کوروناوائرس : دوا، دعا اور جدید سائنس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہاورڈ یونیورسٹی (Harvard University) کے مشہور پروفیسر ہربرٹ بینسن (Herbert Benson) نہ صرف مصنف ہیں بلکہ مشہور کارڈیالوجسٹ بھی ہیں۔ وہ ہاورڈ یونیورسٹی کے مائنڈ انسٹی ٹیوٹ کے بانی بھی ہیں۔ انہوں نے کئی دہائیاں دعاؤں کے اثرات پر تحقیق کی۔ وہ کہتے ہیں کہ دعا انسان پر ہر کسی قسم کے دباؤ (Stress) کو کم کرتی ہے۔ انہوں نے باقاعدہ MRI سکیننگ سے یہ ثابت کیا کہ جب کوئی انسان دعا کرتا ہے تو اس کے دماغ کے انتہائی اندرونی حصے ایک دلچسپ عمل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

اس عمل کی وجہ سے انسان کا پورا لمبک سسٹم (Limbic System) ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے۔ پھرایک سکون کا ایک احساس پورے دماغ کو ڈھانپ لیتی ہے جو اپنی پوری قوت سے انسان کے اعصابی نظام، دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور میٹا بولزم پر اثرانداز ہوکر انسانی جسم کو ریگولیٹ کر دیتی ہے۔ یاد رہے کہ کسی بھی قسم کی بیماری میں جسم بے قاعدہ (Irregular) ہوجاتا ہے اور اس کے ریگولر ہو جانے کا نام ہی شفا ہے۔

امریکی ریاست کنساس میں واقع Mid America Heart Institute کے مشہور ڈاکٹر Willaim Harns نے اپنی ٹیم کے ساتھ 1000 دل کے مریضوں کا انتخاب کیا اور ان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک گروپ کے لیے باقاعدہ دعا کا اہتمام کرایا گیا جبکہ دوسرے گروپ کے لیے کسی قسم کی دعا نہ کرائی گئی۔ ڈبل بلائنڈ، جدید تحقیق کا سب سے معتبرپیمانہ ہے۔ اسے ڈبل بلائنڈ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس تجربے میں تحقیق کے دونوں فریق بے خبر ہوتے ہیں۔

لیکن اس تحقیق میں ٹرپل بلائنڈ پیمانہ استعمال کیا گیا کیونکہ یہاں نہ تو مریضوں کو پتا تھا کہ وہ کسی قسم کے تجربے میں شامل ہیں اور نہ ہی علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو ان مریضوں کے بارے میں بتایا گیا اور نہ ہی دعا کرنے والوں کے سامنے ان مریضوں کی نشاندہی کی گئی۔ انتہائی رازداری سے ان مریضوں کا ایک سال تک معائنہ کیا گیا اور ایک سال بعد یہ نتیجہ نکلا کہ جن مریضوں کے لیے باقاعدہ دعا کرائی جاتی تھی ان میں ہرٹ اٹیک، اسٹروک اور دوسری پیچیدگیاں 11 % کم واقع ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر James O ’Keefe جودعا کے اثر بارے شک شکار تھے انہوں نے جب یہ نتائج دیکھے تو بے ساختہ کہہ اٹھے ؛

”As a scientist، it is very counter intuitive because I do not have a way to explain it“

یہ دو مثالیں تحقیق کی دیگ کا ایک دانہ ہیں جو مغربی دنیا میں دعاؤں کے اثرات پر کی گئی ہیں۔ میرے ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں جب بھی کوئی وبا یا مصیبت آتی ہے اور لوگو ں کی توجہ اس طر ف دلائی جاتی ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کریں اور توبہ و استغفار کریں تو یہاں ”ولایتی ساختہ دیسی“ دانشور مذہبی تعلیمات کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ حالانکہ انصاف کی بات یہ ہے کہ مذہب کی آڑ میں سائنس کا مذاق اڑانے والے اور سائنس کی آڑ میں مذہب کا مذاق اڑانے والے، دونوں غلط ہیں کیونکہ مذہب اسلام جدید علوم کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ اس کی نظر میں وہ تمام علوم ستائش کے قابل ہیں جن سے انسانیت کا مفاد وابستہ ہے۔

اسلام دعا اور دوا دونوں کا قائل ہے۔ کورونا کو ہی لے لیجیے۔ یہ وبا آئی تو علماء نے فقط اتنا کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے عذاب ہے، ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے، اللہ کی طرف رجوع کریں اور توبہ و استغفار کر کے اس سے نجات کی دعا کریں۔ اتنا کہنے کی دیر تھی کہ میرے ملک کا ”ہر فن مولا“ صحافی اور دانشور لٹھ لے کر ان کے پیچھے پڑ گیا اورکہنے لگا کہ اس میں توبہ کا کیاکام؟ بس علاج کریں۔ حالانکہ یہ کسی نے نہیں کہا تھا کہ دوا کرنا حرام ہے۔ ان کہنا فقط اتنا تھا کہ کورونا بارے جدید سائنس اس وقت تک بے بس ہے۔ پس اس کی جانب لو لگائیں جو مسبب الاسباب ہے اور جس کے ایک لفظ ”کن“ سے سارے کام ہو جاتے ہیں اوربداعمالیوں سے بچیں۔

فی الواقع بات یہی ہے کہ سابقہ امتوں پر جو بھی آفات، آزمائشیں، مصیبتیں اور عذاب آئے وہ ان کے اعمال کی وجہ سے آئے۔ مثلاًحضرت نوح کی قوم طوفانی بارش کا شکار ہو گئی اوراصحاب فیل کو برستی ہوئی کنکریوں سے ہلاک کردیا گیا۔ قرآن کہتا ہے کہ ان کی ہلاکت کا سبب ان کے اعمال بدتھے۔ وجہ نزاع یہ ہے کہ جدید سائنس اس بات کی توجیہ کرتی ہے مثلاًزلزلوں کا سبب ہے کہ زمین کی پلیٹ سرک جاتی ہیں۔ یعنی کورونا کی طرح جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو سائنس اس کی وجہ بیان کرتی ہے۔

زلزلوں کو ہی لے لیجیے علماء نے یہ کب کہا کہ ان کا سبب زمین کی پلیٹوں کا سرکنا نہیں ہے؟ وہ اس بات کو مانتے ہیں لیکن اس سے آگے کا سوال کرتے ہیں کہ یہ پلیٹیں کیوں سرکیں؟ انہیں کس نے سرکایا؟ جواب میں قرآن کہتا ہے کہ وجہ انسان کی بد اعمالی ہے۔ اسلام اور علماء اتنا ہی کہتے ہیں کہ دوا کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں دعا بھی کیجیے لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لوگوں کو دعا سے دور کرکے صرف دوا پر انحصار کرنے کا کہاجاتا ہے کیونکہ پٹرولیم کے بعد میڈیسن ہی دنیا کی سب سے بڑی اور منافع بخش انڈسٹری ہے اور اس پر جن لوگوں کا ہولڈ ہے ان کی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

قرآن میں انبیاء سمیت مختلف نیک لوگوں کے قصے مذکور ہیں جنہیں مختلف آزمائشوں میں مبتلا کیا گیالیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اسی طرح جب مختلف عذابوں میں ہلاک ہونے والی قوموں کا ذکر کیا تو جہاں ان کی ہلاکت کا سبب بتایا وہیں ”عبرۃ لاولی الالباب“ کہہ کران کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی تاکید بھی کی۔ یعنی اگر کورونا کی طرح کسی بھی عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو برے کاموں سے اجتناب کرو۔ مانا کہ موجودہ وبا کا سبب کورونا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا خالق کون ہے اور کس نے اسے انسانوں پر کیوں مسلط کیا ہے؟

لیکن افسوس جب بھی دوا کے ساتھ دعا اوربداعمالیوں سے رکنے کی بات کی جاتی ہے تو میرے ملک کا دانشور بھڑک اٹھتا ہے۔ میں اس بات کو بھی ذکر نہیں کرتا کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے اور قرآن وحدیث میں مذکور ان واقعات کا ذکر بھی نہیں کرتا جن کی رو سے دعا نے حالات بدل دیے۔ مولویوں کی نہ مانو جدید سائنس کی ہی مان لو۔

Redcliffe Institutue for Advanced Study کی ڈاکٹرCadgeکابھی یہی کہنا ہے کہ مذہب کردار اداکرتا ہے۔ ڈاکٹر Cha Et La نے چھبیس سے چالیس سالہ بانجھ عورتوں پر آئی وی ایف (In Vitro Fertilization) استعمال کیا اور دعا کراکرتجربے سے یہ ثابت کیا کہ ان میں حمل کی شرح دوگنی ہوئی۔ اسی طرح ڈاکٹر Lesniak نے ممالیہ جانوروں کے زخمی بچوں کا انتخاب کیا اور L۔ tryptophanاستعمال کرانے کے ساتھ ان کے دعائیہ اجتماعات کا اہتمام بھی کیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جن بچوں کے لیے دعا کی گئی تھی ان کی ریکوری کی رفتار دوگنی تھی۔

The American Society of hypertentionکی تحقیق کی نتیجہ بھی یہی ہے کہ دعاکا باقاعدہ اہتمام کرنے والوں کا بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے۔ سان فرانسسکو کے جنرل سپتال نے دل کے 393 مریضوں کا انتخاب کیا اور ان کو دوگرہوں میں تقسیم کیا۔ ایک کے لیے دعا کا اہتمام کیا گیا جبکہ دوسرے کو صرف دوائیں استعمال کرائی گئیں اور یہ نتیجہ نکلا کہ جن کے لیے دعا کرائی گئی تھی نہ صرف ان کے مرض میں پیچیدگی کم پائی گئی بلکہ وہ جلد صحت یاب ہو کر گھروں کو لوٹ گئے۔

کیلفورنیا کے American Journal of Public healthنے پانچ سال مسلسل 5000 مریضوں پر ریسرچ کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دعا کرنے والوں کی عمر نسبتاً لمبی اور پرسکون ہوتی ہے۔ U۔ S۔ Journal of Gerontologyکی تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ دعا کرنے والوں میں موت کی شرح کم ہے۔ Duke یونیورسٹی کے ڈاکٹر کوئننگ ہیرالڈنے دعاؤں کے اثرات پر تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ دعامانگنے والے افراد کابیماریوں سے محفوظ رہنے کاچانس چالیس فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح کی اور سینکڑوں تحقیق اورتجربے بھی موجود ہیں۔

اب آپ ہی بتائیے کہ متشدد یا جاہل کہلانے کا زیادہ حقدار کون ہے : وہ جو دوا کے ساتھ دعا کا مشورہ بھی دیتے ہیں یا وہ جو دعا کو ناکارہ کہہ کر صرف دوا کی تلقین کرتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *