کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسا کہ آج کل کرونا وائرس کی وجہ سے بے یقینی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ ہر چینل ’ہر طرف اسی کی ہی بات ہو رہی ہے۔ پاکستان سمیت کئی دیگر ممالک اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ انڈیا‘ امریکہ ’برطانیہ‘ ایران ’اٹلی اور غرض تمام ریاستیں جو سپر پاورز بنی ہوئی تھی سب ایک طرف ہیں اور کرونا وائرس دوسری طرف ہے۔ اللّہ تعالٰی نے دکھا دیا کہ سپر پاور صرف اُسی کی ذات ہے۔ ایسے ممالک جو سائینس اور ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہیں اس ایک وائرس کے آگے سرجھکانے پر مجبور ہیں۔

تقریبا 49 ریاستیں اس وائرس کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ لاک ڈاؤن دیکھنے میں آ رہا ہے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے گھروں سے نکلنے پر پابندی لگا دی گئی ہے تمام ترقی پزیر ممالک میں گھر سے کام (ورک فرام ہوم ) کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ حتی کہ پاکستان میں بھی تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں بورڈ کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں ہر طرف خوف و حراس کی کیفیت پھیل گئی ہے۔ اب کوئی ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کا بھی روادار نہیں ہے۔ گلے ملنا تو دور کی بات ہے۔

اس لاک ڈاؤن سے جہاں معشیت کو نقصان پہنچ رہا ہے وہاں ذہنی اذیت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ ہمارے ذہن پر صرف کرونا وائرس ہی سوار ہے۔ دل میں ایک ڈر و خوف بیٹھ گیا ہے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

اٹلی میں ڈاکٹرز نے 50 سال سے اوپر کے متاثرہ مریض کا علاج کرنے سے انکار کر دیا ہے اگر پاکستان کی بات کریں تو ہمارے پاس تو سہولیات ہی میسر نہیں ہیں ہم کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر ہم سب کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر میڈیا کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے اور اپنی ذمہ داری بخوبی نبھانی چاہیے۔ اس خوف سے لوگوں کو باہر نکالنا چاہیے۔ میمز ’لطیفے بنانے کی بجائے ہیں ہمیں چاہیے کہ آگاہی پروگرام کریں لوگوں کو بتائیں کہ یہ جان لیوا مرض نہیں ہے بلکہ ایک وائرس ہے جس میں صرف احتیاط کی ضرورت ہے خود کو صاف رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا ایمان بھی کہتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔

مسلمان ہونے کے ناتے ہمارا ایمان ہے کہ ہر چیز اللّٰہ کی طرف سے ہے تو اس کی طرف رجوع کیوں نہیں کرتے۔ اللّٰہ تعالٰی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دنیا کی ساری طاقتیں ایک طرف ہیں اور اس کی خدائی ایک طرف ہے۔ یہ صرف ہمارا رب ہے جو کائنات کو چلا رہا ہے صرف وہی رب ہے جو مالک ہے کارساز ہے۔ ابھی بھی وقت ہے سدھرنے کا ’ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا۔

ایک طرف اتنا مشکل وقت ہے اور دوسری طرف ہم ذخیرہ اندوزی میں مصروف ہیں ’بلیک میں چیزیں فروخت کررہے ہیں۔ ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر ناپید ہو گئے ہیں۔ اگر کہیں سے مل رہے ہیں تو تین گنا قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

حکومت نے تعلیمی ادارے بند کیے ہیں تاکہ گھروں میں رہا جائے بجائے اس کے کہ ہم موقع کی سنگینی کو سمجھیں ہم بچوں کو لے پارکوں اور مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں۔

اپوزیشن کو اور عوام کو حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔ حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے اور حکومت کو بھی چاہیے کی مثبت اقدامات کریں۔ ہم سب کو وقت کی نزاکت کو سمجھنا چاہیے اور اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ اپنی سوچ کو بدلنا چاہیے اپنی روش کو بدلنے کا وقت ہے اللّٰہ کی طرف رجوع کرنے کا وقت ہے۔ وہی آخری امید ہے اللّہ تعالٰی ہم سب کو اپنی حفاظت میں رکھیں آمین ثم آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *