خوش عقیدہ دوستوں کی چیخیں اور عقیدتوں کی موت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کی یلغار اور وقت کی پکار کی وجہ سے دنیا بھر کے مذاہب کے عبادت خانوں کی بندش پر لکھے گئے راقم کے کالم اور اس موضوع پر صفحہٕ قرطاس کے حوالے کی گئی دوسری جاندار اور شاندار تحریروں کے جواب میں رقم کیے گئے زیادہ تر تبصرے مثبت، معقول اور منطقی ہیں مگر کچھ روایتی مذہبی ٹھیکیدار اور کٹھ ملا قسم کے لوگ بری طرح پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ دلیل کے بجائے غلیل اور استدلالی انداز کی جگہ گالی دینے پر اتر آئے ہیں۔

جوں جوں وطن عزیز میں کرونا کا زور بڑھتا جا رہا ہے اور اجتماعی عبادات اور دینی، مذہبی اور مسلکی اجتماعات پر پابندیاں لگ رہی ہیں توں توں یہ لوگ اللہ تعالٰی سے رجوع کرنے کے بجائے ہم جیسے لوگوں پر برس رہے ہیں۔ یہ وہی اوہام اورگمان کے مارے لوگ ہیں جن کے رگ و پے میں دینی و مذہبی عصبیت خون کی طرح سرائیت کر چکی ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک ہم مسلمان بس کلمہ پڑھنے کی وجہ سے تمام مذاہب کے پیروکاروں سے ہر لحاظ سے بزرگ و برتر ہیں چاہے ہمارے اعمال کردار، عادات و خصائل کیسے ہی کیے گزرے کیوں نہ ہوں۔ پہلے تو انہوں نے چینیوں کو حرام و مردار جانور، پرندے، درندے اور حشرات الارض کھانے والی قوم کے طعنے دے کر کرونا وائرس کو ان پر اللہ کی طرف سے آنے والا عذاب قرار دیا اور خود پارسائی اور پاکیزگی کی خوش فہم ردا اوڑھ کر بیٹھے رہے۔

تھوڑے دن بعد جب کرونا نے مسلم ملکوں پر بھی ہلہ بول دیا اور سب کو یکساں روند دیا تو ان خوش عقیدہ اور سادہ لوحوں نے احتیاطی، حفاظتی اور طبی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے مساجد، خانقاہوں، درگاہوں اور زیارتوں کا رخ کرنا شروع کیا۔ جس طرح ڈینگی کے پنجاب پر حملے کے بعد اس وقت کے خوش عقیدہ وزیر اعلٰی سندھ جناب قائم علی شاہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ عبداللہ شاہ غازی یہاں کسی وبا کو آنے نہیں دیں گے، اسی طرح کرونا وائرس کے ہنگام بھی ہمارے اکثر روایتی مذہب پرست لوگوں نے یہی بچگانہ رویہ اپنایا۔

آج مذہبی عبادت خانوں اور درگاہوں سمیت آدھی سے زیادہ دنیا گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی ہے، کاروبار زندگی معطل ہو گیا ہے، ہر طرف خوف اور ڈر کے سائے منڈلا رہے ہیں، ترقی یافتہ ملکوں کی معیشتیں بیٹھ رہی ہیں، تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند ہیں اور دنیا بھر کی لیبارٹریز کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کے جتن کر رہی ہیں۔ ان سب سرگرمیوں کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح بلا تخصیص مذہب و ملک انسانوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے اور الحمدللہ! میڈیکل سائنس نے اس حوالے سے قابل ستائش کارنامہ انجام دیا ہے ورنہ ہلاکتوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جاتی۔ گذشتہ کالم میں بھی ہم نے یہی ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ کسی بیماری یا وبا یا تندرستی کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا اور انسانی جان کی حرمت دنیا کی ہر متاع سے بڑھ کر ہے۔ حتٰی کہ کعبتہ اللہ سے بھی بڑھ کر۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے اور ایک انسان کی زندگی بچانے کو تمام انسانیت کو بچانے کے مترادف قرار دیتا ہے۔

آج مغربی اور یورپی لیبارٹریاں یہی عظیم کام کر رہی ہیں اور جدید ریاست مدینہ کا سربراہ وبا کے دنوں میں ان سے کرونا کے خلاف بھیک مانگ رہا ہے۔ انسانی زندگی کو بچانے کے لیے عبادت گاہوں کی بندش خدا نخواستہ مذہب کی شکست اور سائنس کی فتح نہیں کیونکہ ان دونوں کے دائرہٕ کار مختلف ہیں۔ اس تناظر میں ان مذہبی جنونیوں کی اس درندگی اور بربریت کو دیکھیں کہ جس میں وہ مذہب و مسلک کے نام پر معبدوں، درگاہوں، بازاروں اور گلی کو چوں میں آگ و خون کے دریا بہاتے رہے ہیں ;تو شرف انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

آج وہی لوگ ہمیں لبرل اور سیکولر ہو نے کا طعنہ دے رہے ہیں جو اس وقت ملک کے گلی کوچوں کو بے گناہوں کے خون سے لہو رنگ کرنے والوں کے حق میں الٹے سیدھے دلائل گھڑا کرتے تھے۔ اپنے خود ساختہ اور فرسودہ تصور مذہب کے بت کے پاش پاش ہونے پر اور تو کچھ کر نہیں سکتے بس ہم پر طعن و دشنام کے تیر برساتے ہیں۔ جیسے مسجدوں اور مندروں و کلیساٶں کو ہم نے بند کیا ہے۔ پھونکوں والی سرکار کے دربار عالیہ پر ہم نے پہرے بٹھائے ہیں۔

ارے صاحب! اگر آپ میں یہ ہمت نہیں کہ حقیقت طشت از بام ہونے کے بعد اپنے تصور مذہب کی اصلاح کر سکیں تو ہم پر زبان طعن دراز کرنے سے کیا ہوگا؟ ان خوش عقیدہ دوستوں کے لئے اصل مشکل یہ ہے کہ ان کے تصور مذہب پر کاری ضرب پڑی ہے۔ ہماری کیا مجال کہ ہم کسی مذہب، مذہبی پیشواٶں یا مذاہب نازل کرنے والی ہستی کے بارے میں لب کشائی کر سکیں۔ ان کو یہ سچ ہضم نہیں ہو رہا کہ کرونا بندے کم اور ان جیسوں کی عقیدتیں زیادہ مارے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *