کرونا کا قرنطینہ: شاہ زیب راہجو پہ کیا بیتی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قرنطینہ یا قیدِ طبّی یا جبری حراست ایسی پابندی ہوتی ہے جو وبائی بیماریوں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لگائی جاتی ہے۔ کسی وبائی مرض کے پھیلنے کی صورت میں متاثرہ علاقے سے آنے والے لوگوں کو مخصوص مدت کے لیے قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے اور اُن کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ اُن میں مرض کے جراثیم ہوں تو سامنے آ جائیں۔

موجودہ صورتحال میں دنیا ایک مرتبہ پھر قرنطینہ بنتی نظر آرہی ہے۔ کبھی برص، کبھی طاعون، کبھی اتشک، کبھی اسپینش انفلوائنزا کی صورت میں تو کبھی فاتحین کا دنیا کو فتح کرنے کی دُھن میں پہلے خون سے دریا سرخ کرنے پھر لاشوں سے اسی دریا پر بند باندھنے اور کبھی کھوپڑیوں کے مینار بنا کر اپنی طاقت کی صدا لگانے کی وجہ سے دنیا قرنطینہ بن چکی ہے۔ چودھویں صدی میں اگر طاعون نے بیس کروڑ لوگوں کی زندگیاں لیں تو آج سے سو سال پیچھے چلے جائیں تو پتہ لگتا کے انفلوائنزا بھی دس کروڑ انسانی جانیں نگل چکا ہے۔ تاریخ میں اگر جنگوں میں ہوئی قتل و غارت کا حساب لگایا جائے تو وہ بھی لگ بھگ اتنا ہی بنے گا۔

کرونا وائرس اس وقت تک پوری دنیا میں دو لاکھ لوگوں پر حملہ آور ہو چکا ہے، جس میں سے تقریباً ساڑھے سات ہزار انسان اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جو ممالک زیادہ متاثر ہوئے ہیں وہ بالترتیب چائنہ، اٹلی، ایران، اسپین، جنوبی کوریا، جرمنی ہیں۔ دنیا جتنی تیزی سے گلوبل ویلج بنی ہے اب اسی رفتار سے واپس فاصلوں کے دور میں جانے کو پر تول رہی ہے۔ وہ ممالک جو سرحدوں کو صرف ایک کھینچی ہوئی لکیر قرار دیتے تھے اب اسی لکیر کے پار کھڑی موت کو دیکھ کر باڈر سیل کرتے نظر آرہے۔ لیکن اس پوری صورتحال میں، کرونا سے متاثرہ ریاستوں کی عوام جس زندہ دلی کا مظاہرہ کر رہی وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔

آپ چائنہ کو دیکھ سکتے، چینی قوم نے جس طرع اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا، ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کے مریضوں کی نگہداشت کی۔ ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک فلم ساز اور اس کی بیوی کی کچھ دن کی کہانی ہے جو پیشہ کے لحاظ سے نرس ہے۔ لیکن جب کرونا وائرس کا شکار ہو گئی تو اس کے شوہر جس قدر ممکن ہوا اس کا خیال کیا۔ اس مختصر فلم میں دیکھا جا سکتا ہے کیسے اس جوڑے نے اپنا وقت گزارا لیکن ہمت نہیں ہاری اور کیسے، ڈر، موت کا خوف، مستقبل، سب مل کر جب انسانی زندگی پر حملہ کرتے تو انسان بے بس تو ہو جاتا لیکن اگر ڈٹ جائے تو آئی ہوئی وبا کو بھی شکست دے دیتا۔

اٹلی کے لوگ تو باقاعدہ اپنے رہائشی علاقوں کی بالکونیوں میں پیانو اور دیگر موسیقی کے آلات سے دُھنیں بکھیرتے نظر آرہے اور اپنے اندر چھپے موت کے ڈر کو ترانوں اور جذبے والے گیت گا کر ختم کر رہے۔ اسی طرع باقی ممالک بھی حفظ ماتقدم کے طور ہر ممکن بچاؤ کی صورتحال پر غوروفکر کر رہے۔

اب ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں جہاں اس وائرس کو ابتدائی طور پر سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ہماری حکومت صرف ٹویٹ کر کے سو گئی۔ سول سوسائٹی اور مین سٹریم میڈیا عورت مارچ، جسم کی مرضی جیسے معاملات پر ٹاک شوز میں الجھ گیا، سوشل میڈیا کے ہیرو مِیم بنانے لگ گئے۔ ان سب کی آنکھیں بند کرنے کا فائدہ کچھ تاجر اور فارماسیسٹ والوں نے اٹھا کے ماسک اور سینیٹائزر وغیرہ کے گودام بھر لئے۔ سندھ حکومت اب اس معاملہ میں ایکٹیو ہوگئی لیکن چائنہ سے آنے والے طالبعلم کے ساتھ جو بیتی وہ اپنی جگہ ایک دلچسپ صورتحال تھی جس سے ہمیں اندازہ ہوتا کہ تیاری کے بغیر صرف بیانات کی حدتک کیسے معاملات چلائے جاتے ہیں۔

شاہ زیب راہجو پاکستان کے صوبہ سندھ کے ایک دور دراز گاؤں راہجو کا رہنے والا ہے جو کہ پٹرولیم انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے چائنہ گیا۔ جب چائنہ کے ایک بڑے شہر وہان میں نوول کرونا وائرس حملہ آور ہوا تو باہر سے آئے طالبعلموں نے اپنے ملکوں کو واپسی کی راہ لی۔ ڈائریکٹ فلائٹ نہ ملنے کی وجہ سے شاہ زیب نے بھی کراچی کے لئے براستہ قطر واپسی کا سفر کیا لیکن جب وہ قطر پہنچا تو اس کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ سر میں درد کے ساتھ نزلہ بھی ہوا اور کھانسی بھی شدید ہو گئی۔

شاہ زیب نے فوراً کچھ ادویات لیں جس سے طبیعت بحال ہوئی اور وہ جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ کراچی اترا، وہاں اس کا سکریننگ ٹیسٹ ہو جو بالکل کلیئر آیا۔ جب وہ اپنے گھر پہنچا تو دوبارہ نزلہ زکام اور کھانسی کا حملہ ہوا۔ جس کی وجہ سے بخار ہونا شروع ہوا ساتھ ہی ناک سے خون آیا۔ اس پریشان کن صورتحال میں گھر والے ایک پرائیویٹ کلینک پر لے آئے، ڈاکٹر کو پتہ چلا بندہ چائنہ سے آیا ہے ڈاکٹر نے دوڑنے میں عافیت سمجھی، شاہ زیب خیر پور سول ہسپتال پہنچا، وہاں بھی ڈاکٹرز نے ہاتھ جوڑ کر مریض کو فوراً کراچی پہنچانے کا کہا۔

شاہ زیب اپنے بھائی اور دیگر افراد کے ساتھ کراچی کی طرف جا رہا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اور ہیلتھ افسر نے فوراً واپس سول ہسپتال خیر پور آنے کا کہا، یہ لوگ واپس آگئے۔ ہسپتال انتظامیہ نے شاہ زیب کو ڈینگی وارڈ میں داخل کر لیا، پتہ چلا کہ وزیر صاحب کا حکم ہے۔ لیکن آٹھ گھنٹے تک کوئی پرسان حال نہ تھا، ماسک اور دیگر آلات کی عدم دستیابی اور بغیر کوئی لیبارٹری ٹیسٹ کے شاہ زیب کو کرونا کا مریض ڈیکلیئر کر دیا گیا۔ میڈیا نے بھی حسب معمول سنسنی پھیلا دی کہ ایک چائنہ پلٹ نوجوان میں کرونا تشخیص ہو گیا ہے۔ آٹھ گھنٹے تک سنسان وارڈ میں پڑے رہنے کے بعد شاہ زیب نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنا علاج کروانے کا فیصلہ کیا اور ہسپتال سے فرار ہوکر اپنے بھائی اور عزیز واقارب کے ہمراہ اسلام آباد کی طرف روانہ ہوگیا۔

ہسپتال انتظامیہ کو مریض کے بھاگنے کی خبر تین گھنٹے بعد پتہ لگی تو ان کے اوسان خطا ہو گئے۔ مریض کی تلاش شروع کر دی گئی۔ کمشنر نے فون کر کے فوراً واپسی کا حکم دیا لیکن شاہ زیب نے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ موبائل فون سے لوکیشن ٹریس کر کے موٹر وے پولیس کی مدد سے شاہ زیب کو موٹروے پر ناکہ لگا کر روکا گیا اور پولیس اسکواڈ میں مفرور مریض کو گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کروایا گیا۔ کچھ دن بعد مریض کی رپورٹ کو کلیئر قرار دے کر ڈسچارج کر دیا گیا۔ یوں پاکستان کے پہلے کرونا کے مریض کو ہسپتالوں اور سڑکوں پر شٹل کاک بنا کر صحت یاب بھی کر دیا گیا جو کہ سرے سے کرونا کا مریض تھا ہی نہیں۔

اس مشکل وقت میں ہم میں سے کوئی نہیں چاہے گا کہ وہ اس وائرس کا شکار ہو۔ اب یہ وقت ہے کہ ہم بنیادی احتیاطی تدابیر کر لیں جس سے ہم نہ صرف خود محفوظ ہو سکیں گے بلکے باقی انسانیت کی آسانی کا سبب بھی بن سکیں گے۔ آپ مذہب بیزار ہوں، ملحد ہوں یا سخت قسم لبرل ہوں۔ اپنی طرف کرونا وائرس سے آئی موت کو بڑھتا دیکھ کر آپ کو قرآن کی سورت المدثر میں اس کائنات کے مالک کی پکار سنائی دے گی کہ ”تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا“۔

یہی وہ مرحلہ فکر ہے کہ جس جس باڈر کو یہ وائرس کراس کر رہا ہے اس ملک کے باسی اپنے اپنے خداؤں کو پکارنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسی لئے امریکہ جیسے سوپر پاور ملک کا صدر بھی قومی دعا کا دن مناتا نظر آرہا ہے اور گاڈ بلیس امریکہ جیسے ٹویٹ کر رہا ہے۔ تو آئیں پھر صرف ایک بار مل کر یہ کہہ دیں ”اے صحت اور زندگی دینے والے رب، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تیری ذات پاک ہے، یقیناً میں ہی ظالموں میں سے ہوں“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *