شاہد خاقان عباسی اور نئے رولز آف گیمز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں موجود اہل دانش کا ایک بڑا طبقہ قومی بحران کے حل میں ایک نئے مکالمہ کی اہمیت پر زور دے رہا ہے۔ اس طبقہ کے بقول تمام فریقین کو موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے ایک سنجیدہ اور باعمل مکالمہ کی ضرورت ہے۔ یعنی مختلف فریقین کے درمیان سیاست، معاشرت، قانون، معیشت، انتظامات اور حکمرانی کے نظام میں نئے رولز آف گیمز درکار ہیں۔ منطق یہ ہے کہ ہمارا موجودہ سیاسی، انتظامی نظام کافی حد تک ایک ایسے بگاڑ کا شکار ہوگیا ہے جو غیر معمولی اقدامات یا کڑوی گولیوں کی بنیاد پر ہی کچھ بہتر تبدیلی کے امکانات کو پیدا کرسکتا ہے اور اس طبقہ کے بقول یہ تبدیلی روایتی طور طریقوں کی بجائے کچھ بڑے فیصلوں سے جڑی ہے۔ کیونکہ مختلف فریقین کے اپنے درمیان تبدیلی کے تناظر میں یا تو ابہام ہے یا وہ اس تبدیلی کے عمل کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں تبدیلی کے تناظر میں مختلف فریقین کے اپنے درمیان بداعتمادی کی فضا غالب نظر آتی ہے۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ ن کے چند سنجیدہ طرز فکر سے جڑے سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی مجموعی سیاست ٹھہراو، تدبر اور فہم فراست سمیت بردباری سے جڑی نظر آتی ہے۔ وہ اس وقت عمران خان کی حکومت کے سخت ناقد ہیں اور ان کی تنقید کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ وہ کیونکہ حکومت مخالف بھی ہیں اور خود بھی مشکل میں ہیں۔ آج کل شاہد خاقان عباسی مختلف انٹرویوز میں تسلسل کے ساتھ مختلف فریقین کے درمیان نئے مکالمہ یا طرز حکمرانی کے لیے نئے اصول وضع کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

ان کے بقول اگر فریقین اس مکالمہ پر متفق نہ ہوئے تو قومی بحران حل نہیں ہوسکے گا اور یہ مزید انتشار پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ واقعی قومی مکالمہ ہونا چاہیے، لیکن ہمارے اہل سیاست کو یہ خیا ل محض حزب اختلاف کی سیاست میں کیوں پیش آتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جب یہ ہی اہل سیاست خود حکومت میں ہوتے ہیں تو وہ ہمیشہ اس طرز کے مکالمہ کے مخالف ہوتے ہیں۔

اصل میں ہمارے حکمران طبقات کا المیہ یہ ہے کہ جب یہ لوگ حکمرانی سے باہر ہوتے ہیں تو ان کو انقلاب اور بہت بڑی بڑی تبدیلیاں یا وہ قومی سطح پر اصلاحات کے بڑے داعی بنتے ہیں، مگر جیسے ہی یہ لوگ اقتدار کی سیاست کا حصہ بنتے ہیں تو اپنی ہی سوچ اور فکر کو قربان کرکے قومی سطح پر پہلے سے موجود روایتی طرز کی سیاست کے ساتھ حکمرانی کے نظام کو چلاتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شاہد خاقان عباسی جس مکالمہ کی بات کررہے ہیں اس کی بڑی وجہ واقعی نظام میں کوئی بڑی تبدیلی ہے یا وہ محض حزب اقتدار کی سیاست کی وجہ سے اس طرز کی بات کرکے حکمرانوں کے خلاف سیاسی سکورنگ کرنا چاہتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے درست کہا کہ ہمیں اپنا انتخابی نظام شفاف بنانا ہوگا اور یہ حق لوگوں کو دینا ہوگا، مگریہ سب کیسے ہوگا اور کون کرے گا۔

ہماری سیاسی قیادت یہ بھول جاتی ہے کہ اگر واقعی کوئی بڑی تبدیلی کی طرف بڑھنا ہے تو اس کا پہلی ابتدا خود سیاسی جماعتوں اور ان کی موجود قیادت نے کرنا ہے۔ یعنی وہ اپنے سیاسی اور جماعتی داخلی نظام کو تو پہلے اصلاحات کے عمل میں لائیں اور خود شاہد خاقان عباسی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ان کی اپنی جماعت کا داخلی بحران کیا ہے اور وہ کہاں کھڑے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں خود کو اور اپنی جماعتوں کو تو جمہوری طور پر تشکیل دینے کے لیے تیار نہیں تو خارجی سطح پر بڑی تبدیلی کا عمل کیسے ممکن ہوگا۔ یہ مسئلہ محض مسلم لیگ ن کا ہی نہیں بلکہ ہماری بیشتر سیاسی جماعتیں اسی داخلی تضادات کے باعث اپنی اہمیت کھودیتی ہیں۔ جب سیاسی قیادتیں خود کو اپنی اپنی جماعتوں میں جوابدہ بنائیں گی تو اس سے سیاسی جماعت بھی مضبوط ہوگی اور ان کا خارجی مقدمہ بھی۔

شاہد خاقان عباسی نے بہت زور دے کر حکمرانی کے نظام کو شفافیت میں لانے کی بات کی ہے اور ان کے بقول موجودہ حکمرانی کا نظام اپنی اہمیت کھوبیٹھا ہے۔ یہ درست تجزیہ ہے اور اس کی بنیاد صرف اور صرف اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی یعنی ایک مضبوط مقامی حکومت کے نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ جب بھی سیاسی جماعتوں کو موقع ملتا ہے تو ان کا پہلا نشانہ مقامی حکومتوں کا نظام بنتا ہے اور ان ہی سیاسی جماعتوں کے ادوار میں یہ نظام سیاسی استحصال کا شکار ہوتا ہے اور طاقت ور طبقات کے ہاتھوں یرغمال بن جاتا ہے۔

عمران خان کی حکومت بھی اسی بحران یا تضاد کا شکار ہے اور ان کا دور حکومت بھی مقامی نظام کو مضبوط بنانے کی بجائے کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اصل مسئلہ کسی نئے مکالمہ کی صورت میں چند نکات پر اتفا ق کرنا نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ابتدائی سطح پر ایک بڑا مکالمہ خود سیاسی جماعتوں کے اپنے اندر ہونا چاہیے کہ اگر ہم نے سیاسی نظام کو مربوط انداز میں آگے بڑھانا ہے تو اس کی عملی شکل یا نئے رولز آف گیمز کیا ہوں گے۔ کیا مسلم لیگ ن میں شاہد خاقان عباسی اپنی جماعت کے اندر اس مکالمہ کی ابتدا کرسکتے ہیں اور کیا نواز شریف یا شہباز شریف چاہیں گے کہ ایسا مکالمہ جو ان کے مقابلے میں سیاسی جماعت کو مضبوط کرے، مشکل مرحلہ ہوگا۔

یہاں عملی صورتحال تو یہ ہے کہ اگر نظام ہمارے مطابق چلے اور اقتدار پر ہم موجود ہوں تو سب کچھ اچھا ہوتا ہے اور اگر ہمیں باہر نکال کر نظام بنایا جائے یا کسی کو اقتدار دیا جائے تو یہ عمل جمہوریت اور سیاست کے خلاف سازش ہوتا ہے۔ ہماری آج کی حزب اختلاف میں بہت سے لوگ موجود ہیں جو اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے ہی اپنے لیے سیاسی دوا حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جب اسٹیبلیشمنٹ کے طاقت ور کی دلیل دی جاتی ہے تویہ بات وزنی ہے، مگر یہ اعتراف بھی کیا جانا چاہیے کہ جو سیاسی خلا سیاسی قیادتیں، سیاسی جماعتیں یا سیاسی نظام دیتا ہے تو یہ بھی ایک وجہ بنتی ہے اسٹیبلیشمنٹ کی مضبوطی کی۔ سیاسی نظام جب عوامی توقعات کے مطابق ڈلیور کرتا ہے تو اس کا نتیجہ سیاست اور جمہور کی مضبوطی اور اسٹیبلیشمنٹ کے سیاسی کردار کو محدود کرتا ہے۔

یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اگر ہمیں مختلف فریقین کے درمیان نیا مکالمہ کرنا ہے تو پہلے اس کے لیے ایک سیاسی ماحول بنانا ہوگا۔ یہ کام مختلف فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں اور سازشی تھیوریوں کی مدد سے ممکن نہیں ہوگا۔ ہمیں نئے حالات میں سب فریقین کے مسئلہ یا موقف کو سمجھنا ہوگا اور کسی کی نیت پر شک کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے معاملات کو سمجھ کر مستقبل کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ لیکن اگر اس کے مقابلے میں حکومت حزب اختلاف کو اور حزب اختلاف حکومت کے سیاسی وجود کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کردے تو مکالمہ کا عمل بہت ہی پیچھے چلاجاتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت جو سیاسی محازآرائی یا سیاسی تقسیم حکومت اور حزب اختلاف یا دیگر فریقین میں موجود ہے تو ایسی ہی صورتحال میں کون اس مکالمہ کو لے کر آگے بڑھے گا، خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اس مکالمہ کی ابتدا کے لیے پہلے سیاسی جماعتیں خود کو پیش کریں۔ سیاسی جماعتوں کی سطح پر جو ایجنڈا ہونا چاہیے اس میں اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی مداخلت کا خاتمہ، سیاسی جماعتوں کا داخلی جمہوری نظام، دولت کی بنیاد پر سیاسی اجارہ داری یا سیاسی فیصلوں پر دولت کی بنیاد پر غلبہ، حکمرانی کے نظام میں مقامی نظام حکومت کو تیسری حکومت کے طو رپر تسلیم کرنا، مرکزیت کے مقابلہ میں عدم مرکزیت کا نظام، انسانی اور سماجی ترقی کا مربوط نظا م کا خاکہ، شفافیت اور احتساب پر مبنی نظام، اداروں کی خود مختاری اور بالادستی، شفا فیت پر مبنی انتخابات کا نظام اور مربوط انتخابی سطح پر اصلاحات کا عمل اور سول ملٹری تعلقات جیسے امو رشامل ہیں۔ ہر سیاسی جماعتوں میں اچھے لوگ موجود ہیں اور اگر یہ لوگ اپنی اپنی جماعتوں اور قیادتوں پر یہ دباؤ ڈالیں کہ ہمیں اپنے داخلی نظام کی خود مختاری کے لیے بھی مکالمہ کرنا ہوگا۔

شاہد خاقان عباسی کی نیت پر شبہ نہیں لیکن یہ کام وہ داخلی سطح کے تضادا ت کو ختم کیے بغیر نہیں کرسکیں گے۔ کیونکہ اب وقت ہے کہ اگر واقعی ہمیں کسی بڑی تبدیلی کی طرف بڑھنا ہے تو ہماری سیاسی قیادت اور جماعتوں کو خود کو ایک بڑی لیڈ کے طو رپر پیش کرنا ہوگا اور ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی جنگ ذاتی مفاد کے برعکس سیاست، جمہوریت اور قوم کے مفاد میں ہے تو یہ ہی عمل مختلف فریقین میں ایک بڑے سیاسی اعتماد کی بحالی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *