کرونا وائرس، کیا تافتان میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وبا ناصرف پاکستان میں داخل ہوچکی ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس عالمی وبا کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ہمسایہ ملک ایران کے تقریباً تمام صوبوں میں مہلک وائرس پھیل چکا ہے، اس سے اموات میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، بڑی تعداد میں ایرانی شہری اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیں، پاکستان کے اندر وائرس زائرین کے ذریعے منتقل ہوا، جو اس دوران ایران کے مقدس مقامات کی زیارت کو گئے تھے۔

ایران کے شہر قم کے اندر جب کرونا پھیلنے کی اطلاعات عام ہوئیں تو حکومت پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنی سرحد بند کردی، اس وقت تک ایران کے اندر غالباً ساڑھے 5 ہزار زائرین موجود تھے، اسی طرح تاجروں، مزدوروں، مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور کلینرز وغیرہ کی ایک بڑی تعداد بھی پاکستان میں داخل ہونے کیلئے ایرانی سرحد پر مقیم ہو گئے، جس کے بعد ایران کے مختلف علاقوں سے پاکستان سے تعلق رکھنے والے زائرین بھی وہاں پہنچنے لگے۔

حکومت نے 28 فروری کو ان زائرین کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دیدی، پاک ایران سرحدی علاقے تفتان میں پاکستان ہاﺅس کو ان تمام افراد کو رکھنے کیلئے قرنطینہ میں تبدیل کردیا گیا۔ آغاز میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو، ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران زرکون، بعد ازاں وزیراعظم کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سمیت دیگر حکام بھی تفتان گئے، جہاں بتایا گیا کہ حکومت نے اپنے طور پر حفاظتی اقدامات کرلئے۔

اسی دوران کوئٹہ سے پی ڈی ایم اے کی جانب سے چند من پسند صحافیوں کو تفتان لے جایا گیا اور ان کے ذریعے سب او۔کے کی رپورٹس ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر نشر کروائی گئیں۔ میڈیا کے چند افراد نوازشات کے بدلے اداروں اور محکموں کی تعریف میں لگے رہتے ہیں۔

یقیناً وزیراعلیٰ بلوچستان اس تناظر میں کئی اہم اور اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد کرچکے ہیں، وقتاً فوقتاً جائزہ اور مزید اقدامات کیلئے اجلاس بھی کئے جاتے ہیں۔

تفتان کا قرنطینہ مرکز کیا ہے، بس خیمہ بستی قائم کی گئی ہے جہاں نہ موسم کے اثرات سے بچاﺅ کا بندوبست ہے نہ صاف پانی اور نہ ہی بیت الخلاء میں صفائی کا کوئی مناسب انتظام۔ اس خیمہ بستی میں رہنے والے افراد کے سونے کیلئے بھی ناقص یعنی غیر معیاری فوم فراہم کئے گئے جبکہ کھانے کا معیار بھی انتہائی خراب تھا۔ ناقص کھانے اور رہنے کے نامناسب انتظام پر زائرین مسلسل احتجاج کرتے رہے۔

یہ محض الزام نہیں بلکہ خود زائرین میڈیا پر آکر تمام حالات دکھا اور بتا چکے ہیں۔ پاکستان ہاﺅس میں موجود 2 ہزار کے قریب زائرین کی آپس میں ملنے جلنے پر کوئی پابندی نہیں تھی اور وہ سب اکٹھے رہ رہے تھے بلکہ بڑے ہال نما کمروں میں تو سینکڑوں افراد کو ایک ساتھ رکھا گیا، ماسک کی فراہمی بھی پوری طرح یقینی نہیں بنائی گئی۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے این 95 ماسک انتہائی مہنگے داموں خریدنے کی اطلاعات ہیں۔

ایسے حالات سے مجبور ہوکر زائرین نے احتجاج کیا کہ انہیں گھروں کو جانے دیا جائے، سینکڑوں کی تعداد میں باہر نکل کر تفتان بازار پہنچے اور مظاہرہ کیا، درجنوں کی تعداد میں زائرین اور ایران سے واپس آنیوالے افراد حکومتی اہلکاروں سے چھپ کر کوئٹہ اور ملک کے دوسرے شہروں تک فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوئے، 100 سے زائد ایسے افراد کو پکڑا گیا اور ان کیلئے کوئٹہ کے نواح میں شہر سے 20 کلو میٹر دور میاں غنڈی کے مقام پر قرنطینہ خیمہ سینٹر بنایا گیا۔

ان دنوں کوئٹہ سردی کی لپیٹ میں ہے، ایسے وقت میں سینٹر میں رکھے گئے لوگوں کیلئے کوئی سہولیات موجود نہ تھیں اور متعلقہ محکمے سب کچھ ٹھیک کا ورد کرتے رہے۔

کوئٹہ کے شیخ زید اسپتال، فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل اسپتال میں کرونا کے مریضوں کیلئے آئسولیشن وارڈ قائم کرلئے گئے، فاطمہ جناح اسپتال میں کئی دن تک محض 2 ڈاکٹر ڈیوٹی پر تھے، باقی بیماری کے خوف سے غیر حاضر تھے، بعد ازاں ان کی حاضری یقینی بنائی گئی۔ اس اسپتال کے اندر آئسولیشن وارڈ عین بیچ میں قائم ہے، جہاں دوسرے مریضوں، تیمار داروں، اسپتال کے عملے کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔

شیخ زید اسپتال کے اندر ڈاکٹروں اور دوسرے اسٹاف نے ڈیوٹی دینے سے انکار کردیا، جس پر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوئی، کوئٹہ کے فاطمہ جناح اور شیخ زید اسپتالوں میں ڈاکٹر اور عملے کو کٹس اور دیگر حفاظتی سامان فراہم نہیں کئے گئے۔ فاطمہ جناح چیسٹ اسپتال میں تشخیصی کٹس بھی ختم ہوگئیں، بعد میں انتہائی قلیل تعداد میں کٹس فراہم کی گئیں۔

سندھ کے ضلع دادو سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو لایا گیا جن کے ایک فرد (12 سالہ بچے) میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوگئی، بچے کو علاج کیلئے آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا مگر خاندان کے دیگر افراد کو صرف یہ کہہ کر کہ ان کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں گھر جانے دیا گیا۔

خود ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ وائرس 14 دن بعد ظاہر ہوتا ہے، یہی کچھ تفتان کے قرنطینہ میں ہوتا رہا ہے، ان افراد کو قرنطینہ میں رکھا مگر ٹیسٹ نہ کیا گیا، محض تھرمل گنز سے جسمانی درجہ حرارت چیک کئے جاتے رہے۔ خود وزیر داخلہ ضیاء لانگو کہہ چکے ہیں کہ ان کے پاس مشینری مینول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سے اب رپورٹ ہونیوالے کیسز کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدیں بند تو کردی گئی ہیں لیکن دونوں سرحدوں پر غیر روایتی راستوں سے لوگوں کی آمد و رفت جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے نوٹس تو لیا مگر سچی بات یہ ہے کہ عملدرآمد نہیں ہورہا، پیسے لیکر لوگوں کو چھوڑا جاتا ہے، افغانستان کے اندر فی کس 5 ہزار لے کر پاکستان سے لوگوں کو چھوڑا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان سے رقم کے بدلے لوگوں کو آنے نہ دیا گیا ہو گا؟

کوئٹہ اور صوبے کے مختلف علاقوں میں سیاسی و سماجی حلقوں نے صورتحال پر احتجاج کیا۔ حکومت سے مطالبہ کیا کہ زائرین کو فوری طور پر اپنے علاقوں میں منتقل کیا جائے، حکومت نے اس سے پہلے زائرین کو کوئٹہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، مگر عوامی احتجاج کے بعد باقی صوبوں کے زائرین کو ان کے اپنے آبائی علاقوں کو روانہ کیا گیا اور کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے 400 سے زائد زائرین کو میاں غنڈی کے قرنطینہ سینٹر میں رکھا گیا۔

حکومت بلوچستان نے 13 مارچ کو بتایا کہ 1828 افراد کو تفتان میں 14 روزہ قرنطینہ کی مدت پوری ہونے کے بعد 55 بسوں سے ان کے علاقوں کو روانہ کردیا گیا۔

صوبائی حکومت نے تمام تعلیمی ادارے 31 مارچ تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے، صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کرکے 10 یا 10 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کردی گئی۔ احتیاطی تدابیر کی ایڈوائزری بھی جاری کردی گئی ہے۔ عوام کو صفائی کا خاص خیال رکھنے، گھروں میں رہنے کو ترجیح دینے اور ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کی ہدای کی گئی ہے۔ محکمہ صحت، داخلہ، خزانہ، ایس اینڈ جی اے ڈی اور ترقی و منصوبہ بندی کے علاوہ سول سیکریٹریٹ کے انتظامی محکموں اور صوبہ بھر کے تمام تحصیل دفاتر اور ریونیو عدالتوں کو 22 مارچ تک بند کردیا گیا۔

کرونا وائرس پھیلنے کے بچاؤ کیلئے سول سیکریٹریٹ میں ملازمین کے علاوہ عام افراد کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی، صوبے بھر کی جیلوں میں ملاقاتیوں پر پابندی عائد کردی گئی۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے بھی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے قیدیوں کو کیسوں میں حاضری سے استثنا دے دیا گیا، مؤکلین پر ہائیکورٹ اور سول کورٹس میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی، نئے کیسوں کی وصولی عدالت کے مرکزی دروازوں پر کی جائے گی۔ اسپتال اور محکمہ صحت کے دیگر مراکز کے اندر آﺅٹ ڈور اور ان ڈور مریضوں کے ساتھ صرف ایک تیمار دار کی اجازت ہو گی۔

بہر حال غفلت ہوئی ہے بلکہ ہو رہی ہے، ہر سطح پر ہو رہی ہے، کرونا وائرس ملک میں داخل ہو چکا ہے، کوئٹہ اور سندھ کے اندر متاثرہ تمام افراد وہ ہیں جو تفتان سے بھیجے گئے ہیں، ظاہر ہے زائرین کے مطلوب ٹیسٹ نہیں کئے گئے، محض اسکریننگ کے نام پر ڈرامہ بازی ہوتی رہی، معلوم نہیں اس ناقص نظام، سہولیات کی عدم دستیابی میں اس وبا کا مقابلہ کیسے ہو گا؟۔

سر دست چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل نے درپیش صورتحال پر توجہ دے رکھی ہے، بعض پہلوؤں پر نوٹس لے چکے ہیں، 17 مارچ کی سماعت میں ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران زرکون، سیکریٹری صحت مدثر وحید ملک اور دیگر حکام پیش ہوئے۔ عدالت نے کرونا کی روک تھام کے حوالے سے ڈی جی پی ڈی ایم اے اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ قرنطینہ سینٹرز میں مناسب انتطامات نہیں کئے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران زرکون پر واضح کیا کہ آپ کی کارکردگی درست نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ نیب اور دوسرے مجاز محکمے اس دوران مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ بدعنوانیوں کی فوری تحقیات کا آغاز بھی کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *