کرونا کو چاہیے امیروں کا لحاظ کرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ گرمیوں کی بات ہے، ایک تنظیم نے مجھے لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا، لیکچر کا موضوع تھا ’’جدید دور کے چیلنجز اور آج کا انسان ‘‘۔ منتظمین کا خیال تھا کہ میں شاید انہیں بتاؤں گا کہ اکیسویں صدی کے انسان کا المیہ اداسی اور ڈپریشن ہے اور اپنی تمام تر مادی ترقی کے باوجود جدید دور کا انسان خوش اور مطمئن نہیں سو ایسے میں انسان کو چاہیے کہ صوفی ازم میں پناہ لے کیونکہ سچی خوشی اور آسودگی پیسے سے نہیں بلکہ آتما کی شانتی سے ملتی ہے، وغیرہ۔ یعنی وہی مقبول عام باتیں جو آج کے دور کا جدید ذہن سننا چاہتا ہے تاکہ اپنے اوپر سے مادہ پرستی کا لیبل اتار کر ثابت کر سکے کہ deep downوہ بہت روحانیت پسند ہے۔ تاہم اپنا روایتی سڑیل پن برقرار رکھتے ہوئے میں نے اپنی گفتگو میں ایسی کوئی بات نہیں کی بلکہ الٹا حاضرین کویہ بتانے کی کوشش کی کہ ہمیں اِس صدی میں چار بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نسل انسانی کو خطرہ ہے، ثبوت کے طور پر میں نےکچھ اعداد و شمار دکھائے، چندعالمی واقعات سنائے اور ایک دو کتابوں کا حوالہ دیا جس کا مقصد اپنی علمیت جھاڑنے کے علاوہ شرکا کو (خواہ مخواہ ) ڈرانا بھی تھا۔

لیکچر ختم ہوا تو ایک صاحب مجھے پرے لے گئے اور سرگوشی کے انداز میں بولے ’’نوجوان، یہ باتیں جو آپ نے کی ہیں انہیں سُن کر تو لگتا ہے جیسےاگلے چوبیس گھنٹوں میں دنیا ختم ہو سکتی ہے !‘‘ میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ نہیں چوبیس گھنٹوں میں تو نہیں البتہ اگر اِن میں سے کوئی ایک خطرہ بھی حقیقت میں بدل گیا تو ہم چوبیس دن میں قیامت کا مزا چکھ لیں گے !‘‘ شاید یہ کوئی منحوس گھڑی تھی جب میں نے منہ سے یہ بات نکالی، کیونکہ جن چار خطرات کا میں نے اُس روز ذکر کیا تھا اُن میں سے ایک اپنی ہلکی پھلکی ’کرونا‘ شکل میں آج ہمارے سامنے ناچتا پھررہا ہے۔

کرونا وائرس نے دنیاکے پھنے خان شہر بند کروا دیے ہیں، کوئی دن جاتا ہے کہ ہمارے شہر بھی بند کر دیے جائیں گے، میں سوچتا ہوں کہ اگر ایسا ہوا تو اُس کے بعد کیا ہوگا؟ یورپ کے ملک تو امیر ہیں، کہیں کہیں وہاں فلاحی ریاستیں بھی قائم ہیں، حکومت اگر لوگوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دے گی تو اُن کے نان نفقے کی ذمہ داری بھی لے گی۔ اپنے یہاں اگر لاک ڈاؤن ہوا تو وائرس تو پتا نہیں مرے گا یا نہیں غریب البتہ ضرور بھوک سے مر جائے گا۔ وہ سفید پوش جو روزانہ آدھی ڈبل روٹی اور چار انڈے خرید کر پوری فیملی کے ناشتے کا انتظام کرتے ہیں، وہ مزدور جو دیہاڑی کما کر بچوں کے لیے روٹی کا بندو بست کرتے ہیں اور وہ محنت کش جو روزانہ کی بنیاد پر کام کرکے چار پیسے کماتے ہیں، انہیں اِس لاک ڈاؤن کی اہمیت سمجھانا ایسے ہی ہے جیسے فاقہ زدہ علاقے میں کھانا تقسیم کرتے وقت بھوک سے نڈھال بچوں کو قطار بنانے کے فوائد گنوانا!

مجھے نہیں معلوم کہ یہ وائرس کب ہماری جان چھوڑے گا یا اِس کی ویکسین کب تیار ہوگی، مگر مجھے اتنا اندازہ ضرور ہے کہ ہم جیسے ملکوں میں کرونا وائرس کی ویکسین سے زیادہ غربت کے وائرس کی ویکسین ضروری ہے۔ ممکن ہے آپ میں سے کچھ لوگوں کو میرے ’کمیونسٹ ‘ خیالات سے اتفاق نہ ہو مگر ہم لوگ تو وہ ہیں جواطمینان سے گھروں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو ’گراسری سٹور ‘ کرنے کے مشورے دے رہے ہیں، ہم یہ بھول گئے ہیں کہ اِس ملک میں وہ کروڑوں لوگ بھی رہتے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر ’گراسری‘ خریدتے ہیں کیونکہ اِن کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں ہوتے کہ وہ مہینے کا اکٹھا راشن گھر لا سکیں۔

دراصل مستقبل کا خوف سب سے زیادہ آسودہ حال شخص کو ہوتا ہے، کہیں کوئی وبا پھیلتی ہے، کوئی جنگ چھڑتی ہے، تیل کی قیمتیں گرتی ہیں یا عالمی کساد بازاری کی گھنٹی بجتی ہے تو امیر آدمی فوراً اندر سے لرز جاتا ہے، اسے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اُس کی دولت ردّی نہ ہو جائے یا اُس کی آسودگی نہ ختم ہو جائے۔ اِس وائرس نے متمول لوگوں میں یہ خوف جگا دیا ہے۔ غریب کے پاس تو کھونے کے لیے عزت بھی نہیں ہوتی، اُس نے امیر کی طرح پیسے اکٹھے کرکے رکھے ہوتے ہیں اور نہ تیل کی عالمی منڈی میں سرمایہ کاری کی ہوتی ہے جس کے ڈوبنے سے اُس کی راتوں کی نیند حرام ہو جائے۔

اِس وقت جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں ٹی وی پر ایک ٹاک شو چل رہا ہے، محترم اینکر حکومتی وزیر کو لتاڑ رہے ہیں کہ آپ نے اب تک شہروں کا لاک ڈاؤن کیوں نہیں کیا! ظاہر کہ موصوف اینکر کوکرونا وائرس کی فکر ہے، یہ بد بخت وائرس کسی کے رتبے کا لحاظ بھی تو نہیں کرتا، سو شہر لاک ڈاؤن ہوں گے تو ہم سب کی کچھ نہ کچھ بچت ہوگی۔۔۔۔ معافی چاہتا ہوں، ہم سب کی نہیں، شاید صرف اُن لوگوں کی جنہیں لاک ڈاؤن کی صورت میں بھی گھر بیٹھے تنخواہ ملتی رہے گی اور وہ اطمینان سے پاپ کارن کھاتے ہوئے نیٹ فلکس پر فلمیں دیکھ سکیں گے۔ باقی غریبوں کا کیا ہے، بقول شخصے، کرونا سے نہیں مریں گے تو غربت سے مر جائیں گے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 91 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *