قبائلی اضلاع کے ’بابائے صحافت‘ کی رحلت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان کی مثال ایک تحریک کی تھی جس نے ساری زندگی سخت حالات میں خطرات سے کھیل کر قبائلی اضلاع جیسے پسماندہ ترین علاقوں میں صحافت کا علم بلند کیے رکھا۔

بنیادی طورپر سیلاب محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کے محسود قبیلے سے تھا لیکن فوجی آپریشنوں کے باعث بے گھر ہونے کے بعد وہ گزشتہ کئی سالوں سے ڈیرہ اسمعیل خان میں رہائیش پزیر تھے جہاں حال ہی میں ان کی طرف سے نیا گھر تعمیر کیا گیا تھا۔

ان کی ساری زندگی صحافتی یا سیاسی جدوجہد سے عبارت تھی۔ ستر کی دہائی میں سابق قبائلی ایجنسیوں میں تحریک اتحاد قبائل کے نام سے ایک تنظیم کا قیام میں عمل لایا گیا جس کا مقصد ایف سی آر جیسے کالے قوانین اور ملک نظام کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ یہ تنظیم تمام سات قبائلی ایجنیسیوں کی سطح پر قائم تھی جبکہ سیلاب محسود اس وقت اس تنظیم کے جنرل سیکرٹری تھے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندی عائد تھی اور ایف سی آر جیسے کالے قانون کی موجودگی میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا نہ صرف بڑے دل گردے کا کام ہوا کرتا تھا بلکہ ایف سی آر کی خلاف ورزی پر تیس سے چالیس سال کی قید کی سزائیں بھی دی جاتی تھی۔ لیکن سیلاب محسود نے کبھی ان سزاؤں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا اور قبائل کی حقوق کے لیے مسلسل ہر فورم پر جدوجہد کرتے رہے۔

سیلاب محسود بلاشبہ ایک نڈر اور بے باک صحافی کے طورپر شہرت رکھتے تھے۔ انہوں نے 80 کی دہائی میں  صحافت کو بطور پیشہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے قبائلی علاقوں میں آزاد صحافت کو کوئی تصور نہیں تھا بلکہ ایف سی آر جیسے ظالمانہ قانون کی موجودگی میں حکومت یا پولیٹکل انتظامیہ سے ٹکر لینا موت کو دعوت دینے کے مترادف سمجھا جاتا تھا لیکن سیلاب محسود نے کارکن صحافیوں کو اکٹھا کرکے آزاد صحافت کی بنیاد ڈالی۔ انہوں نے ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس یا ٹی یو جے کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جو بعد میں قبائلی علاقوں میں صحافیوں کی ایک فعال تنظیم کے طورپر سامنے آئی۔ یہ وہ وقت تھا جب سابق فاٹا میں صحافت کا کوئی خاص تصور نہیں تھا اور نہ زیادہ تر لوگ اس شعبے سے واقف تھے۔ تاہم سیلاب محسود کی کوششوں سے اس تنظیم کی شاخیں تمام قبائلی علاقوں تک پھیلائی گئی۔ اسی وجہ سے انہیں قبائلی اضلاع کے ’بابائے صحافت‘ کا لقب بھی دیا گیا۔

سیلاب محسود نے ساری زندگی کھٹن حالات میں صحافیوں کی حقوق کی جنگ لڑی جس کی وجہ سے ان کے خلاف مختلف ادوار میں کئی مقدمات بھی قائم کیے گئے جبکہ وہ کئی مرتبہ جیل کے سلاخوں کے پیچھے بھی ڈالے گئے۔

ان کے خلاف تازہ مقدمہ گزشتہ سال ڈیرہ اسمعیل خان میں پی ٹی ایم کے ایک جلسے کی کوریج پر بنایا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ ان کی طرف سے جلسے میں سکیورٹی فورسز کے نازیبہ نعرے لگائے گئے تاہم سیلاب محسود اس الزام سے مسلسل انکار کرتے رہے ہیں۔

وہ تقربناً چالیس سال تک ایک کارکن صحافی کے طورپر سرگرم رہے اور اس دوران وہ کئی ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کے اداروں کے ساتھ منسلک رہے۔ انہوں نے بیشتر اوقات افغانستان، القاعدہ اور قبائلی علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں اور فوجی آپریشنوں کو کور کیا۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے خلاف بھی آواز اٹھائی اور اس دوران انسانی حقوق کے تنظیموں کے ساتھ منسلک رہے۔

سیلاب محسود صحافی کے ساتھ ساتھ کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ انہوں نے قبائلی علاقوں سے پہلے ہفتہ روزہ رسالے کاروان قبائل کی بنیاد بھی ڈالی جس کے ذریعے سے وہ کئی سالوں تک پسماندہ علاقوں کے مسائل کو اجاگر کرتے رہے۔

یہ شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ سیلاب محسود کا اصل نام رفعت اللہ تھا۔ تاہم صحافتی زندگی میں وہ سیلاب محسود کے نام سے جانے جاتے تھے۔ میرا نام بھی سیلاب محسود نے رکھا تھا۔ وہ میرے مرحوم چچا منیر شاہ ایڈوکیٹ کے کلاس فیلو اور قریبی دوست تھے۔ جب میری پیدائش کی اطلاع میرے چچا کو دی گئی تو اس وقت سیلاب محسود ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور اسی وقت انہوں نے پشتو میں کہا کہ ’راکڑہ پہ دی زما نوم کیژدے‘ یعنی میرے دوست اس پر میرا نام رکھو گے اور اس طرح میرا نام ان کی طرف سے رکھا گیا۔

سیلاب محسود گزشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے اور جمعرات کو طویل علالت کے بعد خالق حقیقی سے جاملے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *