ساکا ننکانہ کے سو برس اور نوری کیمبوکا کے ڈھولے

تاریخ وہ موضوع ہے جسے مذہب اور سیاست دونوں نے ہمیشہ سے اپنے گھر کی باندی سمجھا ہے۔ ان دونوں کی ہر چیز میشل فوکو کے مطابق مرکزیت کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ اسی لیے ان کا بیانیہ عام لوگوں کی تاریخ سے ہمیشہ متضاد نظر آتا ہے۔ مرکز معاشرے میں طاقت کا سب سے مضبوط ادارہ ہے۔ اسی لیے وہ اپنا بیانیہ پھیلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف مرکزیت کے زیر اثر پسنے والوں کی آواز

Read more

فتح سندھ کے وقت محمد بن قاسم کی عمر اور حجاج سے اس کی رشتہ داری

ہماری تاریخ ایسے لوگوں کے واقعات سے بھری پڑی ہے جن کو اپنے نظریات کے پر چار کے لیے تو خوب استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان کے متعلق کسی قسم کی تحقیق کی کوئی آرزو نہیں ہوتی۔ محمد بن قاسم اور راجہ داہر اس کی بہترین مثال ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل تھے لیکن آج دنوں کے متعلق دو انتہا درجے کی آرا ملتی ہیں۔ عربوں کے حملوں کو ”اسلامی حملے“ قرار دینے والے محمد بن قاسم کو

Read more

کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسکندریہ کا کتب خانہ جلوا دیا تھا؟

سیدنا حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا شمار ان ہستیوں میں ہوتا ہے جو تعارف کی محتاج نہیں ہوتیں۔ جسے بارگاہ رسالت سے ”فاروق“ کا لقب عطا ہوا ہو اس کے کیا ہی کہنے۔ فاروق ”حق و باطل میں فرق کرنے والے“ کو کہتے ہیں اور بیشک نہ صرف وہ حق و باطل میں فرق کرنے والے تھے بلکہ حق و باطل میں فرق کا معیار بھی وہی بن گے۔ ہمارے آقا ﷺ فرماتے ہیں کہ ”میرے بعد کوئی نبی

Read more

جنوبی ایشیا کی تہذیب و تاریخ اور جدید پاکستانی تاریخ دان

مٹی، پانی، آگ اور ہوا کے اشتراک سے وجود پانے والی شے انسان ہے۔ چار اشیاء کا مرکب ہونے کی وجہ سے ہر انسان طبیعت میں دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ اس مختلف پن کی وجہ سے ہر انسان کا مظاہر فطرت کو دیکھنے اور پرکھنے کا انداز بھی جدا ہے۔ میشل فوکو کے بقول انسانی فکر ثقافتی تشکیل کی مرہون منت ہے۔ میرے خیال میں انسان فطرتاً دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو فوکو کی بات کو

Read more

استعماری کھیل اور افریقہ پر غلبے کی دوڑ

افریقہ سے درآمد شدہ غلام اوقیانوس کے پار امریکہ میں کپاس اور شکر کے کھیتوں اور کارخانوں کا ایندھن بن رہے تھے، ساتھ ہی ساتھ افریقہ ہاتھی دانت، پام آئل اور دیگر اجناس کا منبع بھی تھا۔ یہی وجہ ہے فرانس، برطانیہ اور ولندیزیوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کی ایک قسم کی مسابقتی دوڑ شروع ہو گئی تھی، مگر یہ ساری تگ و دو مغربی اور جنوبی ساحلی پٹی کے علاقوں تک ہی محدود رہی۔ اور یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ یورپی تاجر افریقہ کے ساحلوں پہ موجود واحد غیر ملکی نہ تھے بلکہ مشرقی ساحلوں پر بحرہند سے متصل بندرگاہوں پر اسی کے متوازی مگر زیادہ قدیم اور وسیع ایک اور عالمی تجارتی ماڈل کام کر رہا تھا، یہ اومان اور یمن کے عرب اور ہندوستان کے مسلمان تاجروں کی آبادیاں تھیں جو صومالیہ، ممباسا، زنجبار اور موزمبیق کی ساحلی پٹی پر آباد تھے۔

Read more

جب خانہِ کعبہ میں ایک شخص مہدی بن بیٹھا

( LAWRENCE WRIGHT کی کتاب THE LOOMING TOWER: AL QAEDA AND THE ROAD TO 911 کے ایک باب کا ترجمہ) 20 نومبر 1979 کی صبح تھی۔ مرحوم شاہ فیصل کے بیٹے ترکی الفیصل کو، جو سعودی عرب کا وزیر تھا، شاہ خالد کا پیغام ملا کہ وہ اس سے ملنا چاہتا ہے۔ شہزادہ ترکی اس وقت شہزادہ فہد کے ساتھ تیونس میں ایک عرب کانفرنس میں شرکت کر رہا تھا۔ شہزادہ ترکی کی عمر چونتیس برس تھی اور اس کے

Read more

اٹلی کے شہر میلان کی بالکونی میں بیٹھی ریٹا اسمتھ کی یاد

اِن وبائی دنوں میں وہ مجھے یاد آتی ہے۔ دروازے کا پٹ ہاتھ میں تھامے نرم و ملائم نقش و نگار سجے چہرے اور نیلی کچور آنکھوں والی جو مجھے دیکھتے ہی چنبیلی کی طرح مسکراتی تھی۔ اٹلی میں کرونا وائرس کی سنگینی بہت زیادہ ہے۔ خوفناک بیماری اور ہلاکتیں تو اپنی جگہ مگر یہ رویہ کہ بوڑھوں کو مرنے دو بڑا سنگدلانہ ہے۔ ایسے میں مجھے وہ یاد ہی نہیں آتی بلکہ میری آنکھوں کو بھی گیلا کرجاتی ہے۔

Read more

جب مہاتما گاندھی نے مولانا آزاد کی مخالفت کی

نامور ہندوستانی صحافی سعید نقوی کی کتابBeing the Other: The Muslim in India میں بہت سی چشم کشا باتیں ہیں۔ سر دست ہم صرف گاندھی جی کے جواہر لعل نہروکے نام ایک خط کا ذکر کریں گے۔ یہ خط مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں ہے، اوراس میں وہ بات ہے جو ہم نے کبھی سنی نہ پڑھی۔ 24 جولائی 1947 کو تحریر کردہ خط میں گاندھی جی، نہرو سے کہہ رہے ہیں کہ ابوالکلام آزاد کو آزاد ہندوستان کی

Read more

کیا جناح کی مہلک بیماری کا علم تقسیم ہند کو روک سکتا تھا؟

انڈیا کے آخری وائس رائے اور پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ بانی پاکستان محمد علی جناح کی پہلی ملاقات چار اپریل سنہ 1947 کو ہوئی تھی۔ بات چیت شروع ہونے سے پہلے ایک ہلکا پھلکا لمحہ اس وقت آیا جب ایک فوٹو گرافر نے لیڈی ماؤنٹ بیٹن (ایڈوینا) اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ ایک تصویر لینے کی خواہش ظاہر کی۔ جناح نے پہلے ہی سے پریس کانفرنس کا اپنا بیان تیار کر لیا تھا۔ انھیں امید

Read more

میرے بھی ہیں کچھ خواب!

28 اگست 1963ء کو امریکہ کے لاکھوں سیاہ فام اور سفید فام شہریوں نے واشنگٹن میں ایوان نمائندگان سے انسانی غلامی کے عظیم ترین مخالف ابراہم لنکن کی یادگار تک پرامن مارچ کیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ امریکی آئین، قوانین اور پالیسیوں میں رنگ و نسل کی بنیاد پر ہر قسم کا سیاسی، سماجی اور اقتصادی امتیاز ختم کیا جائے۔ اس موقع پر تحریک کے قائدڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ نے لنکن میموریل کی سیڑھیوں پہ سیاہ فام امریکیوں

Read more

یورپ کی ترقی کا راز کیا ہے؟

گزشتہ تین سو سال میں جتنی ترقی انسانی دنیا آج دیکھ رہی ہے، اتنی ترقی انسانی تاریخ میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی،جو ترقی ان تین سو سالوں میں ناچتی گاتی نظر آرہی ہے، وہ ترقی گزشتہ ہزاروں سالوں میں کیوں نظر نہیں آئی، یہ وہ سوال ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے؟اس کی بنیادی وجہ کیا تھی، ویسے تو اس کے بڑے فیکٹرز ہیں۔ ان تین سو سالوں میں فیوڈلزم کا خاتمہ ہوا، سیکولر اور لبرل خیالات سامنے

Read more

ایک بستی بٹالہ نام کی

دریائے راوی کے اس پار،زمین کے اس ٹکڑے پر جو اب بھارت کا حصہ ہے، تھی۔ مردم خیز خطہ تھا۔ یہاں کے ایک بزرگ غلام اکبر خان بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں لاہور کے کوتوال رہے پھر ان کے بڑے صاحبزادے ذوالقرنین خان لاہور پولیس میں تعینات رہے۔ ایک صاحبزادے آغا بابر کو پاکستان میں تھیٹر کے ابتدائی صورتگروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ غلام اکبر خان کے سب سے چھوٹے بیٹے اعجاز بٹالوی تھے جنہوں نے ریڈیو آزاد کشمیر،بی

Read more

تاریخ

تاريخ ايک ايسا مضمون ہے جس ميں ماضی ميں پيش آنے والے لوگوں اور واقعات کے بارے ميں معلومات ہوتی ہيں۔ تاريخ دان تاريخ دان مختلف جگہوں سے اپنی معلومات حاصل کرتے ہيں جن ميں پرانے نسخے، شہادتيں اور پرانی چيزوں کی تحقيق شامل ہے۔ البتہ مختلف ادوار ميں مختلف ذراۓ معلومات کو اہميت دی گئی۔ تاریخ کا لفظ عربی زبان سے آیا ہے اور اپنی اساس میں اَرخ سے ماخوذ ہے جس کے معنی دن (عرصہ / وقت وغیرہ)

Read more