کورونا: ڈاکٹر لی کا اندیشہ درست تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹرلی (Li Wenliang) کا تعلق چین سے تھا وہ پیشے کے لحاظ سے گلوکوما (کالاموتیا) آئی سرجن تھے۔ وہ پشاور کے معروف گلوکوما آئی سرجن ڈاکٹر بخت ثمر کے قریبی دوست تھے اور دونوں بار سلونا سے ٹوکیو اور بیجنگ سے لندن تک مختلف کانفرنسز میں اکٹھے شرکت کرتے رہے۔ گزشتہ دسمبر میں ڈاکٹر لی نے ووھان شھر کے سنٹرل ہسپتال میں اپنے مریضوں کے معمول کا معائنہ کرتے ہوئے ایک اجنبی وائرس کو بار بار نوٹ کیا تو وہ فوری طور پر چوکنّا ہو گیا۔ تیس دسمبر کو ڈاکٹر لی نے وی چیٹ پر اپنے ہم پیشہ ڈاکٹرز کو بتایا کہ میں اپنے کئی مریضوں میں ایک اجنبی لیکن خطرناک وائرس کو نوٹ کر رہا ہوں۔ میں خطرہ محسوس کر رہا ہوں کہ سارس کی مانند ایک اور خوفناک وباء کا سامنا ہو سکتا ہے ( یہ وباء 2003 میں آئی تھی)

اس میسج کے چار دن بعد ڈاکٹر لی کو چینی حکومت کے پبلک سیکیورٹی بیورو نے اپنے دفتر بلایا اور اس سے جبرًا ایک حکم نامے پر دستخط لئے کہ میں نے غلط افواہیں پھیلا کر عوام کو دہشت زدہ کیا جو میری غلطی ہے۔ چینی حکومت کا ارادہ تھا کہ اس سلسلے میں مزید سات ڈاکٹروں سے بھی تفتیش کی جائے گی لیکن دس جنوری کو ڈاکٹر لی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ مجھے شدید کھانسی، گلے میں تکلیف اور بخار شروع ہوگیا ہے اس کے اگلے روز ڈاکٹر لی کو ہسپتال داخل کیا گیا جہاں کورونا کی تشخیص ہوئی اور سات فروری کو کورونا وائرس کی بروقت اور سب سے پہلے تشخیص کرنے والے ڈاکٹر لی دُنیا سے چلے گئے تو پورے چین میں سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا، اور یہ عظیم معالج ایک ہیرو کے روپ میں سامنے آیا۔ میں نے ڈاکٹر لی کی کہانی پڑھی تو دُکھ کے ساتھ ساتھ ایک شدید حیرت سے بھی دوچار تھا کہ کہاں آنکھوں کا ڈاکٹر اور کہاں کورونا؟

اس لئے ڈاکٹر بخت ثمر سے پرانی شناسائی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے تھوڑی دیر بعد میں ان کے سامنے بیٹھا تھا۔ سو میری بے فائدہ باتوں کی بجائے ڈاکٹر بخت ثمر جیسے تجربہ کار معالج کی باتوں پر توجہ دیں، جو ان پرآشوب حالات میں بہت ضروری ہے وہ کہہ رہے تھے کہ ڈاکٹرلی جیسے عظیم معالج کو سب سے پہلے اس لئے پتہ چلا کہ کورونا کی علامتیں اکثر اوقات گلے، ناک، اور آنکھوں سے ہی ظاہر ہوتی ہیں۔ اس لئے ووھان شھر میں کورونا کی وبا پھوٹنے کے ساتھ ہی آنکھوں اور ای این ٹی ڈاکٹروں کے پاس مریضوں کا تانتا بندھ گیا لیکن صرف ڈاکٹر لی نے بروقت اس کی نشاندھی کردی تاہم اگر چینی حکومت آغاز ہی میں سنجیدگی اور ذمہ داری دکھا کر ڈاکٹر لی کی بات پر توجہ دیتی تو نقصان کم سے کم ہوتا۔

مزید کہا کہ یہ وائرس کوئی اتنا خطرناک بھی نہیں جتنا اس کا ہوا کھڑا کیا گیا ہے کیونکہ اگر آپ کسی دوسرے آدمی کو ٹچ بھی نہ کریں اور ہاتھ بھی باقاعدگی سے دھوتے رہیں تو وائرس آپ کے قریب بھی نہیں آسکتا۔ اس کے علاوہ اپنی قوت مدافعت انڈا، کیلا اور کینو /مالٹا کے ذریعے بھی بڑھاتے رہیں، اگر خُدانخواستہ یہ وائرس آپ پر حملہ کرے بھی تو آپ کی اپنی قوت مدافعت (Immunity ) اسے مار دیتی ہے۔ اس وائرس (کورونا ) کی طاقت حد درجہ کم ہے لیکن یہ نقصان تب کرتا ہے جب ہم اپنی بے پروائی اور بے احتیاطی کے سبب اسے طاقتور بنا دیتے ہیں۔

سادہ سی بات ہے کہ اگر ہم اپنی سمجھ اور احتیاط کے ذریعے کورونا وائرس کے راستے مسدود کر دیں تو یہ خود بخود ختم ہوتا جائے گا اور چند دنوں بعد اس کا نام و نشان بھی نہیں رہے گا۔ اور آخر میں میری طرف سے ایک تجویز کہ باھر ملک سے آنے والے ہر شخص کو پہلے قرنطینہ میں بھیجا جائے جہاں ان کا کورونا ٹیسٹ لازمی ہو۔

اس عمل سے ایک تو مسافروں کی آمد کم ہو جائے گی اور دوم کورونا کا پھیلاؤ رُک جائے گا اس کے علاوہ حکومت کورونا مریض کی نشاندھی پر اسی طرح انعام کا اعلان کرے جس طرح ایک زمانے میں چیچک کے بیمار کی نشاندھی پر ہوتا تھا اور اس کے بہت اچھے نے نتائج بھی آئے تھے۔ اگر ایک مشکل صورتحال سے ہمارا واسطہ پڑا ہی ہے تو پھر اقدامات بھی سخت اٹھانے پڑیں گے۔ یہی کچھ چین نے کیا اور اپنی مشکل پر قابو پانے میں کامیاب بھی پوتے جا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *