کرونا وائرس سے لڑنے والے، ان نقابوں کے پیچھے یہ عقابی چoرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کی وجہ سے حکومت سندھ کی جانب سے سکھر میں قائم کیمپ میں لائے گے مسافروں کی تعداد 1060 ہوچکی ہے۔ یہ سب مسافر ایران عراق زیارتوں پر گئے تھے اور وہاں سے واپسی پر ان کو کورنٹائین میں رکھنے کے لئے سکھر میں سندھ حکومت نے یہ کورنٹائین سینٹر بنایا ہے۔

سندھ میں عوامی سطح پر وفاقی حکومت پر سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے جس کی وجہ اس اھم مسئلے پر سندھ کو یہ کہہ کر اکیلا چھوڑ دینا ہے کہ صحت صوبائی شعبہ ہے قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ہی نھیں، سندھ میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ وفاقی حکومت نے تافتان بارڈر بند نہ کر کے یا وہاں پہ بیپرواہی برت کر اور ساتھہ ہی ایئرپورٹس پر مکمل انتظامات نہ کر کے پورے ملک کو ایک مسئلے میں ڈال دیا ہے اور اس کے لئے یہ کہنا کافی نہیں کہ یہ ایک گلوبل وبا ہے اور ہم کیا کریں۔

سندھ میں ان مسافرون کو تافتان پر کورنٹائیں بنا کر رکھنے کے بجائے سکھر لانے پر سندھ حکومت پر بھی کافی تنقید ہوتی رہی ہے پر مجموئی طور پر سندھ حکومت اور وزیر اعلی سندھ مراد شاہ کی تعریف ہو رہی ہے کہ انہوں نے معاملے کوکافی سیریس لیا ہے۔

سندھ کے حوالے سے، کرونا معاملہ پر سب سے زیادہ قابل تعریف صحت کے شعبہ میں کام کرنے والا وہ عملا ہے جو سکھر کورنٹائین میں کام کر رہا ہے، ڈاکٹرز، پیرا میڈکس، سیکورٹی عملا، صفائی کرنے والا عملا، انتظامیہ، میڈیا رپورٹر سب کو میرا سلام ہے، اس تحریر کے ساتھہ منسلک تصویر میں ان نقابوں کے پیچھے یہ عقابی چھرے میری الفاظ ہیں ہے جو آج یہ تصویر دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں خود بہ خود اتر آئے، اور میں نے دوسری لائیں علامہ محمد اقبال کی اٹھا کے یہ شعر مکمل کیا۔

ان نقابوں کے پیچھے یہ عقابی چھرے

جنہیں توں نے بخشا ہے ذوق خدائی۔

یہ نقابوں والے عقابی چہرے، آج دنیا میں سب سے زیادہ قابل تعریف لوگ ہیں۔ دنیا کو ہلا دینے والے کرونا وائرس سے مقابلہ کرنے والے، اس کورنٹائیں میں کام کرنے والے جس میں سینکڑوں کرونا پازیٹو مریض ہیں، انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کا پروٹیکشن یونیفارم بھی ان کے پاس مکمل نہیں مگر یہ مجاہد، انسانیت کے سپاہی میدان جنگ میں کود پڑے ہیں۔ اس تصویر میں ایک فہیم چاچڑ ہیں، دوسری بیماریوں سے کیسے بچا جائے، شعبے کی ماہر ڈاکٹر شہلا ہیں اور تیسرا میرا چھوٹے بھائیوں جیسا دوست ڈاکٹر منصور وسان بھی ہے، ڈاکٹر منصور، ایم بی بی ایس ڈاکٹر تو ہے ہی مگر سی ایس ایس کرکے بیوروکریٹ بن گیا ہے پر اس کو میں جانتا ہوں، وہ خدائی خدمتگار اور سپاہی ہے، آج کل ڈپٹی سیکریٹری ہیلتھ صوبہ سندھ، سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں تعینات ہے، مجھے معلوم تھا وہ کراچی سے اپنی سیٹ چھوڑ کر میدان جنگ میں ضرور کودے گا اور ایسا ہی ہوا۔

مجھے نھیں معلوم کہ اس کی ڈیوٹی لگی ہے یا اس نے خود لگوائی ہے پر اتنا مجھے معلوم ہے منصور اس خطرناک وبا کے دوران ٓافیس میں بیٹھا رہے یہ ہو نہیں سکتا۔ یقین کریں مجھے جب پتہ چلہ کہ ڈاکٹر منصور سکھر کورنٹائیں پنھنچا ہے تو مجھے کم از کم میڈیکل سائیڈ پر اس سینٹر کے بارے میں اطمینان ہو گیا۔ منصور اکیلا نہیں، سندھ میں ڈاکٹروں کی اکثریت منصور بنی ہوئی ہے، کل میرے شہر روھڑی میں ایک چھوٹا سان کلینک چلانے والے میرے چچا، رٹائرڈ دسٹرکٹ ہیلتھہ آفیسر سکھر و خیرپور ڈاکٹر عبدالرؤف میمن کو فون کر کے میں نے کہا کہ کرونا ہمارے علاقے میں آچکا ہے اور جن کو علامات ظاہر ہوں گی وہ پہلے ان چھوٹے کلینکس پر ہیں آئیں گے اور آپ کے پاس احتیاطی سامان میسر نہیں تو آپ کلینک بند کر دیں کیوں کہ عمرکا تقاضا ہے، تو انہوں نے کہا، ہم بند کریں گے تو پھر مریض کہاں جائیں گے بس احتیاط کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہر کھانسی زکام والا مریض بچارا خوف میں آرہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ڈاکٹر واحب کرونا کی ٹیسٹ لکھہ کر دیں، ایسے مریض کو کاؤنسلنگ کر کے عام دوائی دے کے گھر بھیجتے ہیں، کہ اگر اس کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں ہے، اور اگر اس کا کسی ایسے فرد سے ملنا جلنا نہیں ہوا تو ایسا ٹیسٹ کرانے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی یہ ٹیسٹ عام، سستا اور آسان ہے۔ ایسے ڈاکٹرز اور اسٹاف کو آج میں نے دیکھا، چائنا میں فوجی سلامی دی گئی۔

سندھ میں ہر چھوٹے بڑے شہر میں یہ ہی جذبہ نظر آرہا ہے اور تو اور آج صبح میٹرک میں پڑھنے والا میرا بھتیجا، سورہیہ لطیف میمن جو لوکل اسکاؤٹ لیڈر ہے، اپنے اسکاؤٹ گروپ پاک حسینی اور اپنے والد، میرے بڑے بھائی ڈسٹرکٹ اٹارنی سکھر جاوید لطیف میمن کے ساتھ کمشنر آفیس سکھر پہنچ گئے کہ اسکاؤٹ کو کام دیں۔

دوسری جانب سکھر کیمپ کے 27 محکمہ صحت کے اہلکاروں کو فرائض کی عدم انجام دہی پر شوکارز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ ان افراد کو سکھر کی لیبر کالونی میں قرنطینہ کیمپ میں فرائض انجام دینے کی ہدایت کی گئی تھی مگریہ لوگ وہاں پر حاضر نہیں ہوئے۔ ایسے لوگ بھی ہیں ہمارے پاس مگر میں ان کو زیادہ الزام نہیں دوں گا کہ ان وبائی جنگوں میں بہادر لوگ ہی لڑتے ہیں اور اگر کوئی کمزور دل ہے تو اس کو زبردستی میدان میں جنگ میں تب تک نہیں بھیجنا چاھیئے جب تک اپنے آپ کو والنٹئیر پیش کرنے والے موجود ہیں اور اس وقت سندھ کی اکثریت نے خود کووالنٹئیر پیش کر دیا ہے۔

کورنٹائیں میں خدمات دینے والے عملے، ڈاکٹرز، پیرا میڈکس، سیکورٹی عملا، صفائی کرنے والا عملا، انتظامی ملازمین سب کے لئے حکومت لائیف ٹائم رسک الاؤنس، انشورنس اور بونس کا اعلان کرے تاکہ یہ لوگ اپنے پیچھے اپنے پیاروں کی فکر سے آزاد ہو کر اور بہادری سے یہ جنگ لڑ سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply