کرونا وائرس، مذہبی رہنماؤں اور حکمرانوں کا ردعمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز میں کرونا وائرس کی آفت نازل ہوئے کافی دن گزر چکے۔ گھر ہو بازار، دفتریا فیکٹری، گلی محلے کی دکانوں اور تھڑوں تک گفتگو کا مرکز یہی وبا ہے۔ خاکسار نے مگر اس موضوع پر قلم گھسیٹنا گوارا نہ کیا۔ وجوہات دو ہیں۔ واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا پر وہ افرادبھی کرونا کا خصوصی طبیب بنے بیٹھے ہیں جنہیں اس وائرس کی ہیت ترکیبی تک نہیں معلوم۔ دوسرا یہ کہ وطن عزیز کا نظم و نسق چلانے کے لئے دستور سازی سے لے کر آج تک کو ن سا بحران یا مسئلہ ہے جسے اپنی بھر پور کوشش اورصلاحیت سے ہم نے بگاڑا نہ ہو؟ مسائل اور بحرانوں کی ایک طویل فہرست ہے جسے گنوانا شروع کیاجائے تو کتابوں کے انبار لگائے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں کیا کرونا اور کیا کرونا کا شوربا۔

دنیا بھر میں خوف کی فضا ہے۔ ملک میں سات سو سے زائد (تادم تحریر) شہری اس تکلیف دہ مرض کا شکار ہیں اور ہزاروں مشتبہ۔ کوئی نہیں جانتا کہ جب یہ تحریر آپ کی نظر سے گزرے تو یہ گنتی کہاں تک پہنچ چکی ہو۔ صد شکر کہ حکومت وقت کے کچھ صاحبان اختیار کا سب سے بڑا مسئلہ میاں نواز شریف کی وطن واپسی ہے۔ کرونا وائرس کے بارے میں حکم حاکم یہ ہے کہ گھبرانا نہیں۔ کرنا کیا ہے؟ خدا جانے اور اس کا کام۔

آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ اب ناہنجار کرونا کی گردان کیوں شروع کر دی۔ یقین کیجئے، خاکسار بے قصور ہے۔ اس کار نیک کی طرف مائل کرنے والی کچھ قدسی روحیں ہیں۔ گزشتہ ایک دو دن سے جن کے جذبہ ایمانی نے اس قدر عروج پایا ہے کہ کرونا کاشہباز اب مذہبی ممولے کے ہاتھوں ڈھیر ہوا ہی چاہتاہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کچھ ملحدوں کا ذکر بھی مقصود ہے۔

فقہ جعفریہ کے اس پاکستانی عالم کو سلام جس نے سب سے پہلے پوری قوم کو امام زمانہ کی بشارت سے آگاہ کیا۔ بس سورۃ البقرہ میں سے بال ڈھونڈیئے اور دو منٹ میں آپ کرونا سے محفوظ۔ ایسا نہیں کہ دوسرے مسالک کے علما ء یا پیران عظام کو اس بیماری کے حتمی اور شرطیہ علاج پر مہارت حاصل نہیں۔ ولایت کے ایک دعویدار نے تو بشارت دی ہے کہ خدا نے اسے کرونا کاعلاج الہام کیا ہے۔ بے شمار مساجد ایسی ہیں جہاں گزشتہ جمعہ کے اجتماعات معمول کے مطابق ہوئے۔

منبر رسول ﷺ پر براجمان بعض علما ء نے جمعہ کے خطبات میں مصافحہ اور معانقہ کی سنت کی ادائیگی پر زور دیا۔ چھاتی پر ہاتھ مارتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس عمل سے کوئی وبا کا شکار ہو تو انہیں گولی مار دی جائے۔ واللہ! کیا روح پرور منظر تھا جب تبلیغی جماعت کے ایک بزرگ نے کرونا کے عذاب کہ وجہ اور اس کے مستقبل کا منصوبہ بھی بیان فرمایا۔ لاریب، اتوار کا دن ختم ہوتے ہی شب معراج کی محافل میں بھی ایسے ہی دینی جذبے کا مظاہرہ ہو گا۔

قوم کی فکری رہنمائی کے دعویدار دانشور کہاں پیچھے رہتے۔ فوراًمعرکتہ آرا کالم لکھے گئے۔ خانہ خدا کی عارضی بندش عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ خاکسار اپنی جہالت کی بنا پر اس وعید کا سبب سمجھنے سے قاصر ہے۔ صدیوں سے خانہ خدا کو مسلسل آباد رکھے جانے کے باوجود اس وبا کا عذاب ہم پر کیوں نازل ہوا؟ چین کے ملحدوں نے چند ہفتوں کی قلیل مدت میں کرونا کی وبا کو شکست فاش کیسے دی؟

22 مارچ ہفتے کے روز پاکستان میں کرونا کے مصدقہ مریضوں میں 236 کا اضافہ ہوا جو اب تک ریکارڈ ہے۔ لاک ڈاؤن کی مخالفت کی جارہی ہے کہ دیہاڑی دار مزدور طبقہ بھوک سے مرے گا۔ ظاہر ہے بیماری سے مرے تو خدا کے کھاتے میں جائیں گے۔ بھوک سے مار کرحکومت اپنے کھاتے میں کیوں درج کروائے۔ دعویٰ یہ ہے کہ حکومت قرنطینہ میں مقیم مشتبہ مریضوں کے گھروں میں راشن بھجوا رہی ہے۔ دو چار ہفتوں کے لئے اگر چند لاکھ یا ایک دو کروڑ لوگوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کر دی جائے تو اس میں دقت کیا ہے۔ کاش کوئی ایسا ہی ہو جو اپنی جھولی پھیلائے۔ سڑکوں پر پھرنے کی بجائے دیوان یوسف، رفیق حبیب، ملک ریاض، میاں منشا، ناصر چاون یا صدر الدین ہاشوانی جیسوں کے محلوں کا رخ کرے۔ سنا ہے پاکستانی قوم دنیا میں خیرات دان کرنے میں بہت مستعد ہے۔

رشک آتا ہے چین کے ملحدوں کو دیکھ کر۔ علامہ اقبال کو خبر کیجئے، گراں خواب چینی سنبھل چکے۔ بیس جنوری کو جو آفت ان پر نازل ہوئی تھی ٹھیک دوماہ بعد بیس مارچ کو وہ اس کے خلاف کامیابی کا جشن منارہے ہیں۔ ہم چونکہ فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹا گرام کے ماہر ہیں اور لکھنے پڑھنے کی فضولیات سے ہر ممکن پرہیز پر عمل پیرا۔ ہم میں سے بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ بیس جنوری کو چین میں کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کی اطلا ع ملتے ہی صدر شی جن پنگ نے فوری اقدامات کا حکم دیا۔

صرف پانچ دن بعد ان کی صدارت میں ہونے والا ایک اعلیٰ سطح اجلاس تب ختم ہوا جب اس مصیبت سے نمٹنے کا مکمل منصوبہ تشکیل دے لیا گیا۔ پورے چین میں کرونا کے تقریباً اسی ہزار مریض تھے۔ غالب اکثریت صوبہ حوبے کے شہر ووہان میں تھی۔ ان اسی ہزار مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے ڈاکٹرز سمیت چالیس ہزار سے زائد طبی عملہ متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ کیا گیا۔ ان میں اکثریت چینی فوج کے ملازمین تھے۔ اس بیماری پر قابوپانے کے لئے تحقیق بھی چین کی اکیڈمی آف ملٹری میڈیکل سائنسز میں جاری تھی۔ لیکن ہمارے نوجوانوں کا ایک طبقہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پردوسروں کو طعنے دینے میں مصروف ہے۔ دیکھا! اس مشکل میں بھی آپ کو فوج کو ہی پکارنا پڑا۔

ہمارے ہاں ملکی ٹیلی ویژن چینلز اور اخبارات میں کافی چسکے دار مواد میسر ہوتا ہے۔ ہمیں غیر ملکی میڈیا تک رسائی کی بجائے یوٹیوب پر ٹوٹے دیکھنا زیادہ مرغوب ہے۔ اس دوران دس فروری کو چین کا میڈیا اپنی قوم کو کچھ اور ہی بتا رہا تھا۔ صحافی بتا رہے تھے کہ صدر شی جن پنگ خود متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔ نہ صرف طبی عملے سے مل کر ان کی ہمت بڑھا رہے ہیں بلکہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے جاری تحقیقی امور کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔

قوم سے مخاطب ہیں کہ ”کرونا کے خلاف فتح ووہان کی فتح ہو گی۔ ووہان کی فتح حوبے کی فتح ہوگی۔ حوبے کی فتح چین کی فتح ہوگی“۔ بلاشبہ چین اکیسویں صدی میں دنیا پرٹوٹنے والی اس وبا کی کمر توڑنے میں کامیاب رہا، فاتح رہا۔ بھاری نقصان کے باوجود آج چین کی تمام صنعت پھر سے سو فیصد پیداواری عمل بحال کر چکی ہے۔ خاکسار کو اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ آنے والے وقت میں ملحدوں کا چین علم اور محنت کی بنیاد پر دنیا کا حاکم ہو گا۔

اس علم کی بنیاد پر جس کے حصول کے لئے نبی کریم ﷺ نے چین تک جانے کا اذن دیا تھا۔ لیکن نہیں! آج محمد عربی ﷺ کے امتی چین سے کچھ سیکھنے کی بجائے بشارتوں پر واہ واہ کرنے میں زیادہ راحت محسوس کرتے ہیں۔ رہی بات حکمرانوں کی تو وہ کچھ اور اہم کاموں میں مصروف ہیں۔ سوال اٹھانے کی جسارت کرنے والے صحافی کی جان نکالنا کرونا وائرس کی جان نکالنے سے کہیں زیادہ اہم اورہنگامی مسئلہ ہے۔ کرونا وائرس کے خاتمے کے لئے چینی ماڈل سے استفادہ کرنے کا کوئی بیان نظر سے نہیں گزرا۔ شاید چینی ماڈل پاکستان میں صرف کرپشن کے خاتمے کے لئے کارگر ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *