وبا کے دنوں میں ماہرِ نفسیات کی ڈائری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کینیڈا جیسا ملک، سردیوں کا موسم اور کرونا وائرس کی دہشت اور وحشت

گلیاں سنسان، سڑکیں ویران، شہر کا شہر ایک قبرستان

میں جب نیا نیا کینیڈا آیا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ پاکستان کے مقابلے میں اس کی آبادی کتنی کم ہے اور گلیوں بازاروں میں پرندے اور جانور نہ ہونے کے برابر۔ یورپ کے مقابلے میں کینیڈا میں جغرافیہ زیادہ ہے تاریخ کم۔

پچھلے چند ہفتوں میں کرونا وائرس کی وجہ سے کم آباد شہر بالکل بے آباد دکھائی دینے لگے۔

میں جس شہر میں رہتا ہوں اس کا نام وھٹبی ہے۔ یہ شہر ٹورانٹو سے چالیس کلومیٹر مشرق میں ہے۔ جب میں یہاں تیس سال پہلے آیا تھا اس کی آبادی تیس ہزار تھی۔ اب اس کی آبادی ایک لاکھ تیس ہزار ہو گئی ہے۔

میرا سائیکوتھیریپی کلینک شاعر بائرن کے نام کی گلی میں شہر کے وسط میں واقع ہے جو ڈاؤن ٹاؤن کہلاتا ہے۔ میں کلینک سے چند میل کے فاصلے پر ایک تین بیڈ روم کے کونڈو میں رہتا ہوں۔

جب سے کرونا وائرس کی وبا نے شہر کو گھیرا ہے ایک انجانی بے چینی کا راج ہے۔ چاروں طرف خاموشی ہے۔ لوگ گھروں میں دبکے ہوئے ہیں۔ وہ خوفزدہ ہیں۔ ڈرے ہوئے ہیں۔ وہ عجب مخمصے کا شکار ہیں۔ وہ اپنوں سے ملنا بھی چاہتے ہیں اور ملنے سے گھبرا بھی رہے ہیں۔ ایک انجانے خوف نے سارے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

مجھے اپنا شعر یاد آ رہا ہے۔

کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا

ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا

کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بہت سے لوگ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں اور جو پہلے سے ذہنی طور پر پریشان تھے ان کے مسائل میں اور بھی شدت پیدا ہو رہی ہے۔ میں نے سوچا میں ایک ماہرِ نفسیات ہوں اور ہر روز اپنے کلینک میں چند مریض دیکھتا ہوں اور شام کو کسی دوست سے ملتا ہوں۔ مجھے اپنی، اپنے مریضوں اور دوستوں کی کہانی رقم کرنی چاہیے اور تواتر سے ایک ماہرِ نفسیات کی ڈائری ایک روزنامچہ لکھنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے اس کرونا وائرس کے کرائسس سے گزرنے والے اس سے استفادہ کر سکیں۔

۔ ۔

ڈائری کا پہلا ورق

MARCH 19 TH، 2020

جب میرے نفسیاتی مریضوں کو پتہ چلا کہ میں نے پاکستان جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا ہے تو بہت خوش ہوئے۔

میری دو مریضاؤں کو تو ڈراؤنے خواب آنے لگے تھے کہ ان کا مسیحا شہر سے گیا اور پھر لوٹ کر نہ آیا۔ اب انہیں تسلی ہو گئی ہے۔

میرے بزرگ مریضوں اور میری نحیف و ناتواں مریضاؤں نے فیصلہ کیا کہ میرے کلینک میں آنے کی بجائے وہ انٹرنیٹ پر ٹیلی میڈیسن پر مجھ سے مشورہ کر لیں گی۔ کینیڈا کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ وبا کے دنوں میں نہ صرف انٹرنیٹ کے مشوروں بلکہ فون پر مریضوں کے مشوروں کی بھی فیس دے گی تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ گھر سے ہی نفسیاتی اور طبی مدد حاصل کریں۔ میں کینیڈین حکومت کے اس فیصلے سے بہت خوش ہوں۔ کینیڈین حکومت انسان دوست بھی ہے اور اپنے شہریوں کا بہت خیال بھی رکھتی ہے۔

ایک مریض نے مجھے آج بتایا کہ جب وہ کچھ کھانے پینے کا سامان خریدنے گروسری سٹور میں گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ دودھ، ڈبل روٹی اور انڈوں کے سب شیلف خالی ہیں۔ اسے کھانے کے PACKAGED FOOD کے ڈبے خریدنے پڑے۔ اسے یہ جان کر سب سے زیادہ حیرت ہوئی کہ لوگ ٹائلٹ پیپر پر اتنا اچھل اچھل کے جھپٹے کہ سٹور والوں کو پولیس بلانی پڑی تا کہ ایک گاہک ایک وقت میں دو رولز سے زیادہ نہ خرید سکے۔

شام کو میں نے اپنی ایک ڈاکٹر اور رائٹر دوست ڈاکٹر خالدہ نسیم کے ساتھ مسی ساگا کے بادشاہ گرل رستورانٹ میں ڈنر کرنا تھا۔ وہ رستورانٹ کرونا وائرس کے بحران کی وجہ سے بند ہو گیا تو میں اپنی دوست سے ان کے ہسپتال ملنے گیا۔ دروازے پر ایک نرس ڈیوٹی دے رہی تھی

پوچھنے لگی

آپ کا نام

میں نے کہا۔ ڈاکٹر سہیل

آپ کو کھانسی تو نہیں آتی؟

جی نہیں

نزلہ تو نہیں؟

جی نہیں

بخار تو نہیں؟

جی نہیں

کس سے ملنے جا رہے ہیں؟

اپنی ڈاکٹر دوست سے

پچھلے دو ہفتوں میں ملک سے باہر تو نہیں گئے تھے؟

جی نہیں

اندر جانے سے پہلے اپنے ہاتھ سینیٹائزر سے صاف کر لیں

ضرور

ہاتھ صاف کرنے بعد اپنی دوست ڈاکٹر خالدہ نسیم سے ملا اور ہسپتال کے کیفی ٹیریا میں تھائی فوڈ کھایا ٹم ہارٹن کی چلی CHILIکھائی ’جو میکسیکو کی سپیشل ڈش ہے اور پھر ہنی لیمن چائے پی۔ اس دوران ادب اور فلسفے‘ درویشوں کے ڈیرے اور عالمی ادب کے تراجم پر تبادلہ خیال کیا اور پھر میں ایک گھنٹہ ڈرائیو کرتے ہوئے گھر آ گیا۔ راستے میں عابدہ پروین کی آواز میں مصطفیٰ زیدی کی مقبولِ عام غزل سنی جس کے دو اشعار پیشِ خدمت ہیں

اب جی حدودِ سود و زیاں سے گزر گیا

اچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیا

کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی

مضبوط کشتیوں کو کنارا نہیں ملا

پچھلے چند ہفتوں کے واقعات اور حادثات سے ظاہر ہے کہ انسانی زندگی کتنی ناپائدار ہے۔

میں نے جب اپنے آپ سے پوچھا۔ اے خالد سہیل۔ آج کل سب حیران و پریشان ریڈ زون میں ہیں تو تم کیسے اپنے پرسکون گرین زون میں رہتے ہو تو جواب آیا۔ میں تمام حفاظتی تدابیر کر رہا ہوں۔ دن میں کئی دفعہ ہاتھ دھوتا ہوں۔ میں وہاں نہیں جاتا جہاں بہت سے لوگ جمع ہوں۔ اور ایک درویشانہ زندگی گزارتا ہوں۔ جس کا فلسفہ ہے۔ مل جائے تو شکر نہ ملے تو صبر۔ میں ہر روز چند مریضوں کے دکھوں کو سکھوں میں بدلنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہی میری دکھی انسانیت کی خدمت ہے یہی میری سیکولر عبادت۔

سونے سے پہلے میں اپنے آپ سے پوچھنے لگا کہ کیا مجھے ماہرِ نفسیات کی ڈائری کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے یا نہیں؟ میں ابھی اس سوال کا جواب تلاش ہی کر رہا تھا کہ مجھے حالات ِ حاضرہ کے حوالے سے اپنے دو اشعار یاد آئے

سمندر میں ہوں لیکن تشنگی محسوس کرتا ہوں

میں اپنی زندگی میں کچھ کمی محسوس کرتا ہوں

کبھی ہر عارضی کو دائمی میں سمجھا کرتا تھا

اور اب ہر دائمی کو عارضی محسوس کرتا ہوں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 304 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *