چین ایک “فائٹر” ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2019 میں ہالی ووڈ میں ایک فلم بنی تھی جس کا نام تھا ”بریک تھرو“ یہ فلم ایک حقیقی واقعے پر مبنی ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ جاش نامی ایک چودہ پندرہ سالہ لڑکا جو باسکٹ بال کا اچھا کھلاڑی بھی ہے وہ ایک دن پریکٹس کے بعد اپنے دو دوستوں کے ساتھ گھر جا رہا ہے۔ ہنستے کھیلتے وہ علاقے کی منجمد جھیل پر پہنچ جاتے ہیں یک دم جمی ہوئی برف کی پتلی سطح ٹوٹتی ہے اور تینوں لڑکے یخ بستہ پانی میں ڈوبنے لگتے ہیں۔ قریب موجود لوگ فوری طور پر امدادی ٹیم کو بلاتے ہیں اس دوران دو لڑکے تو باہر نکل آتے ہیں لیکن جاش تہہ میں اترتا جاتا ہے، پندرہ منٹ تک خون جما دینے والے ٹھنڈے پانی میں ڈوبے رہنے کے بعد امدادی ٹیم اسے تہہ سے نکالتی ہے تو اس کی نبض نہیں چل رہی ہوتی، زندگی کے کوئی آثار نہیں نظر آرہے۔

فوری طور پر اسے ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے ڈاکٹر ہر طریقہ آزماتے ہیں کہ کسی طرح اس کی نبض چلے مگر ناکام رہتے ہیں۔ اس دوران اس کی ماں جس کو اطلاع کر دی گئی ہوتی ہے وہ ہسپتال پہنچتی ہے، ڈاکٹر اپنی آخری کوشش کر رہے ہیں، مایوسی ان کے چہرے پر نظر آرہی ہے، ماں تڑپ کر بیٹے تک پہنچتی ہے اور اس کا ہاتھ تھام کر روتے ہوئے کہتی ہے، تم آنکھیں کھولو، تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے، تم تو بچپن سے ایک فائٹر رہے ہو، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ بس پندرہ منٹ پانی میں رہے اور ہار گئے، تم ہمت کرو دیکھو میں تمہارے ساتھ ہوں، یک دم جاش کے جسم سے جڑی مشینوں پر زندگی کی لکیر میں حرکت ہوتی ہے، ڈاکٹر چونک کر آگے بڑھتے ہیں، مشین پر اوپر نیچے حرکت کرتی لکیرزندگی کا پتہ دے رہی ہے، فوری طور پر اس کو نیورو سرجن کے زیرِ علاج لایا جاتا ہے، تمام رپورٹس آتی ہیں ڈاکٹر اس کی رپورٹس دیکھ کر آپس میں بات کررہے ہیں کہ پتہ نہیں اس کی ماں کیوں بضد ہے کہ اس کا علاج کیا جائے اس کا دماغ اور اعصابی نظام بری طرح تباہ ہو چکا ہے، خون کے سرخ و سفید خلیوں کا تناسب خطرناک حد تک بگڑ گیا ہے تھنڈے پانی نے پھپھڑوں کو ختم کر دیا ہے، یہ زندہ نہیں بچے گا، بے جان وجود کی طرف دیکھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں افسوس کا احساس ہے، ماں دروازے میں کھڑی سب کچھ سن رہی ہے۔

وہ نہایت غصے مگر ضبط کے ساتھ ان ڈاکٹرز کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے کہ میرا بیٹا ہوش میں نہیں مگر زندہ ہے، وہ اپنے اندر زندگی کی طرف واپس آنے کی جنگ لڑ رہا ہے اور تم اس کے سرہانے کھڑے اس کی موت کی باتیں کر رہے ہو، تم اسے مایوس کر رہے ہو کہ وہ کوشش چھوڑ دے اس کوشش کا کوئی فائدہ نہیں؟ آج کے بعد میرے بیٹے کے کمرے کے قریب بھی مایوسی کی کوئی بات سنائی نہ دے مجھے۔ وہ دن رات اپنے بیٹے کا ہاتھ تھامے بار بار چند جملے دہراتی یے، ”مجھے تم پر یقین ہے، تم ایک فائٹر ہو، میں تمہارے ساتھ کھڑی ہوں، تم ہمت نہیں ہار سکتے، میں تمہارے ساتھ ہوں۔

اور پھر جب سب مایوس ہو چکے ہیں اور اس کو مشینوں سے ہٹا دینے کا سوچ رہے ہیں تو اس بے جان وجود میں حرکت ہوتی ہے آنکھ کے کنارے سے آنسو ٹپکتا ہے اوروہ ایک بار پھر زندگی کی طرف پلٹ آتا ہے، سب میں خوشی کی لہر دوڑ، ڈاکٹر حیران ہیں یہ ایک معجزہ ہے، مشینیں ہٹا دی گئیں بس اب صحت کی بحالی میں کچھ دن چاہئیں اور چند دن بعد جاش ایک مرتبہ پھر میدان میں اترتا ہے وہ پہلے سے زیادہ شاندار کھیل پیش کر کے ثابت کرتا ہے کہ وہ واقعی ”فائٹر“ ہے

اب اس فلم کی کہانی کا میرے کالم اور چین سے کیا تعلق، بالکل سیدھا سادا سا تعلق ہے، آپ جاش کو چین اور اس کا شہر ووہان سمجھ لیجیے ہنستا کھیلتا زندگی سے بھرپور شہر جو جشنِ بہار منانے کے لیے روشنیاں سجائے نئے سال کا استقبال کرنے کو تیار ہے کہ اچانک ایک وبا پھوٹتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پہلے شہر اور پھر پورا صوبہ لاک ڈاون ہو جاتا ہے، سڑکیں خالی، لوگ جیسے سہم گئے زندگی نظر نہیں آرہی، وہ ماں، چینی حکومت اور عوام کی نمائندگی کر رہی ہے ووہان کی مدد کو ملک کے ہر کونے سے طبی عملہ پہنچا، اس کا ہاتھ تھاما اور کہا ووہان، ہم تمہارے ساتھ ہیں، حکومت نے کہا ہمت کرو میں ہر طرح سے تمہارا ساتھ دینے کے لیے موجود ہوں، ملکی و غیر ملکی رضاکاروں نے ہاتھ تھاما اور کہا تم ہمت کرو ہم مل کر مقابلہ کریں گے۔

ووہان اپنے اندر زندگی کی طرف واپس آنے کی جنگ لڑ رہا تھا، حکومت عوام اور دوست ممالک اس کے لیے دعا کر رہے تھے ایسے میں کچھ مغربی ذرائع ابلاغ نے وہی کردار ادا کیا جو ان ڈاکٹرز کا تھا، مایوسی اور خوف پھیلانے کا کام، ہمت توڑنے کا کام جھوٹی اور بے بنیاد خبریں پھیلائی گئیں، ویڈیو ایڈیٹنگ کے ذریعے تکلیف دہ حد تک پریشان کر دینے والے جھوٹے واقعات کی منظر کشی کی گئی یہ سب باتیں چین دیکھ رہا تھا، سن رہا تھا مگر ووہان کی ہمت نہیں ٹوٹنے دے رہا تھا، اس کو کہہ رہا تھا کہ ”ووہان ہمت کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں“ اور پھر حکومت عوام اور خاص طور پر ووہان نے ثابت کیا کہ وہ فائٹر ہیں، دس مارچ کو چینی صدر شی جن پھنگ نے ووہان کو دورہ کیا ہسپتال میں مریضوں اور طبی عملے سے ملے، کمیونٹی میں عوام سے ملے اور دنیا کو واضح پیغام دیا کہ، زندگی واپس آچکی ہے، فائٹر نے یہ جنگ جیت لی ہے، بیماری کے خلاف، مایوس کر دینے والوں کے خلاف، افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف، اس مشکل کے وقت میں ہمت توڑنے والوں کے خلاف۔ اس وقت علاج کے لیے بنائے گئے خصوصی عارضی ہسپتال ختم ہو گئے ہیں ووہان کے ڈاکٹرز نے دو ماہ سے پہنے ہوئے ماسک ہٹا دیے ہیں، بس اب بحالی کا کام احتیاط کے ساتھ جاری ہے تاکہ ووہان اور چین ایک مرتبہ پھر میدان میں اتریں اور ثابت کر دیں کہ وہ واقعی ”فائٹر“ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سارہ افضل کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *