پھیکے خربوزے، میٹھے روزے اور شوال کا چاند

جب آپ فروٹ منڈی یا کسی فروٹ شاپ / ریڑھی سے خربوزے خریدتے ہیں تو آپ کا پہلا سوال اس خربوزے بیچنے والے سے یہ ہوتا ہے کہ ”بھائی میٹھے تو ہوں گے“ ، آپ کی تسلی کی خاطر وہ ایک دو خربوزوں کو آگے پیچھے کرے گا، ایک دو کو ہاتھ سے تھپ تھپائے…

Read more

چالیس روزے، کوہ طور اور تجلی

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہے جس کے روزے ہم پر فرض ہیں۔ ہم پر آسانی یہ ہے کہ ہمیں سحری اور افطاری کی برکات سے نوازا گیا ہے۔ سحری میں بھی روٹی/پراٹھا، سالن/دہی، دودھ/لسی وغیرہ اور افطاری میں بھی کھجور، مختلف اقسام کے فروٹ، میٹھے جوس یا شربت اور دیگر کھانے کی ڈشیں پیٹ بھر کر کھاتے۔ پچھلی امتوں کے لوگ جب روزہ رکھتے تھے وہ بہت طویل ہوتا تھا۔ اس میں ایک دن اور ایک رات میں صرف ایک مرتبہ ہی کچھ کھایا پیا جا سکتا تھا۔

Read more

پاکستان، ارطغرل اور حلیمہ باجی استغفراللہ

آج کل جس ڈرامہ کے چرچے ہیں ہر زبان پر، پاکستان اور ترکی کا تو معلوم ہے لیکن پوری دنیا کو بھی اس کی خبر ہو گئی۔ کائی قبیلہ والے کون ہیں، کیسے لڑتے تھے، کس خطہ زمین سے اٹھے اور دیکھتے دیکھتے کہاں تک چھا گئے، کس سلطنت کی بنیاد رکھی، دوست اور دشمن…

Read more

اُف اور عاجزی ( ہیپی مدر ڈے )۔

” اور ہم کس کے لئے وہ کام کرتے ہیں جو نوبل انعامات دینے کا باعث بنتے ہیں، اگر ہم ماؤں کے لئے نہیں کرتے؟

یہ وہ الفاظ تھے جو 2003 ء میں ادب کا نوبل انعام جیتنے والے جے ایم کوئیٹزی نے ایک تقریب میں کہے اور اپنی والدہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا لہجہ، ان کے الفاظ، ان کے احساسات سب کچھ ان کے چہرہ سے عیاں ہو رہا تھا کہ وہ اس شاندار تقریب میں اپنی والدہ کی کمی کس قدر اپنے دل میں محسوس کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کی حسرت کر رہے تھے کہ اے کاش آج ان کی والدہ زندہ ہوتیں تو وہ جب ان کو کہتے، ”ماں، ماں، میں نے ایک انعام جیتا!“

تو ان کی والدہ ان سے مخاطب ہو کر کہتیں،
”میرے پیارے یہ بہت اچھا ہے، اب اپنی گاجر کو ٹھنڈا ہونے سے پہلے ہی کھا لو“
اپنے لفظوں کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا،
”میرے والدین کا دلی شکریہ، مجھے کتنا افسوس ہے کہ آپ آج یہاں نہیں“

Read more

اینٹ اور اطمینان

خلیفہ دوئم امیرالمومنین حضرت عمر فاروق (رض) کا ایک مشہور واقعہ تو ہم سب نے سُن رکھا ہو گا۔ جب روم کا سفیر مدینہ منورہ آتا ہے۔ اور خلیفہ کے محل کے بارے میں دریافت کرتا ہے۔ تو اس کو بتایا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کوئی محل نہیں ہے، وہ تو ایک جھونپڑے میں…

Read more

گیلیلو گلیلی اور مولانا طارق جمیل کی معافی

ہم میں سے اکثر لوگوں نے ایک مشہور و معروف تصویر ضرور دیکھ رکھی ہو گی۔ جس میں ایک سفید رنگ کا گول مینار ہے جو کہ ایک طرف کو جھکا ہوا ہے۔ اسی جھکاؤ کی وجہ سے اس کو لیننگ ٹاور (جھکا ہوا ٹاور) کہا جاتا ہے۔ یہ ٹاور کیتھڈرل چرچ کا حصہ ہے۔…

Read more

ہمارا اصل کھونٹا

ایک بکری چراگاہ میں چرتی ہوئی دُور نکل گئی، پیاس لگی تو پانی کی تلاش میں اور آگے بڑھ گئی، ڈھلوان میں اسے پانی محسوس ہوا، پیاس کی شدت تھی بکری نے فوراً چھلانگ لگائی لیکن اندازہ غلط ہو گیا، وہاں زمین دلدلی تھی۔ بکری دلدل میں پھنس گئی۔ اب وہ نکلنے کے لئے جتنا زور لگاتی اور دلدل میں دھنستی جاتی۔ بکری کی زندگی اور موت کی کشمکش جاری تھی کہ وہاں ایک بھیڑیا آگیا۔ بکری نے جب اس کو دیکھا تو اور خوف زدہ ہو گئی۔ ابھی ایک مصیبت سے نکل نہیں ہو رہا تھا کہ اب موت اور سفاکی کے ساتھ سامنے آن کھڑی ہو ئی۔ بکری نے آسمان کی طرف دیکھا، زیادہ گھاس کی لالچ میں اپنے ریوڑ سے الگ ہونے پر پشیمان ہوئی۔ ہائے افسوس میں اپنے مالک کی نگاہوں میں رہتی، میں گروہ سے الگ نہ ہوتی۔ اے کاش میں زیادہ چارہ کی حرص میں اندھی نہ ہوتی۔

Read more

کرونا کا قرنطینہ: شاہ زیب راہجو پہ کیا بیتی؟

قرنطینہ یا قیدِ طبّی یا جبری حراست ایسی پابندی ہوتی ہے جو وبائی بیماریوں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لگائی جاتی ہے۔ کسی وبائی مرض کے پھیلنے کی صورت میں متاثرہ علاقے سے آنے والے لوگوں کو مخصوص مدت کے لیے قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے اور اُن کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ…

Read more

معاشرتی اقدار میں توازن کی ضرورت

بہار کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ کالے بادلوں نے اپنی اپنی منزلوں کے لئے رخت سفر باندھ لیا ہے۔ جانے سے پہلے خوب روئے ہیں، لیکن واپسی بھی ضروری ہے، پھر آئیں گے۔ اب ان کی جگہ دودھیا رنگ کے بادل ایک دوسرے کو پکڑنے کی کوشش میں نیلے آسمان پر بھاگنا شروع کر…

Read more

گھرونا وائرس

آ۔ آ۔ آچھ۔ آچھییینن۔ ین۔ ین۔ ی۔ شکر الحمدووواللہ۔ یہ میری پچھلے پندرہ منٹوں میں اُنیسویں چھینک تھی۔ رات کھانسی کا دورہ پڑا تھا لیکن نیند کی شدت سے پتہ نہیں لگا وہ کیسے رُک گیا تھا، یا ہو سکتا ہے دوبارہ کھانسی آئی ہی نا ہو۔ ورنہ ایک گھنٹے میں تین چار مرتبہ تو…

Read more