اک نایاب حسینہ سے ملاقات

وہ نوجوان اپنے دیہات سے اٹلی کے دارالحکومت روم میں سیر کی غرض سے پہنچا تھا۔ یہ اس کا پہلا سفر تھا۔ نہ تو اس کی عمر اتنی کم تھی اور نہ ہی وہ ایسا سیدھا سادا تھا کہ یہ نہ جانتا ہو کہ اس عظیم الشان اور خوب صورت دارالحکومت کی اہمیت اور کشش کسی بھی دوسری جگہ کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ زندگی کے متعلق پہلے سے ہی اسے یہ علم تھا کہ یہ ایک سراب کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ اکثر انہونی بھی ہو جاتی ہے لیکن اس انجانی خوش قسمتی کا حساب برابر کرنے کے لیے مایوسیاں بھی کہیں نہ کہیں سے آ جایا کرتی ہیں۔ اگرچہ اسے بخوبی علم تھا کہ زندگی کئی بار بھیانک روپ میں بھی سامنے آتی ہے۔ گویا زندگی کی روش میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا کرتا اور زندگی کا ایسا روپ اکثر بڑے شہروں میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے جہاں بظاہر ہر شخص اپنے کام اور اپنی ہی ذات میں مگن دکھائی دیتا ہے۔

Read more

آتش گری کے سوداگر

جون 1999 ء میں صرف دو شوق عروج پر تھے۔ ایک انگلینڈ میں جاری کرکٹ ورلڈ کپ کے میچ دیکھنا دوسرا ایک ہفت روزہ اخبار ”ضرب مومن“ پڑھنا۔ یہ اخبار جمعہ کے دن آتا تھا۔ اسلامی تاریخ اور بنیادی دینی احکامات کے علاوہ شاندار مضامین پڑھنے کو ملتے تھے۔ اسی اخبار کے توسط ہمسایہ ملک میں جاری طالبان کی فتوحات کی خبریں بھی ملتی تھیں۔ اخبار پڑھتے ہوئے ساتھ ساتھ جنگ کا جو منظر دماغ میں ابھرتا تھا وہ پی

Read more

ایک بچے کی کہانی جس نے اپنی کمر سے زندگی کا بوجھ اُتار دیا

وہ دھیمی رفتار سے چلتا ہوا آیا اور عارضی طور پر بنائے گئے شمشان گھاٹ کے پاس آ کر رک گیا۔ وہ ننگے پاؤں تھا۔ اس کی پتھرائی ہوئی آنکھیں اور جذبات سے عاری چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ درد کی شدت سے بھرا ہوا فاصلہ طے کر کے آیا ہے۔ اس کی عمر لگ بھگ دس سال تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس جگہ کسی خاص وجہ سے آیا ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں موت کی گہری اداسی چھائی ہوئی تھی اور لاشوں کے جلنے کی تیز بو آ رہی تھی۔ اس نے اپنی پیٹھ پر ایک بچے کو کمر بند سے باندھ کر رکھا ہوا تھا۔ بچے کی عمر تین سال لگ رہی تھی اور وہ گہری نیند سو رہا تھا۔ دس منٹ تک وہ ایسے ہی کھڑا رہا۔

Read more

فتح قسطنطنیہ (استنبول، ترکی)

سر پر بھاری پگڑی باندھے اور طلائی خلعت میں ملبوس 21 سال کے نوجوان سلطان نے اپنے سپاہیوں کو ترکی زبان میں مخاطب کیا: ’میرے دوستو اور بچو، آگے بڑھو، اپنے آپ کو ثابت کرنے کا لمحہ آ گیا ہے!‘ قسطنطنیہ کا قدیم نام بازنطین تھا۔ لیکن جب 330 عیسوی میں رومی قیصر کونسٹینٹائن اول نے اپنا دارالحکومت روم سے یہاں منتقل کیا تو شہر کا نام بدل کر اپنے نام کی مناسبت سے کونسٹینٹینوپل کر دیا، (جو عربوں کے

Read more

ہاتھی دانت کا تخت

آئیں میرے ساتھ آپ کو ایک عظیم الشان بادشاہ سے ملواتا ہوں۔ کچھ نہیں ہوا آپ کے لباس کو، ایسے ہی چلتے ہیں۔ جینز، ٹراؤزر، ٹی شرٹ، جو بھی پہن رکھا اس بات کی فکر نہ کریں۔ دربان کی جرأت نہیں ہو گی آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لے۔ بادشاہ کے بیٹے میرے دوست ہیں، وہ اور بات ہے کہ آپس میں دشمن ہیں۔

یہ دیکھیں قلعۂ معلی ہے۔ سبز پوش میدان ہے۔ اس میں موجود سب لوگ بادشاہ سے ملنے کے لیے ہی آئے ہیں۔ یہ ہاتھیوں کو دیکھو کیسے زربفت کی جھولیں اور سنہری عماریاں پہنے ہوئے ہیں۔ ظالم اپنے ہی نشے میں مست ہیں۔ آؤ آگے چلتے ہیں کہیں کوئی اتھرا ہاتھی ہمیں پہلے ہی سونڈ میں گھما کر جلاد کے پاس نہ پھینک دے۔ قلعہ کی فصیل پر دیکھو کیسے توپیں چڑھائی ہوئی ہیں۔ جیسے پوری رعایا ایک حکم سے مار دینی ہے۔

Read more

قتل آپ نے کیا یا آپ کے ہم شکل نے؟

آپ کبھی مادام تساؤ کے میوزیم میں یا کسی آرٹ گیلری میں جائیں، وہاں اپنی شکل کا مجسمہ یا پینٹنگ لگی دیکھیں۔ یہ منظر دیکھ کر دوبارہ اپنے آپ کا بغور آئینے میں جائزہ لیں، پھر ایک بار اس مجسمہ یا پینٹنگ کو دیکھیں اور آپ کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ جائیں کہ وہ آپ ہی ہیں۔ کیا واقعی یہ میرا مجسمہ یا میری پینٹنگ ہے؟ جی ہاں، یہ آپ ہی کا ہم شکل ہے، کیوں کہ آپ کی

Read more

مستنتڑ ہسین تسڑاڑ

اس تحریر کا عنوان پڑھنے میں یقیناً آپ کو تھوڑی سی مشکل پیش آئی ہوگی، روانی سے نہیں پڑھا جا رہا ہو گا۔ غالباً آپ سمجھ رہے ہیں یہ فارسی کا کوئی عنوان ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ پہلی بار یہ عنوان جب پڑھا جاتا تو ایسے ہی مشکل درپیش آتی ہے۔ لیکن جب اس میں چھپی پرتیں ظاہر ہونا شروع ہوتی، تو ہمارے لئے یہ عنوان بھی آسان ہو جاتا، ہم اسی عنوان سے دنیا بھی گھوم لیتے،

Read more

پھیکے خربوزے، میٹھے روزے اور شوال کا چاند

جب آپ فروٹ منڈی یا کسی فروٹ شاپ / ریڑھی سے خربوزے خریدتے ہیں تو آپ کا پہلا سوال اس خربوزے بیچنے والے سے یہ ہوتا ہے کہ ”بھائی میٹھے تو ہوں گے“ ، آپ کی تسلی کی خاطر وہ ایک دو خربوزوں کو آگے پیچھے کرے گا، ایک دو کو ہاتھ سے تھپ تھپائے گا، پھر جو دانہ آپ کو دینا ہو اس کو اپنے منہ کہ قریب کر کے کہے گا صاحب آپ کو بالکل میٹھے دانے نکال

Read more

چالیس روزے، کوہ طور اور تجلی

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہے جس کے روزے ہم پر فرض ہیں۔ ہم پر آسانی یہ ہے کہ ہمیں سحری اور افطاری کی برکات سے نوازا گیا ہے۔ سحری میں بھی روٹی/پراٹھا، سالن/دہی، دودھ/لسی وغیرہ اور افطاری میں بھی کھجور، مختلف اقسام کے فروٹ، میٹھے جوس یا شربت اور دیگر کھانے کی ڈشیں پیٹ بھر کر کھاتے۔ پچھلی امتوں کے لوگ جب روزہ رکھتے تھے وہ بہت طویل ہوتا تھا۔ اس میں ایک دن اور ایک رات میں صرف ایک مرتبہ ہی کچھ کھایا پیا جا سکتا تھا۔

Read more

پاکستان، ارطغرل اور حلیمہ باجی استغفراللہ

آج کل جس ڈرامہ کے چرچے ہیں ہر زبان پر، پاکستان اور ترکی کا تو معلوم ہے لیکن پوری دنیا کو بھی اس کی خبر ہو گئی۔ کائی قبیلہ والے کون ہیں، کیسے لڑتے تھے، کس خطہ زمین سے اٹھے اور دیکھتے دیکھتے کہاں تک چھا گئے، کس سلطنت کی بنیاد رکھی، دوست اور دشمن کے ساتھ سلوک، مذہبی اور معاشرتی معاملات، رسم ورواج وغیرہ کی سب تفصیلات تو اب اس ڈرامہ کو دیکھنے والوں کو یاد ہو چکی ہیں۔

Read more

اُف اور عاجزی ( ہیپی مدر ڈے )۔

” اور ہم کس کے لئے وہ کام کرتے ہیں جو نوبل انعامات دینے کا باعث بنتے ہیں، اگر ہم ماؤں کے لئے نہیں کرتے؟

یہ وہ الفاظ تھے جو 2003 ء میں ادب کا نوبل انعام جیتنے والے جے ایم کوئیٹزی نے ایک تقریب میں کہے اور اپنی والدہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا لہجہ، ان کے الفاظ، ان کے احساسات سب کچھ ان کے چہرہ سے عیاں ہو رہا تھا کہ وہ اس شاندار تقریب میں اپنی والدہ کی کمی کس قدر اپنے دل میں محسوس کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کی حسرت کر رہے تھے کہ اے کاش آج ان کی والدہ زندہ ہوتیں تو وہ جب ان کو کہتے، ”ماں، ماں، میں نے ایک انعام جیتا!“

تو ان کی والدہ ان سے مخاطب ہو کر کہتیں،
”میرے پیارے یہ بہت اچھا ہے، اب اپنی گاجر کو ٹھنڈا ہونے سے پہلے ہی کھا لو“
اپنے لفظوں کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا،
”میرے والدین کا دلی شکریہ، مجھے کتنا افسوس ہے کہ آپ آج یہاں نہیں“

Read more

اینٹ اور اطمینان

خلیفہ دوئم امیرالمومنین حضرت عمر فاروق (رض) کا ایک مشہور واقعہ تو ہم سب نے سُن رکھا ہو گا۔ جب روم کا سفیر مدینہ منورہ آتا ہے۔ اور خلیفہ کے محل کے بارے میں دریافت کرتا ہے۔ تو اس کو بتایا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کوئی محل نہیں ہے، وہ تو ایک جھونپڑے میں رہتاہے۔ سفیر اپنی حیرانی چھپاتے ہوئے ان سے ملاقات کی بابت دریافت کرتا ہے۔ تو اس کو مسجد نبوی کی راہ دکھا دی جاتی ہے۔

Read more

گیلیلو گلیلی اور مولانا طارق جمیل کی معافی

ہم میں سے اکثر لوگوں نے ایک مشہور و معروف تصویر ضرور دیکھ رکھی ہو گی۔ جس میں ایک سفید رنگ کا گول مینار ہے جو کہ ایک طرف کو جھکا ہوا ہے۔ اسی جھکاؤ کی وجہ سے اس کو لیننگ ٹاور (جھکا ہوا ٹاور) کہا جاتا ہے۔ یہ ٹاور کیتھڈرل چرچ کا حصہ ہے۔ اس کو مکمل ہونے میں دو سو سال لگ گئے تھے۔ اس کی تعمیر بارہویں صدی ( 1173 ء) میں شروع ہوئی اور مختلف مراحل

Read more

ہمارا اصل کھونٹا

ایک بکری چراگاہ میں چرتی ہوئی دُور نکل گئی، پیاس لگی تو پانی کی تلاش میں اور آگے بڑھ گئی، ڈھلوان میں اسے پانی محسوس ہوا، پیاس کی شدت تھی بکری نے فوراً چھلانگ لگائی لیکن اندازہ غلط ہو گیا، وہاں زمین دلدلی تھی۔ بکری دلدل میں پھنس گئی۔ اب وہ نکلنے کے لئے جتنا زور لگاتی اور دلدل میں دھنستی جاتی۔ بکری کی زندگی اور موت کی کشمکش جاری تھی کہ وہاں ایک بھیڑیا آگیا۔ بکری نے جب اس کو دیکھا تو اور خوف زدہ ہو گئی۔ ابھی ایک مصیبت سے نکل نہیں ہو رہا تھا کہ اب موت اور سفاکی کے ساتھ سامنے آن کھڑی ہو ئی۔ بکری نے آسمان کی طرف دیکھا، زیادہ گھاس کی لالچ میں اپنے ریوڑ سے الگ ہونے پر پشیمان ہوئی۔ ہائے افسوس میں اپنے مالک کی نگاہوں میں رہتی، میں گروہ سے الگ نہ ہوتی۔ اے کاش میں زیادہ چارہ کی حرص میں اندھی نہ ہوتی۔

Read more

کرونا کا قرنطینہ: شاہ زیب راہجو پہ کیا بیتی؟

قرنطینہ یا قیدِ طبّی یا جبری حراست ایسی پابندی ہوتی ہے جو وبائی بیماریوں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لگائی جاتی ہے۔ کسی وبائی مرض کے پھیلنے کی صورت میں متاثرہ علاقے سے آنے والے لوگوں کو مخصوص مدت کے لیے قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے اور اُن کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ اُن میں مرض کے جراثیم ہوں تو سامنے آ جائیں۔ موجودہ صورتحال میں دنیا ایک مرتبہ پھر قرنطینہ بنتی نظر آرہی ہے۔ کبھی برص، کبھی

Read more

معاشرتی اقدار میں توازن کی ضرورت

بہار کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ کالے بادلوں نے اپنی اپنی منزلوں کے لئے رخت سفر باندھ لیا ہے۔ جانے سے پہلے خوب روئے ہیں، لیکن واپسی بھی ضروری ہے، پھر آئیں گے۔ اب ان کی جگہ دودھیا رنگ کے بادل ایک دوسرے کو پکڑنے کی کوشش میں نیلے آسمان پر بھاگنا شروع کر دیں گے۔ درختوں کے پتے ٹہنیوں سے سر نکال رہے ہیں، پرندے اپنے گھونسلوں سے نکلنے کے لئے انگرائیاں لے رہے ہیں، انڈوں میں سے

Read more

گھرونا وائرس

آ۔ آ۔ آچھ۔ آچھییینن۔ ین۔ ین۔ ی۔ شکر الحمدووواللہ۔ یہ میری پچھلے پندرہ منٹوں میں اُنیسویں چھینک تھی۔ رات کھانسی کا دورہ پڑا تھا لیکن نیند کی شدت سے پتہ نہیں لگا وہ کیسے رُک گیا تھا، یا ہو سکتا ہے دوبارہ کھانسی آئی ہی نا ہو۔ ورنہ ایک گھنٹے میں تین چار مرتبہ تو دائیں سے بائیں کروٹ بدل لیتی تھی۔ رات وہ بھی نہیں بدل سکی۔ اب یہ دو دن سے بخار کی نقاہت کا اثر تھا یا

Read more

اگلے سو سال

میں صبح سو کر اٹھنے کی کوشش میں تھا، پورا جسم مفلوج تھا، دل کی دھڑکن سے زندگی کے آثار ملے، انگرائی لینے کی ناکام سی کوشش کی۔ اِک آنکھ میں ابھی نیند باقی تھی، دوسری آنکھ میں نے زبردستی کھول لی، تب محسوس ہوا، دل تو دھڑک رہا ہے لیکن سانس نہیں چل رہی۔ مشینی انداز میں ہاتھ سے سانسوں کی تلاش شروع کی، تکیہ کے نیچے سے موبائل اٹھایا، سانس بحال ہوئی۔ موبائل سے پھوٹتی ہوئی روشنی کی

Read more

مادری زبان اور پنجابی سیکھنے والا انگریز طالب علم

سینٹ رافیل ہسپتال (فیصل آباد) میں سفید لباس میں مَلبوس نرس، جس نے اپنا آدھا چہرہ ماسک سے ڈھانپ رکھا تھا، ہاتھ میں اک ننھی روح پکڑے ہوئے، جو ابھی کائنات میں اُتری تھی، مسلسل اپنی مخصوص آواز میں ”اوئیں اوئیں“ کر رہی تھی، نرس نے اس نرم وجود کو اُس کی ماں کی آنکھوں کے قریب کیا، ماں نے موت کی شِدت جیسی تکلیف میں بھی مُسکرا کے اُس شبنم کے قطروں میں بھیگے ہوئے پھول کو دیکھا، آنکھیں

Read more

امریکی جج فرینک کیپریو کی ہردلعزیزی

جج صاحب کا نام فرانسسکو کیپریو ہے، نِک نیم فرینک ہے، کچھ لوگ کیپری بھی کہتے ہیں، جو زیادہ فرینک ہیں وہ فرینکی بھی کہتے ہیں۔ لیکن ہم چونکہ پاکستان میں ہیں، توہین عدالت کے ڈر سے، بھاری جرمانہ، جیل یاترا سے بچنے کے لئے اور اپنی سرکاری نوکری بچانے کے لئے میں تو ان کو محترم جج صاحب ہی کہوں گا۔ جج صاحب کے نام اور میٹھے اندازِ گفتگو میں سے جو اطالوی (اٹلی) جزیروں کی خوشبو آتی ہے

Read more

تمھارا ویلنٹائن

رومن ایمپائر جیسے جیسے سکڑتی جا رہی تھی ویسے ویسے بادشاہ کی اپنے گہرے سرخ رنگ کے پتھروں سے بنے محل کی خواب گاہ میں نیند کم ہوتی جا رہی تھی، بادشاہ اب رومن ایمپائر کی سرحدیں محفوظ بنانے کے لئے جوان خون کا ایک بہادر، چاک وچوبند، مستعد فوجی دستہ چاہتا تھا، جس کو ہم آسان الفاظ میں باڈر سیکورٹی فورس کہہ سکتے ہیں۔ وزیر کو یہ ٹاسک سونپا گیا اور معاونت کے لئے پولیس چیف کو کہا۔ ایک

Read more

رنگ ساز

یہ ستمبر 2019 ء کی بات ہے۔ گھر کی دیواریں، چھتیں، کھڑکیاں اور دروازے ایک دفعہ پھر اپنے اوپر رنگ وروغن کروانے کی دُہائی دے رہے تھے لہذا اِن کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اپنے پرانے قابل اعتماد رنگ ساز جس کی انگلش ”پینٹر“ بنتی ہے، اس کو بُلا کے ان کا واویلا سنایا گیا اور ہدایت جاری کی ”پورے گھر کو رنگ چڑھا کے لَش پَش کر دیا جائے“۔ رنگ ساز اور اس کے باقی ساتھیوں نے حسب

Read more

ٹرمپ کی ثالثی برائے فلسطین و کشمیر

مشہور زمانہ فلم ”گاڈ فادر“ کا چوتھا پارٹ جب پاکستان میں ریلیز ہوا تو وزیر اعظم نواز شریف اس فلم کے اہم کردار ہونے کی وجہ سے سابقہ وزیر اعظم بن گئے اور جی ٹی روڈ یعنی کے جرنیلی ٹرنک روڈ پہ سفر کے دوران اپنے ہاتھوں کی آٹھ انگلیاں اور دو انگوٹھے عوام کی طرف کر تے ہوئے لیکن اپنی نظریں چُراتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھتے رہے کہ ”کیوں نکالا مجھے“۔ نظریں چُرانے کا یہ عمل دراصل کسی

Read more

فلم روڈ ٹو پرڈیشن کا ریویو

شگاگو، امریکہ کا نام سنتے ہی کسی دور میں ذہن پہ اک دھندلا سا خاکہ جو ابھر کے سامنے آتا تھا وہ انڈر ورلڈ مافیا، کرائم، ڈرگز ڈیلنگ، قتل کے نئے سے نئے طریقے اور گینگ لارڈز کی چھوٹے اوروسیع پیمانے پہ نو گو ایریاز بنانے کے لئے جھڑپیں خصوصاً اٹالین اور آئرش گینگ کا ہوتا تھا۔ اٹالین۔ امریکن مافیا کا ذکر کیا جائے تو شگاگو کا بے تاج بادشاہ ڈان ال کپون تھا۔ جس نے بہت ہی کم عرصہ

Read more

Review of Film ( دی واٹر ڈیوائنر) ۔۔(The Water Diviner (2014

جنگ عظیم اؤل میں ترکی کے دارالحکومت کانسٹنٹی نوپل ( نیا نام استنبول ) پہ قبضہ کے لئے اور روس تک سپلائی لائن قائم کرنے کے لئے ترک علاقے گالپولی میں تقریباً آٹھ ماہ اوٹامن ( ترک ) افواج اور اتحادی افواج میں شدید ترین لڑائی ہوتی رہی جس میں دونوں اطراف سے پوری طاقت اور تیاری کے ساتھ مختلف بٹالین میدان میں اتاری گئیں، فرانس کے بھاری توپ خانے سمیت برطانیہ کے ائر کرافٹ نے ہر طرف سے لگاتار

Read more

فلم ٹوگو کا ریویو

الاسکا، برف کی دبیز تہیں، برفانی خم دار گھاٹیوں کا لامتناہی سلسلہ، جیسے کوئی پری چاندی کی چادر اوڑھے محوّ استراحت ہو۔ جب ہواؤں کے جھکڑ چلتے ہیں تو ٹنوں کے حساب سے برستے روئی کے گالے قطار در قطار باریک چادر بناتے چلے جاتے ہیں۔ طوفان کے دنوں میں تو جب ہوا کا دباؤ بھی ایک سو دس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھتا ہے تو اندھیرے کی ایسی لہر چھا جاتی ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی

Read more