وبا کے دنوں کا ایک سچا منظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وبا کا خوف گام گام، گھر گھر مایوسی کا ڈیرا تھا۔
حاکم نے حکم لگا رکھا تھا، کوئی شہری ماسک پہنے بہ غیر گلی میں نہ آئے۔
بھوک سے بلکتے بچوں کے لیے غذا لینے بازار آیا، تو سپاہی نے سیٹی بجا کے روک لیا، کہ ماسک نہ پہن کر حکم عدولی کا مرتکب ہوا ہوں۔
“تم وہ موذی ہو، جس سے سماج کو خطرہ ہے”۔

میں نے دہائی دی، کہ اس وقت میری کل پونجی پانسو رُپیا ہے، اور اس موذی کی خبر لو، جو دس روپے کا ماسک چار سو میں بیچ رہا ہے۔
ماسک خریدوں، تو صد رُپیا میں بچوں کی بھوک کا سامان نہیں ہوتا۔ خدارا کچھ رحم کرو۔
حکم حاکم لاگو کرنا ہے، تو اس بلیکیے پہ کرو، جو قہر کے لمحوں میں عذاب تول رہا ہے۔

سپاہی نے میرے سر پہ موٹے کپڑے کا غلاف ڈال کے، کلائی پر زنجیر چڑھاتے کہا:
“اس کی سر کوبی کے لیے سرکار سے کوئی ہدایت نامہ موصول نہیں ہوا”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 292 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *