کورونا کا میلہ میرے کھیس چرانے کو لگا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ عام سی کہانی تو آپ میں سے بیشتر نے سنی ہوگی کہ جب میلے میں کسی دیہاتی کا کھیس چرایا گیا تو اس نے کہا تھا کہ میرا کھیس چرانے کو ہی میلہ لگایا گیا تھا۔ مگر یہ شاید آپ میں ‌سے بیشتر نہ جانتے ہوں کہ ڈاکٹر سب سے برے مریض ہوتے ہیں کیونکہ وہ امراض کے بارے میں عام آدمی سے بہت زیادہ اور پڑھے لکھوں سے خاصا زیادہ جانتے ہیں پھر یہ بھی کہ ڈاکٹروں میں بہت سے ایک وہم میں مبتلا ہوتے ہیں جیسے ہر وہ مرض جس کے بارے میں وہ جانتے ہیں یا زیادہ قریب سے دیکھتے ہیں یا جس میں مبتلا ہونے سے وہ خائف ہوتے ہیں انہیں لگنے لگتا ہے جیسے وہ مرض انہیں ہو گیا ہو۔ وہم کی اس نوع کی نفسیاتی کیفیت کو Hypochondria کہا جاتا ہے۔ یہ ڈاکٹروں کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی لاحق ہوتا ہے۔

اوپر سے کورونا کی عالمی وبا پھیلی ہوئی ہو۔ آج 20 مارچ 2020 صبح ساڑھے نو بجے تک دنیا میں 245,913 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہوں۔ 10,048 مر چکے ہوں۔ 88,465 صحت یاب ہو چکے ہوں۔ 147,400 اب تک ہسپتال میں ہوں جن میں سے 140,015 ( 95 %) معمولی مریض ہوں اور 7,385 ( 5 %) سیریس یا کریٹیکل ہوں یعنی ان میں مرنے اور جی جانے کے امکانات قریب قریب برابر ہوں۔ 60 سے 69 عمر میں مرنے والوں کی شرح 3.6 % ہو۔ امراض قلب میں مبتلا مریضوں کی کورونا وائرس سے مرنے والوں کی شرح 13.2 % ہو۔ فشار خون میں مبتلا مریضوں کی کورونا سے مرنے کی شرح 8.4 % ہو۔

ایک شخص ڈاکٹر بھی ہو۔ 69 برس کا بھی ہو۔ فشار خون کا مریض بھی ہو۔ وہمی بھی ہو۔ مزمن تبخیر معدہ کا شکار بھی یو۔ گذشتہ چار ماہ سے غذائی بدپرہیزی کا مرتکب رہ کر دو تین بار معدہ کی سوزش میں مبتلا ہوا ہو۔ جب کھانا نیچے نہ جا رہا ہو تو سینے میں ہلکی سی گھٹن بھی محسوس کرتا ہو۔ بعض اوقات بائیں طرف کے جبڑے اور داڑھ میں ہلکا سا درد بھی محسوس کرتا ہو پھر دائیں بازو میں بھی ہلکا سا درد محسوس کرتا ہو مگر ڈکار اگر آ جائے تو جبڑے اور داڑھ میں ہلکے درد کا احساس فوراً رفع ہو جاتا ہو۔

پھر کوئی واقف ڈاکٹر کہہ دے کہ یہ معدے کا درد نہیں بلکہ Angina یعنی دل کو مناسب آکسیجن میسر نہ آنے کا درد ہو سکتا ہے۔ مگر وہ شخص روز صبح کو تین چار کلومیٹر تیز تیز سیر بھی کرتا ہو اور سینے کی کوئی گھٹن محسوس نہ کرتا ہو۔ کورونا کے ڈر سے گھر تک محدود ہو گیا ہو۔ کورونا کے بارے میں مسلسل جائزہ لے رہا ہو تو اس کو یونہی لگنے لگتا ہے کہ کورونا پھیلا ہی مجھے مارنے کے لیے ہے اورخیر سے یہ شخص میں ہوں۔

موت دو لوگوں کے لیے شاید پریشان کن نہ ہوتی ہو۔ ایک وہ جو بہت دنیا دار رہے ہوں۔ دنیا کے تمام لطف لیے ہوں۔ ٹھیک ٹھاک کمایا ہو یوں بیوی یا بیویوں کو، اولاد اور اقرباء کو خوش رکھا ہو۔ سارے دنیاوی فرائض پورے کر دیے ہوں۔ بچے خودکفیل ہو گئے ہوں۔ بیٹیاں بیاہی گئی ہوں جس طرح 15 جنوری 2020 کو چند لمحوں میں دنیا کو اچانک چھوڑ جانے والا میرا دوست بھتیجا اپنی دو بیویوں اور چھ بچوں کو چھوڑ گیا۔ یا پھر ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے بیاہ اور بچوں کا جھنجھٹ ہی نہ پالا ہو۔ اپنی مرضی سے سوچ سمجھ کر تنہا غیر ملک میں زندگی بتا رہے ہوں، جیسے میرا پیارا دوست شمعون سلیم جو وبا سے ڈرے بن کل اپنے اختیار کردہ وطن نیدرلینڈ لوٹ گیا۔ اللہ اسے اور سب کو وبا سے محفوظ رکھے۔ مگر مجھ جیسا شخص جس کے بچے بالترتیب 11، 8 اور ساڑھے چار برس کے ہوں، وہ مرنا نہیں چاہتا۔

لیکن آج جب میں نے انٹرنیٹ پر کورونا سے متاثرہ ملکوں میں مریضوں اور اموات کا جائزہ لیا تو مجھے یہ دیکھ کر کہ پہلی بار چار انتہائی متاثرہ ملکوں اٹلی، ایران، سپین، جرمنی میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کوئی موت واقع نہیں ہوئی۔ پھر امریکہ میں دس اموات کے علاوہ کہیں ایک یا دو سے زیادہ اموات نہیں ہوئیں اسی طرح بہت سے ملکوں میں ‌ تو اموات ہوئی ہی نہیں۔ اگرچہ پاکستان میں 77 برس کے ایک فرد کی موت ضرور ہوئی تو مجھے یوں لگنے لگا ہے کہ کورونا وائرس کی قوت ہلاکت کم یعنی Attenuate ہوئی ہے۔ کاش یہ میری خوش فہمی نہ ہو۔

البتہ وائرس میں ایسا اکثر ہوتا ہے کہ اس کی قوت ہلاکت کم ہو جایا کرتی ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ پاکستان اور پاکستان جیسے کثیر آبادی والے ملکوں میں جہاں صحت سے متعلق ڈھانچہ بھی مضبوط، مستعد اور توانا نہ ہو۔ کمزور معیشت اور پھیلی ہوئی غربت کے سبب لوگ پہلے ہی کمزور صحت کے حامل اور متنوع امراض میں مبتلا ہوں۔ حفظان صحت سے متعلق شعور نہ ہو۔ مذہبی اور کم علم حلقے توہم پھیلاتے ہوں، وہاں لوگوں کی ایک کثیر تعداد متاثر ہو کر بیشتر کے لیے مہلک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

بہتر یہی ہے کہ لوگوں کو محدود کرنے کے لیے سخت سے سخت تر اقدامات لیے جائیں۔ ہمیں محتاط رہنا ہوگا کیونکہ ہمارے پاس نہ تو چین جیسا عزم اور ہمت ہے اور نہ دیگر مغربی ملکوں جیسا نظام صحت جو خود بھی زیادہ بوجھ پڑنے پر ناکام رہتا ہے، جیسے اٹلی میں ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply