آگاہی دیں، جھوٹ نہ پھیلائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عام افراد کی ذہنی صلاحیت کے بارے کیا لکھا جائے؟ یہاں بظاہر پڑھے لکھے اور ممتاز نظر آنے والے بھی جہالت، کج بحثی کی علت میں مبتلا اور افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ بنی نوع انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ اس کی جسمانی ساخت نہیں بلکہ عقل و شعور اور غور و تدبر کی صلاحیت کی بدولت عطا ہوا۔ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اور تحقیق و جستجو سے کام لے کر ہی موجودہ دور میں بقا کی جنگ لڑی جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں مگر تحقیق کی جستجو کسی کو نہیں، سنی سنائی بات آگے پھیلا دی جاتی ہے اور ہر سازشی تھیوری یہاں نہ صرف بک جاتی ہے بلکہ اس پر یقین کر کے آنے والے حالات کی پیش بندی کے بجائے ”تقدیر“ کے رحم و کرم پر خود کو چھوڑ دیا جاتا یے۔

یہی ہماری مشکلات زوال اور راندہ درگاہ ہونے کی اصل وجہ ہے۔ رواں برس کے آغاز میں چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس نمودار ہونے کی اطلاعات آنا شروع ہوئیں تو ہمارے ہاں اس وبا کے اثرات سے بچاؤ اور تدارک کے بارے پیشگی بھرپور آگاہی مہم شروع کرنے کے بجائے یہ کہہ کر کہ ”بیماری چینی شہریوں کی حرام خوری کا نتیجہ ہے“، ازخود فرض کر لیا گیا کہ ہم اس کے اثرات سے محفوظ رہیں گے۔ اس وقت اگر ہم چینی قوم کی ”حرام خوری“ کو اس پر نازل ہوئی آفت کا ذمہ دار قرار دینے کے بجائے ہلاکت خیز متعددی بیماری کے پھیلاؤ کی وجوہات اور اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے چینی حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کا بغور مطالعہ کرتے تو اس صورتحال سے یقینا بڑی حد تک بچا جا سکتا تھا، جس کا آج سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اب جبکہ یہ وبا ہمارے ملک کے ہر علاقے میں پہنچ چکی ہے، نئی conspiracy theory یہ پھیلائی جا رہی ہے کہ اس بیماری کا وائرس امریکہ کی بائیولوجیکل لیبارٹریز میں تیار کر کے منصوبہ بندی کے ساتھ چین میں پھیلایا گیا تاکہ اس کی معاشی ترقی کو بریک لگائی جا سکے۔ کہا جا رہا ہے چین کو سینکڑوں ارب ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے اور امریکا کو اس حرکت سے جہاں تجارتی جنگ میں فائدہ ہو گا وہیں اس کی دوا ساز کمپنیاں وائرس سے تحفظ کی ویکسین، جو پہلے ہی تیار کی جا چکی ہے، فروخت کرکے مزید اربوں ڈالرز منافع حاصل کریں گی۔

عالمی معیشیت میں چین کا حصہ تقریبا 20 فیصد بنتا ہے گلوبل اکانومی کی ابجد سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ اس کی معیشیت منجمد ہونے سے تمام دنیا کا اقتصادی نظام متاثر ہونا لازم ہے۔ عالمی منڈی میں حالیہ دنوں میں خام تیل کی قیمتیں جس بری طرح گری ہیں اس کا آغاز چین کے کارخانوں میں پروڈکشن بند ہونے کی وجہ سے تیل کی کھپت میں آنے والی کمی سے ہوا تھا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر پھر صرف چین تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ جزوی لاک ڈاؤن سے قبل ہی یورپی اور امریکی اسٹاک مارکیٹس اس وجہ سے کریش کر چکی تھیں۔

خود یورپ و امریکا میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے جانی نقصان کو فراموش کر دیں تو بھی اس کے معاشی اثرات سے کئی برسوں تک دنیا سنبھل نہیں پائے گی۔ اس وقت عالمی معیشیت کا پہیہ مکمل طور پر رکا ہوا ہے اور کئی ممالک معیشیت کو سنبھالا دینے کے لیے اپنے اپنے ریزرو میں سے خطیر رقم نکالنے کو مجبور ہو رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکومت اس مقصد کے لیے ایک ٹریلین ڈالر مختص کرنے جا رہی ہے اور یہ رقم چھوٹے کاروبار کو سنبھالا دینے کے لیے جاری کیے گئے تین سو ارب ڈالرز کے علاوہ ہے۔

بالفرض یہ بات درست بھی ہو کہ کورونا وائرس امریکا نے چین کی تیز رفتار ترقی کو متاثر کرنے کی نیت سے منصوبہ بندی سے پھیلایا، یہ دو طاقتور ممالک کا مسئلہ ہے۔ ہماری حیثیت عالمی سیاست میں نہ تین کی ہے نہ تیرہ کی۔ انڈیا سے متعلق دنیا ہماری بات سننے کی روادار نہیں تو ہم امریکا کی سازش کو ”بے نقاب“ کس طرح کر سکتے ہیں۔ جو بھی حقیقت ہو گی آج نہیں تو کل خود سامنے آ جائے گی اور چین کورونا کو شکست دینے کے بعد امریکا سے بھی خود نمٹ لے گا۔ ہمارے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کورونا کی تباہ کاریاں حقیقت ہیں شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبا کر یا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے مصیبت ٹل نہیں سکتی۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے۔

یَا أَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَھَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ۔

اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جاؤ۔

ہم دوسروں کا نقصان تو کیا کریں گے، اس قسم کی کہانیاں پھیلانے سے ہمارے ہاں لاپروائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ پولیو کی بیماری سے دنیا کب کی نجات حاصل کر چکی، آج تک ہم مگر اس لیے چھٹکارا حاصل نہیں کر پائے کیونکہ ہمارے بعض لوگ اس کی ویکسین کو مسلمانوں کی نسل کشی کی صیہونی سازش سمجھتے ہیں۔ کئی لوگ اپنے بچوں کو ویکسین پلانے کو تیار نہیں ہوتے اور اصرار پر مرنے مارنے تک اتر آتے ہیں۔ کورونا سے متعلق سازشی نظریات پھیلانے سے بھی لا محالہ یہی ہوگا کہ لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کریں گے۔

اب بھی بہت بڑی آبادی ایسی ہے جو ہاتھ ملانے سے باز نہیں آ رہی اور منع کرنے پر اسی طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ ہمارا عقیدہ ہے جو رات قبر میں لکھی ہے وہ باہر نہیں آئے گی۔ مقام شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ کاتب تقدیر اللہ پاک کی ذات ہے لیکن ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ دنیاوی کاروبار اسباب سے منسلک ہے۔ چند قاعدے قوانین قوانین ہیں جن کا اطلاق اس دنیا میں رہنے والے ہر انسان پر یکساں ہو گا کیونکہ اللہ پاک صرف رب المسلمین نہیں بلکہ رب العالمین ہے، لہذا جب باقی دنیا اس وائرس سے متاثر ہو رہی ہے تو ہم بھی احتیاط کیے بغیر بچ نہیں سکیں گے۔

خوف و ہراس پھیلانا مقصد نہیں لیکن اس وقت تک جتنے کیسز ملک میں سامنے آ چکے ہیں خدشہ ہے کہ اس سے کہیں زیادہ تعداد میں لوگ کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں، لیکن ٹیسٹ نہ ہونے سے اب تک تشخیص نہیں ہو سکی۔ احتیاطی تدابیر پر اگر اب بھی سختی سے عمل نہ کیا گیا تو خاکم بدہن اتنی بڑی تباہی آ سکتی ہے کہ لکھنے کا حوصلہ نہیں۔ افسوس ہوتا ہے جب پانچ پانچ دہائیوں سے صحافت کرنے والے لوگ بھی، اس طرح کی سنی سنائی باتیں لکھ دیتے ہیں کہ دس سیکنڈ تک سانس روکنے سے کورونا کی تشخیص ہو سکتی ہے، الکوحل رکھنے سے وائرس اثر نہیں کرے گا، گرمی آنے سے وائرس ازخود مر جائے گا۔

حالانکہ WHO ان تمام مفروضوں کو لغو قرار دے چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے عوام کو بھرپور آگاہی دی جائے کہ وہ کیا احتیاطی تدابیر ہیں جن پر عمل کرنا لازم ہے اور اگر ان پر درست طور پر عمل نہ کیا گیا تو خدانخواستہ وبا کے وسیع پیمانے پر پھیلنے کا اندیشہ ہے جس کی وجہ سے اگر اٹلی جیسا مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑ گیا تو یہاں بھوک کا عفریت بھی ٹوٹ پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *