کورونا کے معاملے پر وزیراعظم کا خطاب اور عالمی منظر نامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس سے ملک میں ہونے والی ہلاکتوں ا ور حکومت پاکستان کی جانب سے اس کی روک تھام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات بارے وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کورونا سے منسلک پہلووں پر روشنی ڈالی۔ وزیر اعظم نے خطاب میں بتایا کہ کورونا ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے اور اس کا سدباب کرنے کے لیے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن اس پورے پراسس میں وقت لگے گا۔ وزیر اعظم نے واضح کیاکہ کوروناوائرس ایک قسم کا فلو ہے۔

اس کے 97 فیصد مریض ٹھیک بھی ہوجاتے ہیں اور عوام کو ہدایت کی کہ کورونا کے معاملے میں ملک میں افراتفری پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت وقت عوام کی بہتری کے لیے تمام تر کوششیں بھروئے کار لا رہی ہے۔ وزیر اعظم نے حکومتی اقدامات بارے آگاہ کیا، ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا ہے کہ یہ وباء ابھی پھیلے گی اور اس کے نتیجے میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں امریکہ یورپ جیسے حالات نہیں ہے۔

اسی بناء پر لاک ڈاون نہیں کیا جا رہا کیونکہ اگر شہر بند کردیں گے تو لوگ بھوک سے مریں گے۔ گویا یہاں وزیر اعظم نے آنے والے دنوں میں درپیش ایک اہم مسئلہ کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جہاں بھی لوگ جمع ہوسکتے ہیں اس کو بند کیا ہے۔ تعلیمی ادارے اور اجتماعات پر پابندی بھی عائد کی ہے۔ تمام ادارے اس مشکل وقت میں اپنی تمام صلاحیتیں بھروئے کار لا رہے ہیں لیکن اس مرض پر قابو پانے کے لیے صرف حکومت ہی نہیں عوام کو بھی ساتھ دینا ہو گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا وائرس کی جنگ کوئی حکومت اکیلے نہیں جیت سکتی۔ عوام کو ہجوم، اجتماعات، میل جول میں احتیاط اور دیگر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی۔ چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کی صورت حال اور ان کے والدین اور خاندان کو خدشات بارے بھی مفصل آگاہ کیا کہ چین میں یہ طلباء زیادہ محفوظ ہیں کیو نکہ دنیا بھر میں اس وقت چین وہ واحد ملک ہے جہاں کورونا کے کیسز میں کمی اور مریض صحت یاب ہو رہے ہیں ساتھ ہی عندیہ دیا ہے کہ جلد ہی ان طلباء کو واپس لایا جائے گا۔

وزیر اعظم کی تقریر میں ایک انتہائی اہم موضوع حالیہ صورت حال کے پیش نظر کھانے پینے کی اشیاء کی قلت بارے بھی تھا جس میں انہوں نے واضح کہا کہ انہیں خدشات ہیں کہ ذخیرہ اندوز مافیا اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ لہذا حکو مت نے ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے پہلے سے تیاری کر رکھی ہے۔ ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ملک میں اشیاء خورونوش کی قیمتوں اور ان کی فراہمی کو یقینی بنائے گی اور اس حوالے سے ملک میں کسی بحران کو روکنے کی کوشش کر ے گی۔

پاکستان میں موجود کورونا کیسز کی تعداد ابھی تک سنگین نوعیت کی نہیں ہے لیکن ذرائع کہتے ہیں کہ مشتبہ مریضوں کی ٹیسٹ رپورٹ آنے کے بعد اس میں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ ساتھ ہی مارکیٹ بازار اور دیگر کو بند کرنے سے غریب طبقے کو کافی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر آبادی ڈیلی ویجز کی بنیاد پر روزگار کماتی ہے۔ حفاظتی اقدامات کے پیش نظر پابندیاں تو لگائی جا رہی ہیں اور بقول وزیر اعظم عمران خان لاک ڈاون کی صورت حال بھی نہیں ہو گی مگر مزدور طبقہ کی مشکلات اس کے باوجود بڑھ رہی ہیں۔

وزیر اعظم نے اس حوالے سے کسی قومی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی عوام کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ کیسز کی تعداد بڑھنے کی صورت میں حکومت مزید سخت فیصلے بھی لینے کی مجاز ہے مگر ایسی صورت حال میں غریب اور متوسط طبقہ کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے لائحہ عمل کا ذکر بھی اس تقریر میں نہیں ملتا۔ ایسے میں عوام یہ سوچ رہی ہے کہ وزیر اعظم کی تقریر ان کو دلاسا دینے کے لیے تھی یا پھر یہ بتانے کے لیے کہ آنے والے دنوں میں یہ وباء مزید پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ عوام کو صاف کہہ دیا گیا ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت تیاریاں کر لیں کیونکہ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہر مریض یا مشتبہ شخص کا ٹیسٹ کیا جائے گا یا بحران کی صورت میں اسے گھر پر راشن مہیا کیا جائے گا۔ وزیر اعظم تو کہہ چکے ہیں کہ وہ دیگر ممالک سے مدد لینے کی کوشش کریں گے اور کوئی بھی دوست ملک کس حد تک مدد کے لیے آئے گا یہ تو وقت ہی بتا سکتا ہے کیونکہ کورونا کا یہ مرض اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل چکا ہے اور دیگر ممالک بھی اس سے بچنے کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔

کورونا وائرس کی وباء کے پھیلنے کے بعد یک جہتی کی جگہ نفسا نفسی نے لے لی ہے۔ پاکستان اس سنگین صورت حال میں سب سے زیادہ چین پر نظریں مرکوز کیے ہوئے ہیں کیونکہ اب تک چین ہی وہ واحد ملک ہے جس نے موثر انداز میں اس وباء پر قابو پایا ہے۔ یہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کو بھی چین سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کو بھی چین نے تکنیکی و مالی امداد فراہم کی ہے اور بقول وزیر اعظم چین پاکستان میں حالیہ صورت حال پر رپورٹ مرتب کر رہا ہے اور اس حوالے سے تحقیق و لائحہ عمل بھی بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ ابھی تک کسی بھی ملک کی جانب سے اس وباء کے لیے کوئی ویکسین تیار نہیں کی گئی۔ دوسری جانب دنیا بھر میں اس وائرس کے حملے کے بعد صورت حال بگڑتی چلی جا رہی ہے، یورپی اقوام کی بھی اگر بات کی جائے تو منظم ترین یورپی اقوام یا ممالک میں بھی اس وقت صورت حال ابتر ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق پورپی ممالک میں کورونا کے معاملے پر تقسیم کا شکار نظر آئے۔ اٹلی میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد یورپی اقوام میں واضح طور پر عدم تعاون دیکھا گیا۔

ہر یورپی ملک اپنے کسی ہمسایہ ملک سے مشورہ کیے بغیر اپنے لیے اقدامات کیے لیکن یہ ممالک اٹلی میں زور پکڑتی وبا کو بھول گئے۔ اٹلی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس وقت اٹلی میں 27,980 کیسز ہیں اور 2,158 اموات بھی ہو چکی ہیں۔ ایسے صورت حال میں جرمنی نے اٹلی کو طبی امداد اور ادویات کی ایکسپورٹ بند کر دی۔ چین کی جانب سے امداد ملنے پر بھی کافی شور ہوا۔ خود تو امدادی اقدامات میں یورپی ممالک نے سست روی دکھائی لیکن چینی اقدامت پر بیان بازی کی گئی۔

بیجنگ حکومت نے اٹلی کے لیے ادویات کی فراہمی اور وباء کی لپیٹ میں آئے ہوئے مریضوں کی تشخیص کے لیے اپنے ڈاکٹروں کو روانہ کیا۔ ایسے میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سنگین صورت حال میں منظم ترین ممالک کا یہ رویہ دیکھنے کو مل رہا تو پاکستان کے لیے آنے والے دنوں میں کتنے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ پاکستان کو آنے والے دنوں میں صورت حال پر قابو پانے کے لیے بیرونی امداد و معاونت کی ضرورت ہو گی۔

سپر پاور امریکہ کے حالات تو پہلے ہی سنگین ہیں، ایسے میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، یور پی اقوام یا دیگر ممالک، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، اور دوسرے بین الاقوامی اداروں سے پاکستان کو کتنا ریلیف مل پائے گا۔ پاکستان کی جانب سے مستقبل کے خدشات کے پیش نظر کتنی تیاری کی گئی ہے اور آنے والے دنوں میں پاکستان کس حد تک خود کو اس قابل بنا پائے گا کہ کم سے کم معاونت اور زیادہ سے زیادہ خود انحصاری کی پالیسی کو اپنایا جائے کیونکہ ایک پرانی کہاوت ہے برُے وقت میں کوئی کسی کا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *