ادب، کورونا وائرس اور سازشی تھیوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوال یہ ہے کہ کیا ڈین کونٹزؔ کے ناول ”اندھیرے میں آنکھیں“ میں کورونا وائرس کا ذکر ہے؟ تو جواب ہے کہ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ اُس نے ایک فکشنل بائیولوجیکل ہتھیار کا ذکر کیا ہے جس کا نام ”Whuhan۔ 400“ ہے لیکن یہ نام بھی اس کے ابتدائی ایڈیشن میں نہیں ہے وہاں اس کا نام روس کے حوالے سے ”Gorki۔ 400“ ہے۔ اس ناول کا پہلا ایڈیشن 1981ء میں آیا تھا۔ اس وقت یہ ناول Leigh Nicholas فرضی یا قلمی نام کے ساتھ شائع ہوا۔

بعدازاں 1996 ء میں جب اس کا دوسرا ایڈیشن آیا تو بقول مصنف جو کہ اس نے اپنے ناول کے دوسرے ایڈیشن کے پسِ نوشت میں لکھا کہ اس نے اسے بہتر بنانے کے لئے اس میں بہت ساری تبدیلیاں کیں۔ تو گویا دوسرے ایڈیشن میں مصنف نے نہ صرف اپنا نام تبدیل کیا بلکہ ”گورکی۔ 400“ کو ”ووہان۔ 400“ میں بھی تبدیل کر دیا۔ اگر آپ Gorki۔ 400 گوگل کریں تو گوگل آپ کو ”Eyes of Darkness By Leigh Nicholas“ کا 1981ء کا ایڈیشن دکھائے گا جس میں گورکی۔ 400 واضح ہے اور وجہ صاف ہے کہ 1981 ء میں کولڈ وار کا خاتمہ ہورہا تھا تو مصنف نے ویلن کے طور پر روس کو دکھایا لہذا روس کے ایک شہر گورکی کے نام پر اِس ہتھیار کا نام رکھا لیکن جب 1996 ء میں نظر ثانی کی تو اس وقت چین ایک ابھرتی ہوئی طاقت تھا لہذا اس ہتھیار کو چین کے شہر ووہان سے منسوب کر دیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈین کونٹزؔ کہنا کیا چاہتا ہے۔ کہانی کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ایک بچہ ڈینیؔ ہے جو ایک سال پہلے مر گیا ہے جب کہ اس کی ماں کرسٹینا ایونزؔ کو اچانک غیر مرئی پیغام آنا شروع ہو جاتے ہیں کہ وہ مرا نہیں ہے اور ایک خاص وقت میں جس جگہ وہ موجود ہوتی ہے وہاں ہیٹنگ سسٹم کام کرنا بند کر دیتا ہے اور وہ جگہ یخ ہو جاتی ہے۔ اس کو مختلف حوالوں سے پیغام پہنچ رہے ہیں۔ کبھی ڈینی کے کمرے میں ”ناٹ ڈیڈ“ لکھا ہوا ملتا ہے اور کبھی کمپوٹر خود بخود کام کرنا شروع ہو جاتاہے اور وہاں اسے اسی طرح کے پیغام ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کی خاوند سے علحدگی ہو چکی ہے۔ ایک سال کے اندر وہ بھی اپنے آپ کو کامیابیوں کی بلندیوں پر لے جانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اب اسے ایک شخص ملتا ہے، جس کا نام ہے ایلیٹ سٹرائیکرؔ وہ ایک وکیل ہے، وہ آرمی کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے لئے کام کرتا رہا ہے، اس سے اس کی دوستی ہو جاتی ہے۔

ان مسلسل غیر مرئی پیغامات ملنے کے بعد کرسٹینا کو بھی یقین ہونا شروع ہوجاتا ہے کہ ڈینی زندہ ہے۔ سٹرائیکر ؔاس کی مدد کرتا ہے جب کہ کچھ غیر مرئی قوتیں کرسٹینا کو راستہ دکھاتی ہیں اور وہ ڈینی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ کرسٹینا کو یہ بتایا گیا تھا کہ ڈینی جس کی عمر گیارہ سال ہے جو اپنے سکول کے ٹرپ کے ساتھ پہاڑوں میں گیا تھا حادثے میں اپنے دوسرے ساتھیوں سمیت مارا گیا ہے جب کہ اس کا جسم اس حد تک خراب حالت میں ہے کہ وہ دیکھنے کے قابل نہیں ہے لہذا وہ اس کے جسد خاکی کو دیکھ نہیں پاتی اور اس کے تابوت کو ایسے ہی دفن کر دیا جاتا ہے۔

اَب اسے یقینا ہو جاتا ہے کہ ڈینی زندہ ہے اور یہ پیغامات وہ ہی بھیج رہا ہے۔ جیسے تیسے وہ ایک ایسے علاقے میں پہنچ جاتے ہیں جو ممنوعہ علاقہ ہے اور اسی علاقے میں بچوں کی بس کو حادثہ پیش آیا تھا، یہاں وہ ایک لیبارٹری میں پہنچ جاتے ہیں، یہاں ڈینی زندہ لیکن شدید بیمار اور کمزور حالت میں موجود ہے، جس پر تجربے کیے جا رہے ہیں اور اس کے دماغ میں ایک اضافہ شدہ حالت میں ایک گومڑ بننا شروع ہو گیا ہے جس کی کوئی خاص توضیع نہیں کی جاسکتی۔ یہاں ان کی ایک ڈاکٹر ڈومبیؔ سے گفتگو ہو تی جسے وہ یرغمال بنا چکے ہیں۔

یہ گفتگو اہم ہے، اس گفتگو کے مطابق ڈاکٹر ڈومبی ؔسے پوچھا گیا :

” یہاں کیا ہو رہا ہے؟ “، ”کیا یہ ملٹری ریسرچ سنٹر ہے؟ “ تو ڈاکٹر ڈومبیؔ کہتا ہے ”ہاں“۔

”مکمل طور پر بائیولوجیکل ہتھیار؟ “

ڈاکٹر جواب دیتا ہے ”بائیولوجیکل اور کیمیکل“

اس سے پوچھا جاتا ہے کہ ”سوری، میرا خیال ہے کہ یو۔ ایس گورنمنٹ کیمیکل اور بائیلوجیکل ہتھیاروں کی دوڑ سے کب کی باہر ہو چکی ہے“۔

جواب دیا جاتا ہے : ”پبلک ریکارڈ کے لئے ایسا ہی کہا جاتا ہے۔ اس طرح سیاست دان اچھے نظر آتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ کام جاری ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔ اس طرح کی ہمارے پاس ایک ہی سہولت ہے، جب کہ چین کے پاس اس طرح کی تین ہیں۔ اس طرح رشیا کے پاس۔ لیکن وہ مبینہ طور پر اَب ہمارے نئے دوست ہیں لیکن وہ بیکٹیریالوجیکل ہتھیار بنا رہے ہیں۔ نئے اور کہیں زیادہ مہلک وائرسز کی صورت کیونکہ وہ بہت حد تک قلاش ہو چکے ہیں جب کہ یہ ہتھیار دوسرے ہتھیاروں کے مقابلے میں کافی سستے ہیں۔

عراق کے پاس ایک بہت بڑا بائیوکیمیکل جنگی ہتھیاروں کا پراجیکٹ ہے، اس کے علاوہ لیبا ہے۔ اور خدا جانے کس کس کے پاس کیا کیا ہے۔ ان کے علاوہ باقی دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں۔ جو کیمکل اور بائیولو جیکل جنگ و جدل میں یقین رکھتے ہیں وہ اس کے اخلاقی یا غیر اخلاقی جواز کی طرف نہیں دیکھتے۔ اگر انہوں نے یہ سمجھا کہ کہیں ہم سے کوئی بہت بڑی بھیانک قسم کی نئی غلطی ہو گئی ہے یا کوئی بگ رہ گیا ہے، جسے ہم نہیں جانتے، کوئی ایسی چیز کہ جس کے خلاف ہم اس طرح کا ردعمل نہ دکھا سکیں، تو وہ انہیں ہمارے خلاف استعمال کرسکتے ہیں۔ ”

ایلیٹ سٹرائیکر پوچھتا ہے : ”اگر چینیوں یا روسیوں یا عراقیوں سے مقابلہ کرنے کی دوڑ ہمارے یہاں کی طرح کی صورتحال پیدا کر سکتی ہے جس میں ہم مبتلا ہیں، جہاں ایک معصوم بچہ مشین میں دفن کر دیا گیاہے تو کیا ہم اس طرح انسانوں سے غیر انسانوں میں تبدیل نہیں ہو رہے؟ کیا ہم دشمنوں کے خوف سے انہیں جیسے نہیں ہوتے جا رہے؟ اور کیا یہ جنگ ہارنے کا ایک اور طریقہ نہیں ہے؟ “

ڈومبی ؔ کہتا ہے ”مسئلہ یہ ہے کہ کچھ تہہ دار لوگ رَاز داری کی وجہ سے اس طرح کے کام کی طرف راغب ہوتے ہیں اور کیونکہ آپ واقعی ایسے اسلحہ کی ایجاد سے طاقت کا احساس حاصل کرتے ہیں جس سے لاکھوں افراد ہلاک ہوسکتے ہیں تو تماگوچیؔ جیسے بڑائی کے جنُون میں مُبتلا لوگ ایسے کاموں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ یہاں ہارون ذکریا ؔجیسے لوگ بھی موجود ہیں۔ وہ اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہیں اور اپنے فرائض کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

وقت سے پہلے ان کو نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم دکان بند کردیتے، اگر ہم اس طرح کی تحقیق کرنا صرف اس وجہ سے روک دیتے ہیں، کہ ہم تاماگوچی ؔجیسے مردوں سے ڈرتے ہیں کہ وہ اسے لپیٹنے والا یہاں کا انچارج ہے، تو اس طرح ہم اپنے دشمنوں کو شدید طور پر اتنا منوا دیتے کہ ہم زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بڑی برائیوں میں سے چھوٹی برائیوں کے ساتھ جینا سیکھنا پڑے گا۔ ”

جب ڈومبی سے پوچھا کہ ڈینی ؔ یہاں کیسے پہنچا تو اس نے کہا ”آپ کو بیس مہینے پیچھے جانا پڑے گا۔ یہ وہی وقت تھا جب لی چَین ؔنامی ایک چینی سائنس دان نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، چین کی ایک دہائی پر مشتمل اہم اور خطرناک نئے بیالوجیکل ہتھیار کی تحقیق کے ریکارڈ کا ڈسکیٹ یہاں لے آیا۔ وہ اس سٹف کو“ وُوہان۔ 400 ”کہتے تھے کیونکہ اسے وُوہان شؔہر سے باہر آر۔ ڈی۔ این۔ اے لیبز میں تیار کیا گیا تھا اور یہ اس تحقیقی مرکز میں تخلیق کردہ انسانی ساختہ خورد بینی جرسومہ تھا جسے چار سو ویں قابل عمل طریقے سے حاصل کیا گیا تھا۔ “

ڈومبی مزید وضاحت کرتا ہے ”ووہان 400 ایک بہترین ہتھیار ہے۔ یہ صرف انسانوں کو تکلیف دیتا ہے۔ کوئی دوسری جاندارمخلوق اسے پکڑ نہیں سکتی۔ اور آتشک کی طرح، ووہان 400 ایک زندہ انسانی جسم کے باہر ایک منٹ سے زیادہ عرصہ تک زندہ نہیں رہ سکتا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اینتھراکس (آتشک) اور دیگر جسمانی بیماری پیدا کرنے کی جراثیمی صلاحیت رکھنے والے انسانی ساختہ خورد بینی جرسوموں کی طرح مستقل طور پر کسی بھی چیز یا تمام جگہوں کو آلودہ نہیں کرسکتا۔ اور جب نامیاتی ساخت جِس پر طُفَیلی رہتے ہَیں کی میعاد ختم ہوجاتی ہے، تو جیسے ہی لاش کا درجہ حرارت چھیاسی ڈگری فارن ہائیٹ سے نیچے آ تا ہے، تھوڑی ہی دیر بعد اس کے اندر موجود ووہان 400 تلف ہوجاتا ہے۔ کیا آپ ان سب کا فائدہ دیکھ رہے ہیں؟ “

سٹرائیکر نے سائنس دان کی باتیں سن کر یہ اخذ کیا ”اگر میں آپ کو سمجھاہوں تو گویا چینی کسی ایک شہر یا ملک کا صفایا کرنے کے لئے، ووہان 400 استعمال کرسکتے ہیں، اور پھر ان میں منتقل ہونے اور فتح شدہ علاقے پر قبضہ کرنے سے پہلے انھیں کسی مشکل اور مہنگے آلودگی سے پاک کرنے کے عمل کا انتظام کرنا نہیں پڑے گا“۔

ڈومبی کہتا ہے ”یقیناً اور مزید وضاحت کرتا ہے“ اور ووہان 400 کے زیادہ تربائیولوجیکل ایجنٹوں کے مقابلے میں دوسرے اتنے ہی اہم فوائد ہیں۔ ایک اہم چیز یہ ہے کہ آپ وائرس کے ساتھ رابطے میں آنے کے صرف چار گھنٹے بعد ہی ایک متعدی کیریئر بن سکتے ہیں۔ یہ ایک ناقابل یقین طور پر انکیوبیشن کی مختصر ترین مدت ہے۔ ایک بار متاثر ہونے پر کوئی بھی شخص چوبیس گھنٹوں سے زیادہ زندہ نہیں رہتا۔ زیادہ تر بارہ گھنٹوں میں مر جاتے ہیں۔

یہ افریقہ میں ایبولا ؔوائرس سے بھی بدتر ہے، لامتناہی طور بدترین۔ ووہان 400 کی شرح اموات سو فیصد ہے۔ یہ سمجھا جاتاہے کہ کوئی بھی شخص زندہ بچ نہیں سکتا۔ خدا جانے چینیوں نے کتنے سیاسی قیدیوں پر اس کا تجربہ کیا ہو گا۔ وہ کبھی ایسا اینٹی باڈی یا اینٹی بائیوٹک نہیں ڈھونڈ سکے جو اس کے خلاف موثر ہو۔ وائرس دماغ کے بنیادی گوشوں کی طرف ہجرت کرتا ہے اور وہیں اس کے چھپے ہوئے حصے زہریلے ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو دماغی ریشووں کو لفظی طور پر ایسے کھا جاتے ہیں جیسے بیٹری کا تیزاب پنیر کو لپیٹنے والے کپڑے کو کھا جاتا ہے۔ یہ دماغ کے اس حصے کو ختم کرتا ہے جو جسم کے خودکار افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں متاثرہ شخص کی نبض اور کام کرنے والے اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں یا پھر اس میں سانس لینے کی کوئی خواہش ہی باقی نہیں رہتی۔ ”

سٹرائیکرؔ کہتا ہے ”اور یہ ایک ایسی بیماری ہے کہ جس میں ڈینیؔ بچ گیا ہے اگرچہ اس وائرس کو ڈینی پر بار بار چیک کیا گیا تھا“۔ ڈومبی کہتا ہے ”جہاں تک ہم جانتے ہیں یہ واحد ہے جو بچ پایا ہے۔ “

گو اس کہانی کی تلخیص لمبی ہو گئی ہے لیکن کہنے کی بات یہ ہے کہ کوروناؔ وائرس کا اس وائرس ووہان 400 کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ سازشی تھیوری یہ ہے کہ یہاں اس ناول میں اگر خفیہ لیبارٹریز ہیں تو خفیہ ایجنسیز کے رول کو بھی کھل کر بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اگر بیان نہیں کیا گیا تو وہ ہیں خفیہ تنظیمیں۔ اب اہم بات یہ ہے کہ اس موجودہ معاملے میں سیکریٹ سوسایٹیز کا رول کیا ہے؟ خفیہ تنظیمیں ہمیشہ سے ہی دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھتی رہی ہیں اور وہ کسی حد تک دنیا کو کنٹرول بھی کر رہی ہیں۔

موجودہ صورت حال میں وہ ہر طرح سے دنیا کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہیں کہ ایک طرف سٹاک مارکیٹیں بیٹھ رہی رہیں تو دوسری طرف ائیرلائنز کمپنیوں کا کاروبار تباہ ہو رہا ہے، جب کہ تیسری طرف فلموں کے اجرا کو موخر کیا جا رہا ہے، شہروں کا لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، اجتماعات پر پابندی لگائی جارہی ہے اور پوری دنیا میں ایک سراسیمگی پھیلادئی گئی ہے۔

اگر دیکھا جائے تو اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی خفیہ تنظیموں کا تصور تقریبا تمام شعبہ ہائی زندگی میں نظر آنا شروع ہوجاتا ہے۔ وہ کلچر ہو، ادب ہو، آرٹ ہو، فلم ہو یا دیگر کاروبار ہائے زندگی۔ حتی کہ مذہب اور سیاست میں بھی ان کاکردار نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایلومناتی، فری میسن، نائٹ ٹیمپلر وغیرہ اور ان کی علامات جیسے ہر طرف دیکھتی ہوئی آنکھ، احرام، للی کا خاص طرح کا تراشا ہوا پھول وغیرہ ہمیں فلموں میں، ناولوں میں، کارٹونوں میں حتی کہ ٹریڈمارکس میں نظرآنا شروع ہو جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ناول نگار، ایڈونچر پسند اور سازشی تھیوریوں کے ا ردگرد لکھنے والے متعدد لکھاری اپنی تحریروں میں خفیہ تنظیموں کو ایک موضوع بنا کر لکھنا شروع کر دیتے ہیں جن میں ایک مشہور زمانہ ڈان براؤن ؔبھی ہے۔ تو گویا ادیب اپنے طور پر دنیا کو آگاہ کر رہے تھے، جب کہ اسی دوران خفیہ تنظیمیں بھی اپنا کام دلجمعی سے کر رہی تھیں اور کر رہی ہیں۔ اب جب کہ انہوں نے دنیا کو تباہی کے ایک کنارے پر لا کھڑا کیا ہے تو وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کی انتہائی کوشش میں مصروف ہیں۔

موجودہ حالات میں وہ اپنی برتری ثابت کر رہی ہیں۔ ان خفیہ ایجنسیوں نے چین کو بدنام کرنے کی ایک مذموم کوشش کی جس میں وہ ناکام رہیں۔ جب کہ چین نے صحت کے اس معاملے میں بھی اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ خفیہ تنظیمیں جو مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں ان کی وجوہات معاشی اور سیاسی دونوں ہیں اسی لئے انہوں نے پوری دنیا کو ایک سراسیمگی کی کیفیت میں لا چھوڑا ہے، ہر انسان کو ایک خوف میں مبتلا کر دیا ہے، یہی ان کی کامیابی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply