وزیر اعظم صاحب! میرا کلچر میری مرضی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت مارچ شروع ہوا اور ختم ہو گیا۔ اس مارچ سے عورتوں کو کوئی حقوق ملے یا نہیں ملے ملک اور قوم کو یہ فائدہ ضرور ہوا کہ ہماری ذہنیت کے کچھ ایسے پہلو سامنے آگئے جن کے وجود کو ہم خود تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ان گزارشات میں اس مارچ اور اس کے نعروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ جائزہ پیش کرنے کی حقیر سی کوشش کی جائے گی کہ پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت کا رد عمل کیا تھا؟

ہمارے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا

”ابھی عورت مارچ ہوئی۔ اس کے اوپر آپ نے خود ہی دیکھ لیا کہ ایک مختلف کلچر نظر آ گیا ایک ہی ملک میں۔ یہ ایک کلچرل ایشو ہے۔ اور یہ کدھر سے آتا ہے؟ سکولنگ سسٹم سے۔ ایک سکول سسٹم میں ہم ایک کلچر پڑھاتے ہیں۔ جس کا کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا جو باقی سکول سسٹم میں پڑھا جا رہا ہے۔ “

اس کے بعد انہوں نے اس بات کا اعلان کیا کیا کہ پورے ملک میں ایک قسم کا نصاب پڑھایا جائے گا۔ اگر مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں غریب سے غریب شخص کے بچے کو اعلیٰ ترین معیار کی تعلیم ملے تو سر آنکھوں پر۔ تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ تقریر کے اس حصے سے واضح ہے کہ وزیر اعظم کے نزدیک یہ ایک المیہ ہے کہ پاکستان میں ایک سے زیادہ کلچر موجود ہیں۔ اور ایک قوم میں ایک سے زیادہ کلچر ہونے مناسب نہیں ہیں۔ اور عورت مارچ کی وجہ یہ تھی کہ یہ جن خواتین نے اس مارچ میں حصہ لیا ان کے سکولوں میں مختلف قسم کا نصاب پڑھایا جاتا تھا اور ان کا کلچر مختلف ہو گیا۔ اور اس کا علاج یہی تجویز کیا گیا ہے کہ پورے ملک میں ایک ہی نصاب پڑھایا جائے تاکہ پورے ملک کا کلچر ایک ہو جائے اور اس قسم کا اختلاف پیدا نہ ہو۔ اس بیان کو سن کر پہلا خیال یہ آتا ہے کہ عورت مارچ کی مخالفت کرتے کرتے ایک طبقہ ایک بہت خطرناک راستے پر چل پڑا ہے۔

کلچر کا اردو ترجمہ ثقافت ہے۔ لیکن چونکہ وزیر اعظم نے لفظ کلچر ستعمال کیا ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہم بھی اسی لفظ کا جائزہ لیں۔ جذبات میں آنے سے پہلے مناسب ہوگا کہ ہم یہ جائزہ لے لیں کہ لفظ ’کلچر‘ کا کیا مطلب ہے؟ آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق کسی ملک یا گروہ کے رواج، آراء، آرٹ، زندگی گزارنے کے طریقوں اور سماجی تنظیم کی کیفیت کے مجموعے کا نام کلچر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کلچر کسی مردہ چیز یا کسی fossil کا نام نہیں جس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ ہوتی ہو۔

ہر کلچر وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے اور کسی قوم یا گروہ نے زندہ رہنا ہے تو اسے وقت کے ساتھ اپنا کلچر بھی تبدیل کرنا ہوگا۔ کیا ہمارا کلچر وہی ہے جو آج سے پچاس سال قبل تھا؟ ہر گز نہیں۔ ہم نے اپنی زندگیوں میں اپنے کلچر کو تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور ایک گروہ کا کلچر بعض لحاظ سے دوسرے گروہ کے کلچر سے مختلف ہوتا ہے اور کئی لحاظ سے ان دونوں کا کلچر ایک جیسا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں کئی لحاظ سے وہاں کے مسلمانوں کا کلچر وہاں کے ہندو احباب سے مختلف ہے اور کئی لحاظ سے دونوں کا کلچر ایک ہے کیونکہ وہ ایک ہی ملک کے شہری ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کلچر کے فرق کو اس طرح نہیں دیکھا جا سکتا جیسا کہ سیاہ اور سفید کے فرق کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اگر ہم یہ کہیں کہ پاکستان میں ایک ہی کلچر ہونا چاہیے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پورے ملک کے لوگوں کے رواج، آراء، آرٹ اور زندگی گزارنے کا طریق ایک ہو۔ گیمبیا یا مناکو جیسے چھوٹے چھوٹے ممالک میں تو شاید کوئی ایک کلچر کا خواب دیکھ سکے لیکن پاکستان جیسے بڑے ملک میں جو بیس بائیس کروڑ افراد پر مشتمل ہے اور جہاں اتنی مختلف زبانیں بولنے والے لوگ رہتے ہیں کیا ایک کلچر مسلط کرنے کا سوچا بھی جا سکتا ہے؟

یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہمارے ملک کے بانیوں کے ہمیں کیا سبق دیا تھا؟ کیا انہوں نے ہمیں یہ سبق دیا تھا کہ ایک ملک کا کلچر ایک ہونا چاہیے یا یہ سبق دیا تھا کہ ایک ملک میں رہتے ہوئے ہر ایک کو اپنے کلچر قائم رکھنے اور اسے ترقی دینے کا حق حاصل ہے۔ قائد اعظم کے چودہ نکات دیکھ لیں۔ یہ نکات پاکستان کے مطالبے سے بہت پہلے پیش کیے گئے تھے۔ ان میں بارہواں نکتہ یہ تھا کہ ہندوستان کے آئین میں اس بات کی ضمانت دی جائے گی کہ مسلمان اپنے کلچر کی حفاظت کا حق رکھتے ہیں۔ ذرا سوچیں کیا اس وقت کانگرس یہ اعتراض کر سکتی تھی کہ ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے اگر ہندوستان میں رہنا ہے تو مسلمانوں کو اکثریت کا کلچر اپنانا ہوگا۔

جب پاکستان بن گیا، آئین سازی شروع کی گئی اور قرارداد مقاصد منظور کی گئی۔ یہ قرارداد اب تمہید کے طور پر ہمارے آئین کا حصہ ہے۔ اس قرارداد کے بارے میں ہم کوئی بھی رائے رکھیں، اس میں پورے پاکستان میں ایک کلچر کے تصور کو رد کیا گیا تھا۔ اور اس بات کی ضمانت دی گئی تھی اس بات کا انتظام کیا جائے گا کہ اقلیتیں اپنے اپنے کلچر کو ترقی دے سکیں۔ اس قرارداد کو پیش کرتے ہوئے لیاقت علی خان صاحب 8 مارچ 1949 کو جو تقریر کی اس میں بار بار اس عہد کو دہرایا کہ پاکستان میں ایک ہر ایک کو اپنی سوچ اور اپنے رواج اور اپنے کلچر کو ترقی دینے کا موقع ملے گا۔

پاکستان کے آئین میں واضح طور پر اس بات کو رد کیا گیا ہے کہ پورے ملک پر ایک کلچر مسلط کیا جائے۔ آئین کا آرٹیکل 28 پڑھیں۔ اس میں اعلان کیا گیا ہے کہ کوئی بھی گروہ جس کی علیحدہ زبان ہو یا علیحدہ کلچر ہو، اسے اپنا کلچر برقرار رکھنے اور اسے ترقی دینے کا حق ہو گا۔ اور یہ آرٹیکل آئین کے پہلے باب یعنی ”بنیادی حقوق“ کے باب میں شامل ہے۔ اور اس باب کے شروع میں ہی اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ اگر کوئی ایسا قانون بنا بھی دیا جائے جو اس باب میں عطا کردہ حقوق کو سلب کرتا ہو تو یہ قانون کالعدم ہو گا۔

جس طرح قانون ساز اسمبلی کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی کی آزادی رائے یا مذہبی آزادی سلب کرنے کا قانون بنائے، اسی طرح کسی قانون ساز اسمبلی کو بھی اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنے علیحدہ کلچر کو قائم رکھنے اور اسے ترقی دینے سے روکے۔ اگر یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ جن خواتین نے عورت مارچ میں شرکت کی انہوں نے ملک میں اپنا علیحدہ کلچر بنایا ہوا ہے تو بھی یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ اور ایسا حق ہے جسے معطل یا منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عمران خان صاحب نے اس مارچ کی مخالفت کرنی تھی تو اس کے حق میں کوئی اور دلیل پیش کرنی چاہیے تھی۔ یہ اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ پاکستان میں ایک کلچر ہونا چاہیے؟

پورے ملک میں ’ایک کلچر‘ مسلط کرنے سے ملک مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہوگا۔ ہمیں سانحہ مشرقی پاکستان نہیں بھولنا چاہیے۔ ’ایک کلچر‘ کا مطلب یہ ہوگا کہ پورا ملک ایک جیسی سوچ بھی رکھتا ہو۔ ایسا تب ہی ممکن ہے جب ملک میں انسان نہیں بلکہ روبوٹ بستے ہوں۔ یہ تو ممکن ہے کہ ایک گھر میں ایک رنگ کا پینٹ کرا دیا جائے لیکن یہ ممکن نہیں کہ بیس کروڑ کے ملک پر ایک کلچر مسلط کر دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *