حیاتیاتی ہتھیار انسانیت کے خلاف انسانی جرم
جُرم عربی زبان میں اس کے ایک معنی ذنب (گناہ) کے ہیں۔ اسلامی کتاب قرآن مجید میں مجرمین اور مجرمون کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ جبکہ فارسی زبان میں جُرم بمعنی جرمانہ (تاوان) بھی آتا ہے۔ حیاتیاتی ہتھیاروں کا انسانیت کے خلاف استعمال بے رحمانہ اور ناقابل معافی جرم ہئے۔ لیکن انسان ہی اس کو استعمال کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
حیاتیاتی ہتھیار (Biological Weapon) یا جراثیمی ہتھیار سے مراد ایسا ہتھیار جس میں عموماً جراثیم کو استعمال کیا جاتاہو۔ ایسے ہتھیار علانیہ اور خفیہ طور پر مختلف ممالک تیار کرتے ہیں، اگرچہ ایک سو ممالک نے 1972 ء مں ایک معاہدہ کی رو سے فیصلہ کیا تھا کہ انہیں کوئی بھی ملک تیار نہیں کرئے گا اور نہ انسانوں پر اس کا استعمال کرئے گا مگر حیریت انگیز طور پر انہیں استعمال کرنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی گی حالانکہ 1925 ء میں جنیواء میں ایک معاہدہ کے تحت ان کے استعمال پر عالمی پابندی لگائی گی تھیں۔
مختلف ممالک ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے جنگیں کرتے آ رہئے ہیں، ان جنگوں میں سے قدیم جنگیں تلوار، نیزے اور تیروں کا استعمال خوب کیا جاتا تھا اس کے بعد اسلحہ گولہ بارود بندوقوں کا استعمال کیا جاتا رہا جس سے ایک دوسرے کو خوب نقصان پہنچایا جاتا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیاروں تک بھی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں رسائی حاصل کر لی گی۔ 1980 ء کی دہائی تک تو انسانوں پر اٹیمی جنگ کے خوف منڈلاتے رہئے۔ اس کے بعد 21 ویں صدی میں بندوق، گولہ بارود، جدید اسلحہ بارودی ٹینک، ہیلی کاپٹرز، جہازوں کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی ہتھیار بھی استعمال کیا جانے کے واضع ثبوت ملے۔ جن کے ذریعے انسانوں میں مختلف بیماریوں پھیلا کے ان کا خاتمہ کیا جاتا رہا۔
یوں تو حیاتیاتی ہتھیار قدیمی زمانے سے استعمال میں ہیں پہلے ان کی صورت یہ تھی کہ دشمن کے پانی کے ذرائع کو زہر آلودہ کر دیا جاتا تھا جس سے اس پانی کو پینے والے بیمار ہو جاتے تھے اور اس کے بعد ان کی موت واقع ہو جاتی تھی۔ ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ طاعون کے مریضوں کی لاشوں کو دشمن کے علاقے میں پہنچا دیا جاتا تھا۔ مثلاً 1710 ء میں روس نے سویڈن کے ساتھ جنگ میں ایسا ہی کیا تھا۔
حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کی تاریخ مہذب دنیا کے سیاہ کارناموں سے پھری پڑی ہے۔ حشرات کو بہ طور ہتھیار استعمال کرنے کی پہلی باقاعدہ مثال امریکی سول وار کے دوران کی ہے جب ”ہارلیکوئن“ کو استعمال کیا گیا۔ اس کیڑے نے فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ بہ ہر حال یہ الزام بھی کبھی ثابت نہیں کیا جا سکا۔ جاپان نے چین سے جنگ کے دوران 1937 ء سے 1945 ء تک متعدد مرتبہ کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار استعمال کیے۔ روس بھی اس طرح کے تجربات میں کسی سے پیچھے نہ رہا۔ اس مقصد کے لیے روس نے بھی دیگر مہذب اور ترقی یافتہ ممالک کی طرح تمام تر تجربات انسانوں ہی پر کیے۔ عام شہریوں، جنگی قیدیوں اور سیاسی قیدیوں کو چلتی پھرتی تجربہ گا ہ بنا دیا گیا۔
1941 ء میں ایک ایسا ہی عفونت زدہ قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کی وجہ سے منگولوں کے علاقے میں وبا پھوٹ پڑی۔ روس نے فوراً ہی وبا پر قابو پا لیا۔ دراصل روسیوں نے تمام عفونت زدہ منگولوں کو بم باری کر کے ختم کر دیا، یوں وبا بھی ختم ہوئی۔
سابقہ ادوار میں پانچ سو ملین لوگ انفیکشن کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے، دسوں ہزار افراد کو Pathogen گیس کی وجہ سے مار ڈالا، تاریخ کے اوراق پلٹیں تو 1874 میں برسلز (Brussel) اور 1899 میں ایگیز (Hagues) نے ممنوعہ زہریلے ہتھیار استعمال کیے جس سے انسانیت کو انسانوں نے ہی قتل کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔
ابھی حال ہی کی بات کر لی جائے تو 2003 میں سارس وائرس سے چین میں 774 افراد ہلاک اور 8000 افراد متاثر ہوئے، اس طرح کا ایک اور وائرس جس کو کرونا وائرس (COVID۔ 19 ) کے نام سے یاد کیا جا رہا ہے، دسمبر 2019 میں دوبارہ چین کے شہر ووہان میں اچانک نمودار ہو گیا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے لیا، ووہان وائرس سانس کی اوپری نالی پر حملہ کرتے ہوئے سانس کے نچلے نظام کو متاثر کرتا ہے اور جان لیوا نمونیا انسانی سانس کے نظام کو متاثر کرتا ہوا فلو کی وجہ بھی بن رہا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پر اسرار وائرس سے متعلق تحقیق میں مصروف چینی سائنس دان پر اسرار وائرس کے پھیلنے کی وجہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گے ہیں، ان کی تحقیق کے مطابق یہ ایک حمالیہ جانور پینگولین سے پھیلایا گیا ہے۔
چین نے اس وائرس کے پھیلانے کا الزام سپر پاور امریکہ پر لگایا ان کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر اس کو ایک فوجی مشکوں کے دوران سی آئی اے کے اہلکاروں نے جنگلی جانور میں انجیکٹ کیا اور اس کے بعد یہ ووہان کی مارکیٹ سے چین سمیت پوری دنیا میں پھیل گیا، جس کی وجہ سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق گلوبلی 10450 افراد موت کے منہ میں چلے گئے ہیں اور ہزاروں افراد ابھی بھی اس وائرس سے بیمار ہیں۔ اور لاکھوں علاج دریافت نہ ہونے سے افراد خوف کا بھی شکار ہیں۔
امریکہ پر اس سے پہلے بھی مخالفین کے خلاف حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگتا رہا ہے لیکن امریکہ اس کو رد ہی کرتا آیا ہے۔
سوال یہ ہے کیا انسانوں کو تباہ کرنے کے لئے اس طرح کے مہلک ہتھیار استعمال کیے جانے چاہیے؟ کیا مختلف ممالک کے انسان ایک دوسرے سے برتری کی خاطر کچھ بھی کر سکتے ہیں؟ کیا انسانیت کا اس طریقے سے قتل کرنا ناقابل معافی جرم کے ذمرے میں نہیں آتا؟ اگر ایسا ہو رہا ہئے تو کیا یونائیڈ نیش میں بیٹھے تنخواہ دار افراد خواب خرگوش کے مزے لئے رہئے ہیں؟
اگر تو یہ امریکہ یا کسی بھی ملک نے اس وائرس کو کسی ملک کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا ہے تو وہ جان لیں اس کے اس وقت لامحدود اثرات نظر آ رہئے ہیں، پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آچکی ہے دنیا بھر میں لاک ڈان ہے غریب ہو یا امیر گھروں میں بند ہے، نظر ایسے آ رہا ہے کہ انسانوں نے انسانوں کو ہی مشکل میں ڈال دیا انسانوں نے انسانیت سے گر کر ایک ایسا جرم کیا ہے جس کی معافی نہیں دی جا سکتی۔ لیکن اس سے لڑنے کے لئے ہمیں بطور ایک قوم مشترکہ ذمے داری ادا کرنی ہوگی، حکومت اور اداروں کی طرف سے جو احتیاتی تدابیر بتائی گی ہیں ان کو فالو کرنا ہوگا، تاکہ اس کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔


