یہ کرونا کاٹتا کیسے ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس جو پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اس کے نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے ابلاغیات کے مختلف ذرائع قوم کو احتیاطی تدابیر کے بارے میں بتا اور سمجھا رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کئی معصوم لوگ یہ سوال پوچھتے پائے جارہے ہیں کہ یہ کرونا کاٹتا کیسے ہے؟

ایسے لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ جی یہ کرونا اس وقت کاٹتا ہے جب ملک کے سیاہ و سفید کا مالک ایک طرف فرمائے کہ وائرس کے خاتمے کے لئے چین سے سیکھنا ہوگا جب کہ دوسری طرف تدراک کے لئے لاک ڈاؤن جیسا واحد عملی قدم اٹھانے سے معذوری ظاہر کرے۔ یہ لیڈر قوم کو مطلع کرے کہ گرمی سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا اثر ختم ہو جائے گے جبکہ اس کے اپنے نیچے کام کرنے والا ادارہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا ترجمان دو روز پہلے یہ بیان دے چکا ہو کہ گرمی کی شدت سے وائرس ختم ہونے کی بات بے بنیاد ہے۔ اسی لیڈر کا دست راست جو سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلی بھی ہے وثوق سے دعوی کرے کہ اس نے 3 جنوری سے وبائی مرض کے خلاف عملی اقدامات کرنا شروع کردیئے تھے جبکہ عالمی ادارے صحت نے اس مرض کو 7 جنوری میں نام دیا ہو تو اس قسم کی کاٹ کو ”لایعینیت کا کرونا“ کہلاتا ہے۔

جی یہ کرونا اس وقت کاٹتا ہے جب اپنے آپ کو عوامی لیڈر کہنے والا وزیراعظم قوم سے مخاطب کرتے ہوئے فرمائیں کہ ہمارے پاس ماسک کی کمی نہیں جبکہ حقیقت میں ماسک کی قلت کا مسئلہ نا صرف عوام کو درپیش ہے بلکہ بہت ساری جگہوں پر طبی عملہ بھی اس کی عدم دستیابی کی شکایت کر رہے ہیں۔ اس قسم کے کرونا کو ”عوامی مسائل سے لاعلمی کا کرونا“ کہا جاتا ہے۔

جی یہ کرونا تب کاٹتا ہے جب ایک صوبائی وزیر صحت جو بذات خود طب کے پیشے سے تعلق رکھتی ہوں فرمائیں کہ دنیا پھر میں پھیلی جانے والی اس وبائی مرض کا علاج پیناڈول سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک انگلینڈ پلٹ گورنر گرم پانی اور ایک مذہبی پیشوا اس موزی مرض کا علاج کبوتر کی جھلی بتائے تو کرونا کی یہ قسم ”جہالت کا کرونا“ کہلاتی ہے۔

جی یہ کرونا تب کاٹتا ہے جب ایک طاقتور فوج اور ایٹمی ملک ہونے کی شیخی بھگارنے والا ملک کورونا وائرس کیسز کی تعداد میں نمایاں اضافے ہوتے ہوئے اعداد و شمار کے مقابلے میں اپنے ہاں وینٹی لیٹرز کی کمی کا رونا روئے، اس قسم کا کرونا ”ملک کی غلط ترجیحات“ کا کرونا کہلاتا ہے۔

جی یہ کورونا تب کاٹتا ہے جب ایک طرف حکومت اجتماعات اور میل جول سے گریز کرنے کی نصحیتیں کرے تو دوسری طرف اس کے اپنے وزیر اور گورنر ایک پرہجوم حلف برداری کی تقریب میں دندنا رہے ہوں۔ جب ایک طرف ملک کا میڈیا قوم کو مشوروں سے نوازنے کی کوشش کر رہا ہو اور دوسری طرف ایک نامور اخبار میں لکھنے والے صاحب ایک ایسی نہاری دعوت کی کتھا مرچ مصالحے لگا کر بیان کریں جس میں نہاری کے لیس دار شوربے سے صحافت کے بڑے بڑے پہلوان اپنا دامن بچانے میں مصروف ہوں (کالم میں یہ بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ موضوع کورونا وائرس تھا)۔ جب مذہبی اجتماعات کو تو چھوڑیں، تفریحی مقامات بھی لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوں تو اس قسم کے کرونا کو ”حماقت کا کرونا“ کہا جاتا ہے۔

جی یہ کورونا تب کاٹتا ہے جب کیا تاجر اور کیا خریدار، اس ناگہانی آفت کی گھڑی میں ضروریات زندگی کی چیزیں کی ذخیرہ اندوزی کرنے پر تلے ہوں۔ اس قسم کے کورونا کو ”لالچ و حرص کے کورونا“ کا نام دیا جاتا ہے۔

جی یہ کورونا تب کاٹتا ہے جب وبائی مرض میں مبتلا مریض کو اپنے مرض کا ادراک ہوجانے کے باوجود نا صرف وہ علاج نا کرانے پر مصر ہو بلکہ اس کو دوسروں تک بھی پھیلانے کی سرتوڑ کوشش کرے۔ اس قسم کا کرونا ”بے حسی کا کرونا“ کہلایا جاتا ہے۔

اب آپ اگر کورونا نامی مرض کے رموز اوقاف سے واقف ہو گئے ہیں تو امید ہے یہ بھی آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ آپ کو کیا حفاظتی تدابیر اختیار کرنا ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *