہوں یا آمریت کے کوڑے، ڈینگی ملیریا ہو یا دہشت گردی کی عفریت ہم سب سے ٹکرا چکے ہیں، خدا پر کامل ایمان ہے اگر ہم آٹے، چینی، معاشی، معاشرتی، اخلاقی بحران سے بچ بچا سکتے ہیں تو کرونا سے بھی بچ جائیں گے۔ رہی بات معیشت کی تو جہاں کرونا وائرس معیشتوں کے جنازے نکال رہا ہے یہ کام ہماری معیشت کا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ کام پہلے ہی ہوچکا اب اس میں زیادہ سے زیادہ کیڑے ہی پڑ سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply