اٹلی کے شہر میلان کی بالکونی میں بیٹھی ریٹا اسمتھ کی یاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اِن وبائی دنوں میں وہ مجھے یاد آتی ہے۔ دروازے کا پٹ ہاتھ میں تھامے نرم و ملائم نقش و نگار سجے چہرے اور نیلی کچور آنکھوں والی جو مجھے دیکھتے ہی چنبیلی کی طرح مسکراتی تھی۔ اٹلی میں کرونا وائرس کی سنگینی بہت زیادہ ہے۔ خوفناک بیماری اور ہلاکتیں تو اپنی جگہ مگر یہ رویہ کہ بوڑھوں کو مرنے دو بڑا سنگدلانہ ہے۔ ایسے میں مجھے وہ یاد ہی نہیں آتی بلکہ میری آنکھوں کو بھی گیلا کرجاتی ہے۔

یہ اٹلی کے شہر میلان کا مضافاتی کمیون یعنی قصبہ چیزاتے کا ایک فلیٹ ہے جہاں میں مسز ریٹا سمتھ سے ملنے آئی ہوں۔

ابھی کوئی تین گھنٹے قبل میلان پہنچی ہوں۔ میزبان فیملی نے شام کی چائے پر بتایا تھا کہ نچلے فلور پر ایک پجھتّر 75 سالہ خاتون جس کے گھر میں کتابوں کے انبار ہیں رہتی ہے۔ مہربان اور شفیق سی عورت جس کی ایک بار بیماری کے دوران ہم دونوں میاں بیوی نے اس کا بہت خیال کیا۔

رضیہ ہنسی اورمجھ سے مخاطب ہوئی۔

” میں نے جب پہلی بار روغن زیتون سے ان کی ٹانگوں کی مالش کی تو انہیں اتنا سکون ملا کہ میں خوشی سے نہال ہوگئی۔ پھر تو ہر روز ان کی پورے بدن کی مالش میرا معمول بنا۔ وہ میری ماں جیسی ہیں۔ اُن کا ایک ہی بیٹا ہے جو بس سال چھ ماہ میں ایک بارآتا ہے۔ “

تو گویا ایک ادبی ذوق کی حامل، کتابوں کی رسیا، کیا پتہ لکھنے لکھانے سے بھی تعلق ہو۔ ایسی خاتون سے ملنا تو ملاقاتِ مسیحا و خضر سے بھی افضل ہے۔ یہ ایسا خوش آئند خیال تھا کہ یونہی محسوس ہوا کہ میلان کے کِسی قدر گرم سے موسم میں پھولوں کی خوشبو سے لدی پھندی ہواؤں نے جیسے میرے رخساروں پر بوسے دیتے ہوئے مجھے نہال کردیا ہے۔

رضیہ نے شام کو ملاقات کروا دی۔ ایک منزل نیچے کا گھر۔ دروازہ مسز ریٹا سمتھ نے خود کھولا۔

گھر تو ایک جیسا ہی تھا۔ مگر کیسا تھا۔ روح تک میں لطافت اُتر گئی۔

بڑے کمرے میں الماریاں کتابوں سے بھری ہوئی تھیں۔ باتیں ہوئیں تو پتہ چلا کہ لکھتی وکھتی تو نہیں تاہم کتابوں سے عشق ہے۔

دیوار میں نصب لمبی سی الماری کے شیلف مختلف مجسموں سے سجے تھے۔ بڑے منفرد سے۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ داہنی طرف کا وکٹر ایمونیل دوم اٹلی کے شہنشاہ جس نے اٹلی کو ایک کیا کا مجسمہ ہے۔ اس کے ساتھ اُسی خانے میں تین اور تھے بڑے تاریخی کردار اطالویوں کے محسن، Risorgrimento تنظیم کے بانی اور رکن۔

پسِ منظر نے بتایا تھا کہ اُنسیویں صدی کے ابتدائی سالوں میں نپولین بونا پارٹ نے اٹلی پر قبضے کے باوجود اطالویوں کو یقین دلایا کہ وہ یورپ کے لوگوں کی طرح اکٹھے ہوکراپنے ملک پرخود حکومت کرنے کے اہل ہیں۔ تو اسے Risorgrimento یعنی دوبارہ اٹھنے سے جوڑا گیا۔ یعنی اٹلی کی عظمتوں کا احیا۔ اگلے پچاس سال میں یہ ایک انقلابی تحریک بن گئی۔ جس میں حصّہ لینے کی سزا موت تھی۔ بنیادی طور پر چار مرکزی کردار تھے۔ گیری بالڈی Garibaldi (جو جرنیل تھا۔) ، مازینی Mazzini (بے حد دلیر اور جی دار لکھاری)، کیورCavour (سیاست دان اور ڈپلومیٹ) اور وکٹر ایمونیل دوم۔

مسز ریٹا نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔

یہ میرے گھر میں ہی نہیں بلکہ ملک کے ہر شہر کے کوچہ و بازاروں کی پیشانیوں پر جگمگاتے ہیں۔ اس تنظیم نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے تحریک کو زندہ رکھا۔ حتیٰ کہ قابض ملک سپین، آسٹریا اور فرانس، اٹلی چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

پینتیس 35 سال کی عمرمیں ڈیوائن کومیڈی جیسا شاہکار لکھنے والا دانتے ایلیگریDante Alighieriجس نے اطالوی ادب کیا دنیا کے ادب کو مالا مال کیا کو پہنچاننے میں ذرا دشواری نہیں ہوئی کہ ڈیوائن کومیڈی کو پڑھنے کی کوشش میں اُس کی صورت اور سٹائل کی انفرادیت نے تصویری نقش ذہن میں بیٹھا رکھا تھا۔

ریٹا اطالوی تھی شوہر انگریز تھا۔ دونوں اپنی اپنی زبانوں کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ فرنچ اور جرمن میں بھی طاق تھے۔ مسٹر سمتھ کا کوئی دو سال ہوئے انتقال ہوگیا تھا۔

” آپ کے ساتھ شام کا ایک گھنٹہ گزارنا چاہتی ہوں اٹلی کا ماضی اور اُس کا حال جاننے کے لیے۔ “

نرمی کی پھوار میں بھیگے چہرے نے کہا۔

”ارے ہمارا ماضی تو بڑا ہی دلچسپ ہے۔ شاید تاریخ ہمیشہ دلچسپ ہوتی ہے اور ڈراؤنی بھی۔ “

اگلے دن آٹھ بجے میری دستک پرمسز سمتھ نے مسکراتے ہوئے مجھے اندر آنے کا راستہ دیا۔ نشست گاہ میں بیٹھتے ہی میں نے کہا۔

”آپ کا گھر بہت صاف سُتھرا قرینے سلیقے سے سجا ہوا ہے۔ “

”بالعموم ہم بہت صاف سُتھرے لوگ ہیں اور اپنے گھروں کو بھی ایسا ہی رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرتی روے ّے بھی اتنے اُلجھے ہوئے نہیں، خاصے سُلجھے سے ہیں۔

یورپ بھر میں خاندانی نظام اپنی مضبوط بنیادوں کے ساتھ صرف ہمارے ہاں ہی تھا۔ گو اب یہ بھی اپنی ان روایات سے منہ موڑ رہا ہے۔ نئی نسل کی اپنی روش ہے۔ مگر ہم جیسے بوڑھے لوگ اُن روایات اور قدروں کے ابھی بھی اسیر ہیں۔ ہمیں رشتہ داروں اور عزیزوں دوستوں کے گھروں میں جمگھٹے اچھے لگتے ہیں۔ کھانے کھانے اور گپیں لگانے میں ہم لُطف اٹھاتے ہیں۔ گو ہمارے بچے بھی اِن میں کبھی کبھار شامل ہوجاتے ہیں۔ تاہم پھر بھی اب وہ باتیں نہیں ہیں۔

مذہب کے بارے میں پوچھنے پر کہ یہ آپ لوگوں کی زندگیوں میں کتنا اہم اور دخیل ہے۔

انہوں نے کہا تھا۔ مذہب، خاندان اور کھانا پینا تین چیزیں ایک اطالوی کی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتی تھیں۔ مگر جیسے خاندان منتشر ہورہے ہیں ویسے ہی مذہب بھی بس اب بوڑھے لوگوں تک محدود ہوگیا ہے۔ نئے بچوں کے پاس نہ خاندان کے لئے وقت ہے اور نہ چرچ کے لئے۔

اٹلی کا اہم مذہب رومن کیتھولک ہے۔ دس 10 فی صدپروٹسٹنٹ، یہودی اور اب مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔ ہاں البتہ مذہبی جنونیت نہیں۔ رواداری اور برداشت ہے۔ لوگ دھیمے اور خوش مزاج ہیں۔

ہم لوگ ہمیشہ یہ بات مدّنظر رکھتے ہیں کہ پانی کا شیوہ نیچے کی طرف بہنا ہے۔

اٹلی کی The Renaissance نشاۃ ثانیہ کے نام سے شناسائی تو تھی مگر اس کی گہرائی کو میں نے ریٹا سمتھ سے سمجھا۔ بالکونی میں بیٹھ کر کافی کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ پیتے ہوئے۔

اٹلی کا عروج و زوال، فکر اور سوچ کی دنیا جو پروٹسٹنٹ اور کیتھولک جھگڑوں میں پھنسی ہوئی تھی۔ عدالتی اور سرکاری سطح پر انسانی سوچ اور جدّت کے استحصال کی سب سے بڑی مثال گلیلیو کی صورت میں ان کی گلوگیر آواز میں جون کی اُس کسی حد تک گرم سی صبح کے بارے سُنتی تھی۔ جب روم کے کونونٹ منروا میں کھڑا وہ خستہ حال بوڑھا جو آنے والے وقتوں میں انسانیت کے ایک عظیم سائنس دان کی صورت سامنے آنے والا تھا۔ اس وقت بے چارگی اور بے بسی کی تصویر بنا اُس معافی نامے پر دستخط کرتا سامنے آتا ہے جو گوتھک چرچ اور کلیسا نے اس کے خلاف بدعتی نظریے کے اظہار پر فتوی کی صورت جاری کیا تھا۔

گلیلیو کی پیشی ( 1615 ) ، جوزف نیکولیس کی تصویرکشی

اس نے کہا بھی کہ اس نے کب پوپ اربن ہشتم کا مذاق اڑایا ہے۔ ہاں اس کے علم اور مشاہدے نے جو اُسے بتایا اور سمجھایا ہے اُس نے تو اسی کے بارے بات کی ہے۔ زمین ساکت نہیں ہے وہ سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مشتری کے گرد گھومتے ستارے اور بے شمار ستاروں کی دریافت مقدس کتاب سے کہاں انحراف ہے؟ ایک علم ہے جس کا یہ اظہار ہوا ہے۔ یہ بے ادبی اور گستاخی کا ارتکاب کہاں ہے؟

کتنا بڑا انسان کیسی تنگ نظری کا شکار ہوا۔ اُس کی کتابوں پر پابندی لگا دی گئی۔ عین انہی لمحوں میں اور چھم سے جیسے مجھے بر ٹولٹ بریخت Bertolt Brecht کا ڈرامہThe life of Galileo یاد آگیا تھا۔ اب یہ کیسے ممکن تھا کہ بریخت کے ساتھ مجھے اپنے ملک کاوہ عظیم دانشور بابائے ٹیلی ویژن جناب اسلم اظہر اور ان کا ”دستک تھیٹر گروپ“ یاد نہ آتے۔ آئے۔ منصور سعید بھی۔ یہ ڈرامہ میں نے اپنے بڑے بیٹے کے کہنے پر دیکھا تھا۔ کیا شاہکار چیز تھی؟ سارا ڈرامہ اس اہم مقدمے کے گرد گھومتا ہے جس کے تحت کلیسائے روم نے اُسے مجبور کر دیا تھا کہ وہ اپنی اِس شہرہ آفاق انقلابی سائنسی دریافت سے انحراف کرجائے۔

اسے دیکھتے ہوئے سانس کتنی بار رکی۔ بتانا مشکل ہے۔ میں نے مسز سمتھ کو یہ سب بتایا۔

کتنی نشستیں رہیں، کتنے کافی کے کپ پھولوں سے گھری بالکونی میں بیٹھ کر پیئے۔ کتنا کچھ جانا۔

سوچتی ہوں وہ اپنوں کے ہاتھوں مری ہوگی۔ کیونکہ دو ماہ پہلے وہ زندہ تھی قدرے علیل ضرور تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *