پروفیسر خالد حمید شہید کا جنت سے کالج پروفیسرز کے نام خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام علیکم دوستو!

امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے، میں یہاں بہت مزے میں ہوں۔ مجھے آپ لوگوں سے بچھڑے ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ میں نے سوچا آپ لوگوں یاد دلاتا چلوں کہ کبھی ہم لوگ ایک ساتھ ہنستے کھیلتے تھے۔ ایک دوسرے پر تنقید بھی خوب کیا کرتے تھے، لڑتے جھگڑتے بھی تھے لیکن ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تھے۔ میں دعا گو ہوں کہ تمام دوست ہمیشہ مسکراتے رہیں۔ سنا ہے کالج کمیونٹی اس وقت پیپلا الیکشن کی تیاریاں کر رہی ہے اور خاصی مصروف ہے۔

میں نے کالج اساتذہ کے فیس بک کے گروپس میں جھانکا تو تمام پروفیسر اپنے گروپ کی خوبیاں گنوائے جا رہے ہیں اور مخالف گروپس کی ناکامیوں کی بھی خوب تشہیر کی جا رہی ہے۔ کچھ دوست کرونا وائرس کے حملے کے حوالے سے مستند معلومات بہم پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں تو کچھ لوگ وہی روایتی انداز اپناتے ہوئے افواہوں کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالی آپ سب کو اس مہلک وبا سے محفوظ فرمائے اور ہمارے دوستوں کو افواہیں نہ پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ امتحان اور آزمائش کی گھڑی میں میری نیک تمنائیں آپ لوگوں کے ساتھ ہیں۔

آپ لوگوں کے سامنے کچھ گزارشات اور سوالات رکھنا چاہتا ہوں امید ہے آپ ان پراس فرصت کی گھڑی میں ضرور غورو فکر کریں گے۔

1۔ میرے قتل ہونے کے بعد کتنے دوستوں نے یہ کوشش کی کہ آئندہ کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آئے؟

2۔ کالج اور معاشرتی لیول پر آپ میں سے کتنے لوگوں نے یہ شعور دینے کی کوشش کی کہ اختلاف رائے کیا ہوتا ہے اور بحث کرنے کے مروجہ اصول کون سے ہیں؟ کیا آپ اپنے شاگردوں کو یہ بات سمجھانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ اختلاف رائے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ مختلف رائے رکھنے والے کو جسمانی یا معاشرتی نقصان پہنچائیں بلکہ دلیل کے ساتھ اپنا نقطہ نظر بیان کریں اور دلائل سے ہی مخالف کی رائے کو رد کریں۔

3۔ کیا آپ دوستوں نے حکومت وقت سے ایسا تعلیمی ڈھانچہ لانے کے لیے پرزور مطالبہ کیا ہے جس میں ایک استاد اپنے آپ کو محفوظ سمجھے اور بغیر کسی خوف سے اپنا علمی فریضہ انجام دے سکے؟

4۔ کیا آپ نے عام آدمی اور بالخصوص اپنے شاگردوں کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کی ہے؟ کہ کسی صورت بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے اور یہ کہ آئین پاکستان اور مذہب اسلام کسی بھی فرد کو خود سے جج بن کر فیصلہ صادر کرنے اور سزا دینے کی اجازت نہیں دیتا۔

5۔ کیا آپ لوگوں نے اپنے شاگردوں میں یہ سوچ پروان چڑھانے کی کوشش کی کہ کوئی بھی انسان عقل کل نہیں اور کسی بھی ایشو پر حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے اس معاملے کے بارے میں اپنے علم کو وسیع کریں اور مشکل اور پیچیدہ معاملات میں کسی عالم یا اس معاملہ میں مہارت رکھنے والے افراد سے رابطہ کیا جائے؟

آخر میں نہایت افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ آپ لوگوں نے مجھے یکسر بھلا دیا ہے۔ میں نے ابھی فیس بک ایک پروفیسر گروپ جس کے ممبران کی تعداد لگ بھگ پانچ ہزار سے زیادہ ہے، میں جھانک کر دیکھا تو صرف تین یا چار پوسٹس میرے ”ناحق قتل“ کے بارے میں تھیں۔

اس دعا کے ساتھ کہ آئندہ کبھی کوئی استاد کسی مذہبی اور معاشرتی جنونیت کا شکار نہ ہو، اجازت چاہتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *