کیا فقہ کے ماہر طب کے بھی ماہر ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حدیث و فقہہ کی مدون کتابیں باب طہارت سے شروع ہوتی ہیں۔ جہاں پر آشیاء کی گروپ بندی عموما پاک اور ناپاک کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ مضر صحت اور صحتمند کے بارے میں کوئی بحث نہیں۔ اس لیے بہتے ہوئے پانی کو پاک بتایا گیا ہے۔ کیونکہ عرب میں بہتی ہوئی گندی نالیاں ناپید تھیں۔ ہزار سال پہلے فقہہ کی تیاری اس قسم کے ماحول میں ہوئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ فقہہ کے ماہرین طب اور متعدی امراض کے ماہرین نہیں تھے۔ فقہہ کے کے ماہرین اسلامی قانون کے ماہر تھے۔

لیکن ان کو تقدس ملنے کی وجہ سے وہ ہر چیز کے ماہر مانے گئے ہیں۔ آج بھی قانون کے ماہرین صرف قانون کے ماہرین سمجھے جاتے ہیں۔ وہ طب، متعدی امراض، مائیکروبیالوجی، جینالوجی وغیرہ کے ماہرین ہیں نہ سمجھے جاتے ہیں۔ اور نہ تقدس حاصل کرکے رحمت اللہ علیہ کہلائے جاتے ہیں۔ ( رحمت اللہ علیہ کہلایا جانا بھی عجیب ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے جیسے گنہگار انسانوں کو رحمت اللہ علیہ کہا جاتا۔ کیونکہ ہمارے ساتھ ہماری گناہوں بھری زندگی یاد آجانے پر ہمارے لئے اللہ سے رحمت کی دعا مانگی جانی چاہیے تھی۔ جن کو رحمت اللہ علیہ کہا جاتا ہے وہ تو نیک اور متقی مسلمان تھے۔ ان کو کس شبہے میں رحمت اللہ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ رحمت اللہ علیہ کا مطلب ہے اللہ ان پر رحم کرے۔ ایسا تو گنہگار کے ساتھ کہا جانا چاہیے )

فقہہ کے ماہرین کبھی بھی طب کے ماہر نہیں تھے۔ وہ ضرور خود بھی بیمار ہونے کی صورت میں طبیب کے پاس جاتے۔ تاریخ کی کتابوں میں ان کو طبیب کبھی نہیں کہا گیا۔ ان کی شہرت فقیہہ کی تھی۔ بادشاہ اور عوام نے ان سے فقہہ جانا سیکھا اور توقع کی۔ بادشاہوں کے درباروں میں ان سے طب کے بارے میں کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔ شاہی طبیب باقاعدہ موجود تھے۔ علاج معالجہ میں ان سے مشورہ لیا جاتا لیکن قانونی امور میں ان کی مہارت مستند اور بے بدل تھی۔

آج بھی فقیہان ڈاکٹر نہیں ہیں نہ سمجھے جاتے ہیں۔ بیمار ہونے کی صورت میں وہ باقاعدہ ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں۔ مضمون لمبا ہوجائے گا۔ ورنہ یہ لکھنا ممکن ہے کہ مختلف علماء اور فقہہ کے ماہرین کس کس ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ اور ہوبہو ان کی ہدایات پر عمل کرکے صحت یاب ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن جب ہماری باری آتی ہے تو آؤٹ آف کنٹیکسٹ کوئی بھی حدیث اٹھا کر یا فقہی استنباط بیان کرکے اپنی اہمیت کا اظہار کرتے ہوئے عوام کا راستہ روک لیتے ہیں۔ جبکہ نہ پہلے والے طب کے کے ماہر تھے نہ آج والے اس میدان میں کوئی شدبد رکھنے کے دعویدار ہیں۔

ورنہ اس قسم کی خطرناک وبائی صورت حال میں اسلام چھوت چھات پر یقین نہیں رکھتا اور بیماریاں ایک سے دوسرے کو نہیں لگتی جیسے بیان نہ دیتے۔ نہ خوامخوا مذہبی اجتماعات مقرر کرتے نہ زیارات کو جائے شفاء بتاتے۔

رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے :

”لا یوردن ممرض علی مصحح“ ترجمہ: ”بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ لے جاؤ“ (صحیح مسلم 5791 ) ۔

کیا یہ حدیث صرف اونٹ کے کے بارے میں ہے یا متعدی مرض میں مبتلا ایک بیمار سے دوسرے بیمار تک بیماری پھیلنے اور لگنے کی آج کی جدید ایس او پی ہے۔ یعنی بیمار کو سماجی طور پر صحتمند سے الگ کرو۔ تاکہ مرض نہ پھیلے اور کنٹرول ہوجائے۔

ایک دوسری حدیث میں رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ: ”فر من مجزوم کما تفر من الا سد“ ترجمہ: ”جذامی شخص سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو“ (صحیح بخاری 5707 )

اس زمانے میں جراثیم کی دریافت نہیں ہوئی تھی۔ لیکن اطباء کے مشاہدے میں یہ بات آگئی تھی کہ جو جو لوگ مریض کے قریب اور رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کو بھی بیماری لگ جاتی ہے۔ یوں جذامی کو شیر جتنا مضر اور خطرناک بیان کیا گیا ہے۔ جذامیوں کی بیماری سے بچنے کے لئے حضور اکرم ﷺ نے ان سے ایک نیزہ کے فاصلہ سے بات چیت کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث میں ہے کہ: ”واذا کلمتمو ہم فلیکن بینکم و بینھم قدر مح“ ترجمہ : ”جب تم ان (جذامی) سے بات چیت کرو تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزہ کا فاصلہ ہونا چاہیے“ (مسند احمد) ۔

اس لئے کہ جب آدمی بات کرتا ہے تو اس کے منھ سے تھوک کے چھینٹے نکلتے ہیں، جس میں بیماری کے کافی جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ یہ جب مخاطب کے اوپر پڑیں گے تو مخاطب کو بھی بیماری میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ آج کے صحت ایمرجنسی میں جو دو دو میٹر الگ رہنے کے اصول طے کیے گئے ہیں۔ یہ بالکل وہی اصول ہیں۔ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احکامات دیے ہیں۔ پھر ایسے میں اس طرح کے اعلانات کیسے کیے جاسکتے ہیں کہ اسلام چھوت چھات پر یقین نہیں رکھتا اور بیماریاں ایک سے دوسرے کو نہیں لگتیں۔

اسی طرح بیماری کے پھیلنے سے بچاؤ کے لئے طاعون زدہ علاقہ میں نہ جانے اور وہاں سے بھاگنے سے منع کیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ ”اذا سمعتم بالطاعون بارض فلا تد خلو ہا واذا وقع بارض انتم بھا فلا تخر جوا منھا“ ترجمہ : ”جب تمہیں معلوم ہو کہ کسی جگہ طاعون ہے تو وہاں مت جاؤ اور جہاں تم ہو وہاں اگر طاعون پھیل جائے تو اسے چھوڑ کر مت جاؤ“ (صحیح بخاری 5728 )

چونکہ سکریننگ اور ٹیسٹ کرنے کی لیبارٹریاں اس وقت موجود نہیں تھیں۔ اس لیے کسی بھی متاثرہ علاقے سے نکلنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔

مندرجہ بالا تمام حدیثوں کی تاکید کے باوجود بھی آج بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو بیماری کے متعدی ہونے کے قائل نہیں ہیں اور بیماریوں سے احتیاط برتنا ان کے نزدیک گویا ایک غیر شرعی عمل ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث ”لا عدویٰ“ ترجمہ: ”چھوت لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں“ (صحیح بخاری 5772 ) ۔ اس حدیث سے مراد قطعی یہ نہیں ہے کہ چھوت چھات کوئی چیز نہیں ہے۔ اس لئے کہ اگر واقعی لاعدویٰ سے مراد یہی ہے تو آج کی میڈیکل سائنس اس حدیث کو غلط ثابت کر رہی ہے۔ اور احادیث صحیحہ کبھی بھی غلط ثابت نہیں کی جاسکتیں۔ پھر صحیح حدیث کی خصوصیت یہی ہے کہ وہ فطرت کے خلاف نہیں ہوگی۔ جبکہ یہ ثابت شدہ فطری عمل ہے کہ بعض بیماریوں میں مبتلا مریضوں سے صحت مند لوگ بیمار ہوتے رہتے ہیں۔

بعض علماءنے لاعدویٰ سے یہ استدلال کیا ہے کہ امراض متعدی نہیں ہوتے۔ ان کے متعدی ہونے کا تصور غیر اسلامی ہے۔ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے اس میں درحقیقت مرض کی چھوت چھات کے جاہلانہ تصور کی تردید ہے۔ یہ دنیا اسباب وعلل کی دنیا ہے۔ اس لیے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہاں ہر واقعہ کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے۔ بعض امراض میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ان کے جراثیم تیزی سے پھیلتے ہیں۔ اور قریب موجود دوسرے لوگوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

جدید علوم تحقیقی اوزار اور دریافتوں کی روشنی میں فقہہ کی ازسرنو استنباط اور تدوین کی شدید ضرورت ہے۔ تاکہ جدید ذہن شکوک و شبہات اور مسلمان و اسلام مذاق کا نشانہ نہ بنے۔

یہ کہاں پر لکھا ہے کہ ہزار سال پہلے کچھ عالی دماغوں نے تدبر و تفکر سے کام لیا ہے وہ ہمیشہ کے لئے کافی ہے۔ اور اب کسی کو سوچنے سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اگر قرآن سارے زمانوں اور انسانوں کے لئے ہے۔ تو قرآن کی تدبرو تفقہو تفکرو کی بار بار کی انگیخت کرنے والی آیتیں نہ منسوخ ہوئی ہیں نہ کوئی منسوخ کرسکتا ہے۔ یہ بھی ماورائے عقل ہے کہ اللہ تعالی جو خود کو علیم و خبیر اور کل شئی قدیر کہتا ہے۔ اس کے کارخانے میں مزید عالی دماغ خلق ہونا بند ہوگیا ہے۔ کن فیکون کوئی ساکت اور خاتم حکم نہیں ہے۔ یہ تو رواں دواں جاری و ساری عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔

اللہ تعالی کا انکشافی سوال ہے۔ کہ کیا علم والے اور بغیر علم والے برابر ہیں؟ پھر اس سوال کو تشنہ نہیں چھوڑا۔ اگے بتادیا ہے کہ نہیں ایسا نہیں۔ یعنی بغیر علم والے کبھی بھی علم والوں کے برابر نہیں۔ یہ شرعی اور غیر شرعی علوم کی کلایفیکیشن بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رض یا کسی امام نے نہیں کی۔ بلکہ ایک منشی نے لائبریری میں کتابوں کی فہرست بنانے کے لئے پہلی دفعہ یہ اصطلاح استعمال کی تھی۔ جو اگے جاکر اتنا مشہور اور پسندیدہ ہوا کہ آج آیت و حدیث کی طرح مستند مانا جاتی ہے۔ جبکہ اس سے پہلے علم بس علم تھا۔ جو قرآن کی رو سے اللہ تعالی نے انسان کو عطا کیا ہے۔

(اس مضمون کی تیاری میں ڈاکٹر یاسین شوراپور کی پوسٹ سے استفادہ کیا گیا ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *