شہباز کی پرواز اور کرونا کی ساز باز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج وزیر اطلاعات فردس اعوان سمیت حکومت کے وزرا، اراکین اور ترجمان شیریں بیان نیچی نظروں، جھکی گردنوں اور خمیدہ کمروں کے ساتھ ماضی قریب کے اپنے وہ بلند بانگ دعوے، اعلانات اور غرور و تکبر میں ڈوبے ہوئے بیانات کی بازگشت سن کر اپنے نیم مردہ ضمیروں پر ہلکا پھلکا ہی سہی ایک بوجھ تو محسوس کر رہے ہوں گے جو انہوں نے نواز شہباز کی لندن روانگی کے بعد تواتر اور تسلسل سے دیے ہیں۔ یہ یہ لوگ بڑی ہی ڈھٹائی، ہٹ دھرمی سے یہ راگ الاپ رہے تھے کہ دونوں بھائی اب کبھی پاکستان نہیں لوٹیں گے۔

وہ مریم نواز سمیت اپنی اولادوں کو اپنے پاس بلانے کے جتن کر رہے ہیں۔ ان کی سیاست ختم ہو گئی ہے۔ فردوس اعوان تو شہباز شریف کی ترچھی ٹوپی کا ذکر بھی نہایت ہتک آمیز اور تضحیک سے کیا کرتی تھیں۔ ادھر ان لوگوں کی زبانیں چلتی تھیں اور دوسری طرف ن لیگ کے اسیران جمہوریت ایک ایک کر کے عدالتوں سے ضمانتوں پر باہر آرہے تھے اور نیب نیازی گٹھ جوڑ کو افشا کر رہے تھے۔

جن لوگوں نے بیگم کلثوم نواز مرحومہ کی بیماری پر سب و شتم کا انتہائی رکیک اسلوب اختیار کیے رکھا تھا ان سے میاں نواز شریف کی جان لیوا بیماری پر ایسے ہی انسانیت سوز اور اخلاق باختہ طرز گفتگو کی توقع کی جا سکتی تھی۔ آج شہباز شریف نے بروقت وطن واپسی کا اعلان کر کے سیاسی، اخلاقی، نفسیاتی جنگ ایک ساتھ جیت لی۔ بڑے لیڈر کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ اس کے ہاتھ وقت، حالات اور عوام کی نبض پر ہوتے ہیں۔ شنید ہے کہ وہ مقتدر طاقتوں کی دعوت پر کرونا قیامت صغریٰ کے ہنگام کوئی بہت بھاری ذمہ داری نبھانے آ رہے ہیں۔

حقیقت کچھ بھی ہو لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جس طرح انہوں نے 2011 میں ڈینگی کی یلغار کے وقت کامیاب حکمت عملی سے اسے ملک سے ختم کیا تھا اس کی مثال ترقی یافتہ ملکوں کی تاریخ میں بھی کم ہی ملتی ہے۔ اس جواں ہمت شخص نے ڈینگی کے خلاف مسلسل 96 روز بلا ناغہ صوبائی کابینہ، سیکرٹریوں، افسران اور اہلکاروں کی میٹنگ بلا کر ڈینگی کی کمر توڑی تھی۔ جبکہ آج کے وزیر اعظم اور اس کے سپانسرڈ دھرنا باز اپوزیشن لیڈر طنزاً نواز شریف اور شہباز شریف کو ڈینگی برادرز کہا کرتے تھے۔

اور جب ڈینگی کی وبا اس کے اپنے صوبے کے پی کے میں پہنچی تو مقدر کے لکھے کا رونا رو کر شہریوں کو سردیوں کی آمد کا لولی پاپ دے کر اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو گیا تھا۔ آج جب کرونا کی یورش کے خلاف شہباز نواز ٹائپ کسی لیڈر کی اشد ضرورت تھی تو ہمارے دھرنا باز کاغذی شیر نے پہلے ہی مرحلے میں ہتھیار ڈال کر شہریوں کو سخت مایوس کیا ہے۔ کپتان تفتان سرحد پر اپنے غیر ملکی وزیر زلفی بخاری اور گفتار کے غازی علی زیدی کی مبینہ مجرمانہ غفلت کا نوٹس تو کیا لیتا الٹا انٹرویوز، تقریروں اور بیانات میں عوام کو کرونا سے ڈرا کر اور پورے ملک میں خوف و ہراس پھیلا کر اپنے سرپرستوں سے پوچھتا پھرتا ہے کہ اب بتاٶ کہ مجھے کرنا کیا چاہیے؟

شہباز شریف کے پاس کوئی حکومتی یا انتظامی عہدہ نہیں مگر ملک کی اکثریت ہی انہیں کرونا کی بلا کے خلاف نجات دہندہ سمجھتی ہے۔ خود کے پی کے کے عوام اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ شہباز شریف میں وہ اہلیت اور انتظامی صلاحیت ہے جسے بروئے کار لا کر وہ کرونا کو رلا سکتے ہیں۔ شہباز کی لندن سے پاکستان پرواز کے اعلان سے پژمردہ دلوں کو تسلی، شل حوصلوں کو توانائی، بے یقینی کو یقین اور مایوسی و نا امیدی کو ولولہ تازہ کا سامان میسر آیا ہے۔ ان کے اعلان سے مخالفین اور حاسدین کے اس سازشی بیانیے کے غبارے سے بھی ہوا نکلی ہے کہ ن لیگ کئی دھڑوں میں منقسم ہو رہی ہے۔ جن شیروں کو بزدلی، مصلحت کوشی اور سمجھوتوں کے طعنے دیے جاتے تھے آج وہ سر دھڑ کی بازی لگانے کے لیے مردانہ وار میدان عمل میں کود پڑے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *