سانحہ جلالپور بھٹیاں اور پولیس کلچر؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزارت انسانی حقوق کی جانب سے سال 2018 ء میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا تھا کہ وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے چاروں صوبوں میں گذشتہ پانچ سال کے دوران بچوں سے زیادتی کے 17862 واقعات رپورٹ ہوئے رپورٹ ہونیوالے واقعات میں 10620 لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 7242 لڑکوں کے ساتھ جنسی تشدد ہوا۔ انسانی حقوق کی کمیشن رپورٹ کے مطابق بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد کے واقعات میں سے صرف 112 مجرمان کو سزا سنائی گئی جن میں سے پچیس کو سزائے موت ’گیارہ کو عمر قید کی سزا ہوئی پاکستان میں 450 سے زائد این جی اوز پر مشتمل نیٹ ورک چائلڈ موومنٹ (سی آر ایم) کی جانب سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے یہ اعداد و شمار ایسے پاکستان کے ہیں جہاں روزانہ بارہ بچے جنسی تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔

اس صورتحال سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کس حد تک اپاہج ہو چکے ہیں کہ دن کی روشنی میں بے قصور بچے اور بچیوں کا جسمانی استحصال کر کے ان معصوم کلیوں کو یہ درندہ صفت مجرمان قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ایسے بیشمار انسانیت سوز واقعات اس دھرتی پر رقصاں بے حس معاشرے ’سیاست اور ریاست کو للکار رہے ہیں ہمارامستقبل ہمارے بچے کتنے بڑے خطرے سے دوچار ہیں بچوں سے زیادتی‘ تشدد ’ریپ کیسز میں مسلسل اضافہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ایسے واقعات سخت قانوں اور سزاؤں کے عملی نفاذ سے ہی روکے جا سکتے ہیں کبھی ارباب اختیار نے جائزہ لیا کہ ایسے سفاک واقعات نے کتنے امین انصاری جیسے والدین کے جگر چھلنی کر تے ہوئے انہیں زندہ درگو کر دیا۔

ابھی تو قصور کے بے قصور بچوں کی آہیں اور سسکیاں انصاف کے لئے دربدر ہمارے تعاقب میں ہیں کہ ضلع حافظ آباد کے قصبہ جلالپور بھٹیاں میں یکے بعد دیگرے صرف دو ہفتوں کے دوران پانچ بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے ایسے کربناک واقعات پیش آئے کہ انسانیت شرما گئی سات سالہ بچی عبیرہ شہزادی او غریب والدین کے دو حقیقی چودہ اور پندرہ سالہ بھائیوں ں کو سفاک ملزمان نے جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا سوال اٹھتا ہے کہ ایسے سفاک درندہ صفت ملزمان کی پشت پر کون کھڑا ہے جو دن دیہاڑے بچوں کی آزادی اور احساس تحفظ پر شب خون مار کر جنسی تشدد کے بعد انہیں مسل رہے ہیں ایسے قبیح کرداروں کو کون بے نقاب کرے گا۔

ایسے واقعات پر مذمتیں ’جے آئی ٹی‘ معطلیاں ’تبادلے‘ اظہار افسوس ’عبرت ناک سزاؤں جیسے بلند و بانگ دعوے اس فرسودہ نظام کی گرہ سے بندھے نظر آتے ہیں اور یہ شفافیت سے عاری صورتحال معاشرہ کے افراد کے لئے غور و فکر کی متقاضی ہے۔ ایسے دلدوز واقعات کے محرکات کا جائزہ لیں اور ریاستی لاء اینڈ آرڈر قائم رکھنے والے اداروں کی کارکردگی دیکھ لیں اور فیصلہ کریں کہ کیا یہ فرسودہ نظام اس قابل ہے کہ بر وقت میرٹ پر انصاف فراہم کر سکے۔

قصور ’چونیاں اور ساہیوال کے واقعات اس فرسودہ نظام پر اپنی مہر تصدیق ثبت کر چکے ہیں اس کی وجہ یہ کہ ریاست قانون کے عملی نفاذ کے ذریعے معاشرے میں ایسا ماحول فراہم نہیں کر سکی کہ بچے اپنے آپ کو محفوظ تصور کر سکیں جب اقتداری طبقات اور اشرافیہ کے جان و مال اور مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے تو پھر عام فرد کے جان و مال کا تحفظ کس کی ذمہ داری ہے۔ مسند اقتدار پر براجمان ہونے والا ہر حکمران اس نظام میں تبدیلی کا دعویدار رہا لیکن ان کے دعوؤں میں تضادات کی بڑی گہری دراڑ ہے ریاست مدینہ کے حکمرانوں کے سر یہ سوال فرض کی طرح قرض ہے کہ کیا بے گناہوں کے لہو سے سیراب ہو کر یہ فرسودہ نظام یونہی اس معاشرے پر تلوار بن کر لٹکتا رہے گا۔

جلالپور بھٹیاں میں دو سگے بے گناہ بھائیوں زمان اور علی حمزہ کے لاشے والدین نے برہنہ حالت میں اٹھائے ہیں پوری قوم اس اندوہناک واقعہ پر غمزدہ ہے اس دلدوز واقعہ کی خبر پورے شہر کے باسیوں پر پر قہر بن کر ٹوٹی دل افسردہ اور آنکھیں اشک بار ہیں جن والدین کے سامنے دو بے گناہ جگر گوشوں کے لاشے پڑے ہو ں جہاں معاشرے میں انصاف بکتا ہو تو وہ وہاں کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں۔ قصور حسین والا میں سو سے زائد بچوں کے ساتھ بد فعلی کے واقعات کے بعد بہت سے دعوے کیے گئے لیکن ایسی لرزہ خیز وارداتوں کا سلسلہ تھم نہ سکا ان حالات کے پیش نظر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ملک میں رائج نظام اس قابل نہیں کہ جو ان بے گناہوں کے خون کا حساب دے سکے ایسی لرزہ خیز وارداتوں سے اخذ کرنا دشوار نہیں کہ اس ملک کی دھرتی معصوم و بے گناہ بچوں کے لئے قتل گاہ بنتی جا رہی ہے۔

حافظ آبادسے تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی چوہدری شوکت علی بھٹی کاجلالپور بھٹیاں میں احتجاج کرنے والے مظاہرین سے اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ پولیس نے اس واقعہ سے قبل آٹھ سالہ بچی عبیرہ کو قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر کے با اثر سیاسی شخصیت کی ایک فون کال پر رہا کر دیا اور جب متاثرین اور اہل علاقہ کی جانب سے پولیس کے خلاف احتجاج کیا گیا تو اسے دوبارہ گرفتار کیا گیا پولیس کی کارکردگی کے یہ فکر مند اشارے اس نظام پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اگر یہ نظام عمل سے عاری نہ ہوتا تو یقینا اس معاشرہ میں موجود سفاک درندہ صفت مجرمان ایسے واقعات سے قبل سو بار سوچتے عوام کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری آئین پاکستان ریاست کے سپرد کرتا ہے اگر آج ایسے مجرمان اور ان کے سہولت کار انصاف کے کٹہرے میں ہوتے تو یوں سر بازار اس پولیس کلچر پر انگلیاں نہ اٹھتیں۔

ایک بار پھر ماضی سے جڑا نعرہ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی بلند کیا ہے کہ پولیس کلچر کو تبدیل کر کے اصلاحات لائینگے جب تک تھانہ میں جانے والا سائل خود کو مجرم تصور کرے گا تب تک عوام کا اس نظام پر عدم اعتماد برقرار رہے گا یہی وہ سوچ ہے جو پولیس کو عوام دوست بنانے میں بڑی رکاوٹ ہے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پولیس کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے بڑا پیکج لارہے ہیں لیکن وزیراعلیٰ اس پولیس کلچر کو سیاست سے آزاد کرنے کے لئے عملی اقدامات بھی اٹھائیں اورمحکمہ پولیس کو مزید فعال بنانے کے لئے اہلیت کی بنیاد پر بھرتی کے عمل کو شفاف بنائیں قانون سازی کے ذریعے نا اہل ’کرپٹ افسران اور اہلکاروں کو برخاست کیا جائے تاکہ ایسے منفی کردار کے حامل افسران اور اہلکار محکمہ کی کارکردگی کو گہنا نہ سکیں موجودہ حکومت کو چاہیے کہ انگریز سے ورثہ میں ملے پولیس کلچر کو تبدیل کر کے اصلاحات لاتے ہوئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھائے۔

بچوں کے ساتھ تواتر کے ساتھ جنسی زیادتیوں اور قتل جیسی کربناک صورتحال کی جو سیریل چل رہی ہے وہ معاشرے کے کسی بھی ذی شعور فرد کے لئے کسی سوہان روح سے کم نہیں والدین اپنے بچوں کو کیسے اس انسانی معاشرے میں بے مہار درندوں سے بچائیں بچے تو سانجھے ہوتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ مل کر معاشرہ ’سیاست اور ریاست ایسے واقعات کے تدارک کے لئے اپنے اپنے کردار کا تعین کرے تاکسی والدین کو زینب جیسے دکھ اور حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *