کورونا کا مقابلہ ایسے کرنا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کا پھیلاؤ ہنوز جاری ہے اور اب یہ چین کے بعد اٹلی، ایران، سپین، جرمنی اور امریکہ سمیت 170 سے زیادہ ممالک کو متاثر کر رہا ہے۔ اٹلی اور ایران میں تو یہ بے قابو ہو چکا ہے۔ پاکستان میں بھی تین سو سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں مگر یاد رہے کہ ہمارے ہاں کسی بھی قسم کا ٹیسٹ کروانے کا رواج نہیں ہے اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بھی قریباً دس ہزارہو چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک بڑی سنجیدگی سے ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکا جائے۔ حکومت کی طرف سے علاج کی بہترین سہولتیں اور متاثرین کی امداد بھی کورونا کے خلاف جنگ کا حصہ ہے۔

بہر حال سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کورونا کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ اس کا جواب بہت آسان ہے کہ ’گھبرانا نہیں ہے‘ ۔ ہمارے محبوب وزیراعظم فرما چکے ہیں کہ حکومت کے پاس نہ کورونا کے ٹیسٹ کی کٹس مطلوبہ مقدار میں موجود ہیں نہ ہسپتالوں میں گنجائش ہے۔ لہٰذا اگر کسی کو کورونا کا شبہ ہو تو بالکل نہ گھبرائے اور اسے عام فلو ہی سمجھے کیوں کورونا بھی ایک طرح کا فلو ہی ہے۔ اس کے بعد گھر میں رہ کر اس کا علاج کر لے۔

ظاہر ہے سب کچھ کرنا حکومت کا ہی تو فریضہ نہیں، عوام کو بھی ہاتھ پاؤں ہلانے چاہییں۔ فرض کریں ایک مزدور کو کورونا فلو ہو جاتا ہے تو وہ کیا کرے گا۔ لاک ڈاؤن کی صورتِ حال میں اسے کام بھی نہیں مل رہا ہو گا تو ظاہر اس کے پاس پیسے بھی نہیں ہوں گے۔ کورونا کا ٹیسٹ کروانے کے پیسے کہاں سے لائے گا؟ حکومت سے بھیک مانگنا اس کی انا کے خلاف ہے ایسے میں یہی آپشن بچتا ہے کہ گھر بیٹھ کر کورونا کی خدمت میں دست بستہ عرض کرے کہ اے منحوس کورونا براہ کرم میرے پاس سے دفع ہو جائیے۔ میں آپ کا ممنون ہوں گا۔ اگر کورونا اڑ گیا تو مریض کو کورونا کے ساتھ مذید مذاکرات کرنے ہوں گے۔ کورونا کے خلاف دھرنا دے دیں۔ روزانہ کورونا کے خلاف ایک گھنٹے کی تقریر کریں۔ اب اگر مریض ڈٹا رہا تو کورونا ختم اور کورونا ڈٹ گیا تو مریض ختم۔

اگر یہ ترکیب کامیاب نہ ہو تو کورونا کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے پاس پلان بی اور پلان سی بھی ہے۔ پلان بی یہ ہے کہ فیس بک ماہرین کی مدد لی جائے۔ فیس بک پر ایسے ایسے ڈاکٹرز اور حکیم موجود ہیں جن کے پاس ڈگری تو کوئی نہیں ہوتی لیکن ان کے پاس ہر مسئلے کا حل اور ہر بیماری کا علاج ہوتا ہے۔ یہ ماہرین کورونا کا علاج پیاز، لہسن ادرک اور ٹماٹر سمیت ہر سبزی اور جڑی بوٹی سے کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ چناں چہ ان ماہرین کی مدد سے آپ کورونا کو شکست دے سکتے ہیں۔

پلان سی یہ ہے کہ آپ کورونا کو یکسر نظر انداز کر دیں۔ ہر ملنے جلنے والے سے کہیں کہ کورونا نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ ایک عالمی سازش ہے جو چین اور بطورِ خاص ہمارے خلاف کی گئی ہے۔ پاکستان میں کورونا کے پھیلاؤ کو بھی ماننے سے صاف انکار کر دیں اور کہیں کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ حکومت جان بوجھ کر تین چار سو مریضوں کا ذکر کر رہی ہے تاکہ دنیا کے قدم سے قدم ملا کر چل سکے۔ بار بار یہ اعلان بھی کریں کہ دنیا میں کورونا سے کہیں مہلک قسم کی بیماریاں موجود ہیں۔ کینسر، ہارٹ اٹیک، حادثات اور زلزلوں سے مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ہر پانچ منٹ بعد اپنا بیان دہرائیں آپ دیکھیں گے کورونا شرم سے ہی مرجائے گا۔ اس طرح آپ کی جان کورونا سے چھوٹ جائے گی۔

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ حکومت کورونا کے حوالے سے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے گی، ہسپتالوں میں ہزاروں کی تعداد میں آئسولیشن یونٹ بنائے گی، کورونا ٹیسٹ کی کٹس ہر شہر میں دستیاب ہوں گی، ماسک اور سینیٹائزر اپنی اصل قیمت پر مطلوبہ مقدار میں فراہم کیے جائیں گے، کورونا کے مریضوں کو علاج کی سہولتیں حاصل ہوں گی تو آپ کو کورونا کے علاج سے پہلے نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔ بہتر ہے کسی نفسیاتی معالج سے مشورہ کر لیں۔ یاد رکھیں انسان دنیا میں اکیلے ہی آتا ہے اور کورونا کا مقابلہ بھی اسے اکیلے ہی کرنا ہے۔

ایسے حالات میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ ’گھبرانا نہیں ہے‘ بلکہ یہ جادو اثر جملہ وقتاً فوقتاً دہراتے رہیں۔ یہی آپ کی مشکلات کا حل ہے۔ اگر کورونا کے وار سے آپ جانبر نہ ہو سکیں تو آخری ہچکی سے پہلے آپ مطمئن ہوں گے کہ سکون صرف قبر میں ہی مل سکتا ہے۔ چناں چہ آپ اربابِ اختیار کو دعائیں دیتے ہوئے سکون کی منزل پالیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *