سیکیورٹی لیکس: 98.7 فیصد پاکستانی غیر ملکی ایجنٹ ہیں


(مصنف ندیم فاروق پراچہ، مترجم عدنان خان کاکڑ)

\"nadeem-f-paracha\"

اسلام آباد: حساس لیکس کے بھیجے جانے کے لئے ترجیحی اخبار ڈان کو ایک مزید سنسنی خیز لیک موصول ہوئی ہے۔ یہ لیک ایک ضخیم دستاویز کی شکل میں موصول ہوئی ہے جو کہ ایسے ذرائع کی مدد سے تیار کی گئی ہے جن میں مقامی اور غیر ملکی جاسوسی ادارے شامل ہیں۔

اس دستاویز/رپورٹ میں دعوی کی گیا ہے 98.7 فیصد پاکستانی کسی نہ کسی غیر ملکی جاسوسی ادارے کے ایجنٹ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 40،2 فیصد پاکستانی بھارتی ایجنٹ ہیں، 3.33 فیصد امریکی ایجنٹ ہیں، 11 فیصد برطانوی ایجنٹ، 6.2 فیصد ایرانی ایجنٹ، 3.1 افغان ایجنٹ، 3 فیصد بیک وقت امریکی اور بھارتی ایجنٹ، 1.1 فیصد گوئٹے مالا کے ایجنٹ اور کم از کم ایک پاکستانی یوگنڈا کا ایجنٹ ہے۔

ہماری تحقیقات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ رپورٹ یوگنڈا کے ایجنٹ نے اس وقت لیک کی جب سے یوگنڈا کی حکومت کی جانب سے اس کا ماہانہ مشاہرہ روک دیا گیا تھا کیونکہ اسے پاکستان میں مزید کوئی ایجنٹ بھرتی کرنے میں کامیابی نہیں ہو سکی تھی۔

ہم ابھی تک اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یوگنڈا کی ایجنسی آخر اس سے چاہتی کیا تھی؟ ہماری ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ آموں سے متعلقہ کوئی معاملہ تھا۔

\"nfp-02\"

ڈان کو لیک کیے جانے سے پہلے اس رپورٹ کو مقبول سوشل میڈیا سائٹ لنکڈ ان پر لیک کیا گیا تھا۔ وہاں اس نے ایک سنسنی پھیلا دی اور اسے مختلف سیاسی پارٹیوں کے میڈیا سیلوں نے اٹھا لیا۔

سب سے پہلے اس پر تحریک انصاف کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ نے کمنٹ کیا جس نے ٹویٹ کی: غدار نواز کی قلعی کھل گئی۔ انڈیا/امریکہ/برطانیہ/افغانستان/ایران/گوئٹے مالا/یوگنڈا کو خوش کرنے کی خاطر کھربوں لوٹے گئے۔

اس کے فوراً بعد ایک اور ٹویٹ کی گئی: غدار حکومت مودی، اوباما، غنی اور پبلو ایسکوبار کے کہنے پر دھماکے کر رہی ہے۔

آفیشل مسلم لیگ ن کے ٹویٹر اکاؤنٹ نے اس کا یوں جواب دیا: سچ سامنے آ گیا۔ عمران خان کو انڈیا/امریکہ/برطانیہ/افغانستان/ایران/گوئٹے مالا/یوگنڈا کی جانب سے فنڈ کیا جا رہا ہے۔

اس کے فوری بعد ایک مزید ٹویٹ کی گئی: عمران خان مودی/اوباما/غنی اور سکارفیس کے کہنے پر دھرنے کر رہا ہے۔

جلد ہی دونوں پارٹیوں کے حامیوں کے درمیان ٹویٹس کی ایک قابل ملامت جنگ چھڑ گئی۔ ڈان سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے ایک ایکٹو ممبر نے کہا: ”غدار نواز بیٹی مریم موٹا گروپ میڈیا سیل جسے را، سی آئی اے، جیو اور ڈان بریڈ فنڈ کرتا ہے، اربوں کھربوں لوٹ کر بم بلاسٹ (bum blasts) کر کے طاقتور اٹلس دیوتا کو پاکستان سے کرپشن ختم کرنے سے روک رہا ہے۔ 98.7 فیصد شرطیہ ایجنٹ ہم سبز محب وطن چشمہ سازوں کے خلاف۔ اوہ کیا کمال ہو گا جب آئے گا عمران بڑھے گی شان بنائے گا نیا پاکستان۔۔۔“۔

جب مبینہ موٹا گروپ کے ایک ممبر سے جو کہ مبینہ طور پر مسلم لیگ ن کا میڈیا سیل چلاتا ہے، مبینہ طور پر رابطہ کیا گیا، تو اس نے مبینہ طور پر کہا: ”یہ کیا مبینہ مبینہ لگائی ہوئی ہے؟ ہمارا موٹا گروپ ایک سچا محب وطن گروپ ہے۔ ہمارے نواز کو 98.7 فیصد ووٹروں اور موٹروں نے منتخب کیا ہے لیکن یہ غدار خان اور اس کی غدار پارٹی ملک دشمن غیر ملکی آقاؤں کے کہنے پر ترقی کی راہ میں بھاری بھرکم روڑے اٹکا رہی ہے۔

ہمارا ایک گھونسا ان ممی ڈیڈی برگروں کے دانت توڑ ڈالے گا لیکن ہمارے لیڈر نواز نے کہا ہے کہ صبر کرو اور ٹھنڈے رہو کیونکہ اورینج لائن اور ماؤ زے تنگ کی برکت سے سب اچھا ہو جائے گا۔۔۔“

دونوں پارٹیوں کے درمیان جنگ شدت اختیار کر گئی تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنی اسلام آباد کی رہائش گاہ پر ایک ہنگامی پریس کانفرس کی۔ ان کے دائیں بائیں پارٹی کے اہم لیڈر اور یک نفری عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد موجود تھے۔

\"nfp-04\"

عمران نے رپورٹروں کو بتایا: ”اس لیک رپورٹ سے اسی بات کی تصدیق کی ہے جو کہ میں برسوں سے کہتا آ رہا ہوں۔ مسلم لیگ ن کے 98.7 اراکین کرپٹ ہیں۔ وہ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ میں پاکستان کو ایک جدید رجعت پسند سکینڈے نیوین اسلامی فلاحی سرمایہ دارانہ سوشلسٹ جمہوری خلافت بنا دوں“۔

جب ایک صحافی نے نشاندہی کی کہ رپورٹ میں تمام پاکستانیوں کے 98.7 فیصد کا ذکر کیا گیا ہے، تو عمران خان نے جواب دیا: 98.7 مسلم لیگ ن کے ووٹر۔ سب کے سب کرپٹ۔

جب اس صحافی نے انہیں بتایا کہ رپورٹ کرپشن کے نہیں بلکہ ایجنٹوں کے بارے میں تھی، تو عمران خان چلائے: ”تم ضرور جیو سے تعلق رکھتے ہو گے“۔

\"nfp-05\"

جب صحافی نے کہا کہ ان کا تعلق جیو سے نہیں ہے، تو عمران خان نے جھلا کر جواب دیا: ”پھر شاید ڈان بریڈ سے ہو گے۔ سب کے سب کرپٹ ہیں“۔ جب صحافی نے بطور احتجاج واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تو تحریک انصاف کے لیڈروں نے نعرے بلند کرنے شروع کر دیے، ”گو نواز گو۔ گو نواز گو“۔

لیکن شیخ رشید نے مداخلت کی اور صحافی سے واپس آنے کی درخواست کی۔ انہوں نے صحافیوں کو کہا: ”برائے مہربانی سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ پاکستان ایک نازک صورت حال سے دوچار ہے۔ میڈیا ہمارا سب سے بہترین ساجھے دار اور عاشق ہے، سوائے چند غداروں کے، لیکن جیسا کہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے، 98.7 میڈیا ہاؤس کرپشن کے خلاف ہمارے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔

\"nfp-06\"

جب انہیں بتایا گیا کہ رپورٹ میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے، تو شیخ ریشد جھلا گئے اور انہوں نے اعلان کیا: ”میرے پاس رپورٹ کا کچھ حصہ موجود ہے جس میں یہ لکھا ہوا ہے۔ وہ میں صرف محب وطن ٹی وی چینلوں کو ٹھیک آٹھ بجے دکھاؤں گا۔ اسے ضرور دیکھنا۔ آپ اس کی نشر مکرر 11.05 بجے دوبارہ دیکھ سکتے ہیں ورنہ یو ٹیوب پر کسی بھی صبح یا شام کو دیکھ لینا۔ اوکے؟“۔

دوسری طرف لاہور میں وزیر اطلاعات پرویز رشید نے اپنی پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے میڈیا والوں کو بتایا: ”یہ لیک ہونے والی دستاویز جو کہ میرے لنکڈ ان کے ان باکس میں آن گری، اور جلد ہی دنیا بھر کے اخبارات میں شائع ہو جائے گی، نے حتمی انداز میں اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کے 98.7 فیصد اقدامات اور پالیسیاں دشمن ملکوں کی جانب سے فنڈ کیے جا رہے ہیں تاکہ ہماری حکومت، پاکستان کو ایک جدید روایت پسند مشرق وسطی کے چینی انداز کی بادشاہی جمہوری مملکت میں تبدیل نہ کر پائے۔

جب ایک صحافی نے یہ نشاندہی کی کہ رپورٹ میں تحریک انصاف کے ممبران نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کی 98.7 فیصد تعداد کا ذکر کیا گیا ہے، تو وزیر موصوف نے فرمایا ”تم ضرور اے آر وائی سے ہو گے“۔ جب صحافی نے اس کی تردید کی تو وزیر نے کہا کہ ”پھر شاید بول سے ہو گے“۔ جب صحافی نے بطور احتجاج واک آؤٹ کا فیصلہ کیا تو وزیر نے کہا ”جاؤ، اگر تمہیں ہمارا پاکستان اچھا نہیں لگتا تو یوگنڈا چلے جاؤ جہاں سے تمہیں پیسہ دیا جاتا ہے“۔

\"nfp-07\"

مسلم لیگ ن کے ایک اور نمایاں لیڈر، عابد شیر علی نے مداخلت کی اور صحافی کو اپنے نجی سوئمنگ پول کے آزادانہ استعمال، سینٹ مائیکل کے سوئمنگ کاسٹیوم، اور اسی کاسٹیوم کو زیب تن کیے ہوئے فیشن کے رسالے ہیلو کے مرکزی صفحے پر تصویر شائع کرنے کا لالچ دے کر بہلا پھسلا واپس لے آئے۔ اس پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے آواز لگائی ”کچھ شرم، کچھ حیا۔۔۔“۔

بالآخر دوسری سیاسی پارٹیاں بھی میدان میں اتر آئیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو نے ایک ٹویٹ میں کہا ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، 98.7 فیصد زندہ ہے“۔

انہوں نے اپنے بلند آہنگ رد عمل کی وضاحت ایک اور ٹویٹ میں کی: پاکستان میں کوئی بھی ایجنٹ نہیں ہے۔ بند کرو یہ سب۔ صرف اور صرف مودی کا جو یار ہے، وہ 98.7 فیصد غدار ہے۔

ایک مزید ٹویٹ میں انہوں نے مزید واضح کیا: میرا مطلب ہے کہ صرف 1.3 فیصد پاکستانی ایجنٹ ہیں۔ بقیہ 98.7 فیصد سب کے سب بھٹو ہیں۔

ایک اخباری بیان میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا: یہ دستاویز واضح طور پر عمران خان نے گھڑی ہے کیونکہ اس میں اسرائیل کا ذکر نہیں ہے۔ اگر یہ عمران خان نے نہ گھڑی ہوتی تو اس میں اسرائیل کا ذکر ضرور ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ جے یو آئی کو اس بات کا 98.7 فیصد یقین ہے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا: اس رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار درست نہیں ہیں۔ 99.99 فیصد پاکستانی ایجنٹ ہیں اور صرف 0.1 فیصد سچے محب وطن ہیں۔

\"nfp-09\"

انہوں نے مزید کہا کہ یہ 0.1 فیصد پاکستانی جماعت اسلامی کے رکن ہیں اور پارٹی ان سب کو ”ال دل بولا ال پکولا“ ایوارڈ سے نوازے گی۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ اس ایوارڈ کا اجرا آٹھویں صدی عیسوی میں بانی پاکستان محمد بن قاسم نے کیا تھا۔

جماعت الدعوہ کے امیر حافظ سعید نے کہا: سنو دوست، اگر میرے لئے ممکن ہوتا تو میں محض اسی دنوں میں سو فیصد پاکستانی بہن بھائیوں، اور ان بہنوں کو جو بھائی بن چکی ہیں، تن من دھن وارنے والا فلاحی کارکن بنا دیتا جن کے پوری دنیا میں دفاتر ہوتے۔ لیکن کچھ ایجنٹ جماعت الدعوہ پر پابندی عائد کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یقین رکھیں کہ وہ دھول چاٹیں گے۔

وہ مشہور ٹی وی چینل نیہو کے ایک شو میں بات کر رہے تھے۔ یہ چینل پاکستان کے لوگوں کے لئے ان ذہین مفکرین کی فکر و دانش کو پیش کرنے کے لئے مشہور ہے جو کہ نہایت دانشمندی اور فکر سے کام لیتے ہوئے پولینڈ کی ایجنٹ ملالہ یوسفزئی سے نفرت کرتے ہیں۔

ایم کیو ایم لندن کے چیف الطاف حسین نے کچھ نہیں کہا مگر انہوں نے پپی لینے کی ایک دلچسپ آواز نکالی جس کا مطلب نکالنے کی میڈیا کوشش کر رہا ہے۔ ایم کیو ایم کراچی نے کہا ہے کہ رپورٹ سے ثابت ہو چکا ہے کہ کراچی کے 98.7 فیصد باشندے ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ ہیں۔

\"nfp-10\"

لیکن مصطفی کمال کی پاک سر زمین پارٹی نے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان دونوں ہی دشمن ایجنٹوں سے بھرے ہوئے ہیں اور کراچی کے 98.7 فیصد باشندے پاک سر زمین پارٹی کو ہی ووٹ دیں گے۔ مصطفی کمال نے ڈان کو بتایا کہ الطاف حسین کی پپی کی یہ آواز درحقیقت ان کے پاکستانی ایجنٹوں کے لئے ایک اشارہ تھا کہ وہ اگلے سال کے ویلنٹائن ڈے پر الطاف مخالف محب وطن افراد پر حملہ کر دیں۔

انڈیا کی جانب سے بھی ان لیک ہونے والی رپورٹس پر ردعمل سامنے آیا۔ بھارتی پردھان منتری نریندر مودی نے ہندوستانی ٹی وی اینکر ارناب گوسوامی کو کہا ”تم تو بہت ہی زبردست اور پرکشش محب وطن دکھائی دے رہے ہو“۔

گوسوامی نے سینہ باہر نکالا، نتھنے پھلائے اور گوریلے کی سی آواز نکالتے ہوئے دونوں مکوں سے اپنی چھاتی پیٹنی شروع کر دی۔ پردھان منتری مسکرائے اور ایک جست لگا کر پرجوش گوسوامی کے پیچھے پہنچ گئے تاکہ اس کے ساتھ ایک سیلفی لے سکیں۔

جب پروگرام کے پروڈیوسر نے گوسوامی کو رپورٹ کے متعلق بات کرنے کو کہا تو گوسوامی نے اعلان کیا کہ پروڈیوسر درحقیقت ایک پاکستانی ایجنٹ ہے اور اسے اپنے فریج میں بیف رکھنے کے جرم میں زندہ جلا دیا جانا چاہیے۔ اس پر پردھان منتری مودی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ”تم تو بہت ہی پرکشش محب وطن جوان ہو“۔

\"nfp-11\"

گوسوامی بے ساختہ چھلانگ لگا کر چھت پر لگے پنکھے سے جھولنے لگے اور چیخنے لگے ”اوم پوری، تم پاکستانی گائے خور، انڈیا چھوڑ کر لاہور چلے جاؤ“۔ پردھان منتری مودی مسکرائے اور بولے ”اوم پوری کی جلد بہت بری ہے۔ اس کے ساتھ سیلفی نہیں ہو گی“۔

یہ رپورٹ لکھے جانے تک گوسوامی کے بارے میں یہی اطلاعات ہیں کہ وہ ابھی تک پنکھے سے جھول رہے ہیں اور اوم پوری پر دشنام طرازی کر رہے ہیں، جبکہ پردھان منتری مودی کی توجہ عدنان سمیع خان کی طرف مبذول ہو چکی ہے اور وہ اسے ایک نہایت لچکیلا محب وطن شخص قرار دے رہے ہیں جو کہ گوشت چھوڑ کر گجرات کی گوبھی کھانے لگے ہیں اور 98.7 فیصد دبلے ہو چکے ہیں۔

(یہ مضمون انگریزی روزنامے ڈان سے ترجمہ کیا گیا ہے)

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar