احتیاط کیجئے! کرونا بہت بد لحاظ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معلوم نہیں ”کرونا“ کی وبا اٹلی سے پھوٹی یا چین اس کا ابتدائی مرکز ہے؟ اس کا فیصلہ سائنس دانوں پہ چھوڑ دیجئے۔ ہمیں بس اتنا معلوم ہے کہ ایک ”چھوٹا“ سا وائرس اس قدر ”طاقتور“ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ سپرپاورز سے لے کر ترقی پزیر ممالک سب اس کی ”زد“ میں آ چکے ہیں۔ ”تاریخی“ شہروں سے لے کر ”معمولی“ گاؤں تک اس کا نشانہ بن چکے ہیں۔

کون جانے کس ”حرام“ جانور سے نکلا وائرس چھان پھٹک کر ”حلال“ کا ٹیگ دیکھ کر چیزیں خریدنے والوں کے سر پہ آن پہنچا ہے۔ چائنہ میں ابھی ”کرونا“ کا آغاز ہی تھا کہ ہمارے پیدائشی مسلمان اس وائرس کو اللہ کے عذاب سے تشبیہ دے کر کافروں کو اس عذاب کا ”مستحق“ قرار دینے لگے۔ جب یہ ہی ”عذاب“ مسلم ممالک میں پھیلا تو نجانے کیسے ”آزمائش“ میں تبدیل ہو گیا؟

کم و بیش پوری دنیا اس ”وائرس“ کی لپیٹ میں ہے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اسے ”عالمی وبا“ قرار دے دیا ہے۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ کرونا کے عالمی سطح پر پھیلنے کی بنیادی وجہ ”بے احتیاطی“ ہے۔ چین نے اس ”وجہ“ کو سب سے پہلے دریافت کیا اور اپنے کئی شہروں کو ”لاک ڈاؤن“ کر دیا، آج وہ اس ”وبا“ سے لڑ کر سرخرو ہو چکا ہے۔ حرام پہ پلنے والے ڈاکٹروں نے دن رات ایک کر کے میدان جنگ میں آئے مجاہدین کی مانند اپنی نوکری اور تنخواہ کو ”حلال“ کیا ہے۔

تقریبا اڑھائی سے تین ماہ بعد ڈاکٹرز نے اپنے چہروں سے ماسک اتارے ہیں تو ان کے ”اصل چہرے“ دکھائی دیے ہیں۔ وہ چہرے جو فتح کی چمک سے سرشار ہیں اور بتاتے ہیں کہ انسان کا اصل تب دکھائی پڑتا ہے جب ”آزمائش“ آتی ہے۔ سنا ہے اب چین کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ایران کی ”مدد“ کے لئے پہنچ گئی ہے ٹھیک اسی ملک میں جس نے سب سے پہلے یہ بتایا کہ حرام کھانے والوں پہ عذاب آیا ہے۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ”انسانیت“ کسی مذہب کی ملکیت نہیں، جب آزمائش آتی ہے تو کئی چہروں سے ”ماسک“ اترتے ہیں۔

چین کا لاک ڈاؤن ختم ہو گیا اور دوسرے ممالک میں رہائش پزیر چینی شہری اپنے گھروں کو پہنچ گئے کہ اب انہیں ساری دنیا چھوڑ کر وہی ”جائے پناہ“ نظر آتی ہے۔ چینی آزاد ہوئے اور باقی دنیا ”قید تنہائی“ کا شکار ہوئی۔ جن ممالک نے خطرے کی سنگینی کو بھانپ لیا وہ قدرے ”محفوظ“ رہے اور جو ابھی تک کرونا کی ”بد لحاظی“ کو سنجیدہ نہیں لے رہے وہ اس کا ”تاوان“ ادا کریں گے۔

اٹلی جو کبھی سیاحوں کا مرکز تھا ویران پڑا ہے۔ وجہ وہی کہ اسے خطرے کا ادراک تب ہوا جب پانی سر پہ آن پہنچا۔ روزانہ سینکڑوں کے حساب سے لاشیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ ایک ذرا سی ”احتیاط“ جو وقت پر کر لی جاتی تو آج ہزاروں لوگ اپنے پیاروں کے بچھڑنے پہ ”ماتم کناں“ نہ ہوتے۔ سیاحت کدے یوں ماتم کدے میں تبدیل نہ ہوتے۔

ایسی بے احتیاطی ملائشیا سے بھی سرزد ہوئی۔ سرحدیں بند کی گئیں نا مذہبی اجتماعات پہ پابندی لگائی گئی۔ نتیجہ یہ کہ وہ ملک جہاں دو ماہ تک کرونا کے فقط ”اٹھارہ“ کیس رپورٹ ہوئے اور ان میں سے دو مکمل صحت یاب ہو کر گھروں کو لوٹ گئے تھے۔ کوالالمپور میں ہوئے ایک مذہبی اجتماع کے نتیجے میں پچھلے ایک ہفتے سے مسلسل فگرایک سو سے بڑھ رہا ہے۔ ہر سو میں سے اسی کیس وہ ہیں جو اس اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔ رپورٹ کیسز کی تعداد ہزار کا ہندسہ عبور کر گئی ہے۔ دو لوگ وائرس سے لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔

پورا ملائشیا لاک ڈاؤن ہے، سرحدی پالیسیاں سخت کر دی گئی ہیں۔ بلا ضرورت گھروں سے نکلنا منع ہے، نمازیں گھروں میں ادا کی جا رہی ہیں، تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ تفریح گاہیں ویران ہیں، فقط گروسری کے کچھ بڑے سٹورز کھلے ہیں جہاں ”دو لوگ“ بھی ”چار فٹ“ کے فاصلے سے داخل ہو کر خریداری کر سکتے ہیں۔ ریسٹورانٹس میں بیٹھ کھانے پہ پابندی ہے آپ آرڈر دے کر ”ٹیک اوے“ کر سکتے ہیں۔ یونیورسٹی کے طالب علم ہاسٹلز میں قید ہیں اور بلاضرورت، بلا اجازت گیٹ سے باہر جانا منع ہے۔ صحت پہ سمجھوتا نہ کرنے والے ”واک“ کرنے کے لئے بھی گھر سے باہر نہیں نکل رہے اور ہم جیسے ”غریب الوطن“ پریشان ہیں کہ کیا ہو گا؟ لیکن گھبرائے نہیں ہیں کہ یہاں کی حکومت پہ کم ازکم اتنا بھروسا تو ہے کہ مشکل وقت میں اپنے ”طلباء“ کو اکیلا نہیں چھوڑے گی۔

کچھ ایسی بے احتیاطی ہماری حکومت سے بھی سرزد ہوئی ہے، جہاں تمام ہمسایہ ممالک میں وبا کو ”پھیلتا“ دیکھ کر بھی ہوش کے ناخن نہیں لئے گئے۔ بجائے اس کے کہ سرحدوں پہ آمدورفت کا کوئی حساب کتاب رکھا جاتا، ایک ”دوست“ کی فون کال کا ”لحاظ“ رکھتے ہوئے زائرین کو بغیر ”سکریننگ“ کے وطن واپس آنے کی اجازت دے دی گئی۔ ائیرپورٹس پر صورتحال کچھ زیادہ بہتر نہیں اور کرونا کو باقاعدہ ”خوش آمدید“ کیا جا رہا ہے۔ سندھ حکومت کچھ رہتے وقت جاگ گئی تو وفاقی حکومت بھی کچھ ہوش میں آئی۔

وزیر اعظم صاحب قوم سے خطاب کے لئے آئے اور حسب عادت گھبرانا نہیں ہے کا درس دے گئے (مطلب جاگتے رہنا، ساڈے تے نا رہنا) ۔ عوام کو اب یہ بات اچھی طرح سے سمجھ آ جانی چاہیے کہ سردیاں آئیں گی تو ڈینگی مچھر ختم ہو جائے گا اور گرمیاں آ رہی ہیں تو ”کرونا“ کا خاتمہ یقینی ہے۔ اگرچہ دنیا کی دیکھا دیکھی چھٹیاں کر دی گئی ہیں لیکن پاکستانی اسے موسم سرما کی تعطیلات کی ”ایکسٹینشن“ سمجھتے ہوئے پوری طرح سے ”انجوائے“ کر رہے ہیں۔ گھومنا پھرنا، دعوتیں، ہوٹلنگ سب ایسے جاری ہے جیسے ”کرونا“ کے آنے کی خوشی پاکستان اور پاکستانیوں سے زیادہ کسی کو نہ ہوئی ہو۔ لیکن ساری دنیا میں پھیل چکے کرونا کی تاریخ گواہ ہے کہ ایسی کسی خوش فہمی کو دل میں جگہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیر اعظم صاحب نے ”جوش وجذبات“ سے مغلوب ہو کر ڈیرہ غازیخان میں بنائے قرنطینہ کا دورہ کیا۔ بغیر ماسک کے خوشامدی ٹولے کے درمیان رہ کر ”مشتبہ“ زائرین سے ملاقات کر لی اور عوام کو بالواسطہ یہ پیغام دیا کہ اس چھوٹے موٹے ”وائرس“ سے بچنے کے لئے منہ چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ چالیس پچاس لوگ ”اکٹھے“ ہوں تو کرونا ”ڈر“ ہی جاتا ہے۔ اب حالات یہ ہیں کہ ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ دونوں اضلاع ”ہائی رسک“ پہ ہیں مطلب میکہ و سسرال دونوں خطرے میں اور ہماری جان سولی پر۔ رہی سہی کسر ہمارے مذہب کے ٹھیکے دار وقت بے وقت کی تقاریر سے پوری کر رہے ہیں۔ اور عوام ہی کہ ہر تال پہ سر ”دھن“ رہے ہیں۔

ہمارے بنگالی بھائی تو ہم سے ”چار قدم“ آگے نکلے اور اجتماعی دعا کروا لی۔ پچیس ہزار لوگوں کا ایک ساتھ جمع ہونے خطرے کی گھنٹی ہے اگر کو ئی سن سکے تو، وگرنہ ہر ہزار میں سے ایک ولی نکلتا تو ”ملائشیا“ کے اجتماع سے بارہ ولی اللہ سے کرونا کو ”ختم“ کرا چکے ہوتے۔ بعد کے ”رونے“ سے بہتر ہے کہ کرونا کو ”سنجیدگی“ سے لیا جائے۔ یہ دعا سے نہیں ”دوا“ سے ختم ہونے والی بلا ہے۔ اور ساری دنیا کے ”حرام خور کافر“ سائنس دان اس کی دوا کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ شنید ہے کہ امریکہ میں اس کی ابتدائی ویکسین کو ایک کافر خاتون نے اپنے جسم میں رضاکارانہ طور پر انجیکٹ کرا لیا ہے۔ رزلٹ آنے تک آپ بس انتظار کیجئے اور ہو سکے تو کچھ ”احتیاط“ بھی کر لیجیے۔

بلاوجہ اور بلا ضرورت گھروں سے باہر مت نکلئے۔ کچھ عرصے کے لئے ”شادی و خوشی“ کی تقریبات سے پرہیز کیجئے۔ ہاتھ مت ملائیں، گلے نا ملیں، سارے لحاظ ومروت کچھ عرصہ کے لئے موقوف کر دیجئے۔ یقین کیجئے کرونا بہت ”بد لحاظ“ ہے، اپنے پرائے کسی کو نہیں دیکھتا، اسے کافر ومسلم، حرام و حلال، شیعہ و سنی کسی کی پہچان نہیں ہے۔ یہ چھوٹے و بڑے، جوان و بزرگ، مرد و عورت، اچھے و برے کسی کا لحا ظ نہیں کرتا۔ یہ امیروغریب پہ یکساں اٹیک کرتا ہے لہذا گھر پہ سکون سے رہیں۔ یہ نا ہو کہ ”کرونا“ کا حملہ خون کے آنسو رلائے۔ وقت پہ ”ڈرنا“، بے وقت کے ”مرنے“ سے بہتر ہے ورنہ یقین کیجئے کرونا بہت بد لحاظ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply