کرونا وائرس کے حوالے سے گزارشات: شریعت اہم ہے یا مقاصدِ شریعہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

[مقاصدِ شریعہ کی روشنی میں انسانی جان اور صحت کے تحفظ کے لیے خطبہ جمعہ اور نمازباجماعت کو موقوف کیا جاسکتا ہے۔ ]

مقدمہ نمبر۔ 1

شریعت کا مقصد مصالح العباد ہے۔ شریعت کے اکثر احکام کے اخروی فوائد کے علاوہ دنیاوی فوائد بھی ہیں۔ شریعت کا ایک مقصد حفظِجان بھی ہے۔ حفظِ جان کے ضمن میں انسان کی زندگی اور صحت دونوں کا تحفظ شامل ہے۔ یعنی شرعی احکام کا مقصد انسان کی جان کیحفاظت کے ساتھ ساتھ اس کی صحت کی حفاظت بھی ہے۔

مقدمہ نمبر 2۔

شریعت جان کی حفاظت اور صحت مند زندگی کے لیے شرعی احکام کی اتباع حکم دیتی ہے وہیں شرعی احکام و تعلیمات سے یہ بھی مترشحہوتا ہے کہ بیماری کے علاج سے احتیاط بہتر ہے۔ شرعی تعلیمات اور انسانی عقل علاج سے پہلے حفظان صحت کی تلقین کرتے ہیں۔ اُنتمام عوامل کے سدِباب کا سبق اور درس ملتا ہے جن کے پھیلاؤ سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور پھیلتی ہیں۔

مقدمہ نمبر 3۔

اہلِ علم کے نزدیک شریعت اور مقاصدِ شریعت دو الگ چیزیں ہیں۔ شرعی احکام کا مقصد مقاصدِ شریعہ کا حصول ہے لیکن بعض مخصوصحالتوں اور صورتوں میں شریعت پر بعینیہ چلنے سے مقاصدِ شریعہ حاصل نہیں ہوپاتے۔ ان صورتوں میں شریعت اور مقاصد شریعت عبوریطور پر معارض ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورتوں میں شریعت (یعنی شریعت کے احکام) کی بجائے مقاصدِ شریعہ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بعضدفعہ تو مقاصدِ شریعہ کی بنیاد پر خود شریعت ہی میں متبادل حکم دیا ہوتا ہے لیکن عام طور مقاصد شریعہ کی بنیاد پر شرعی احکام کو موقوف کرنے یاعبوری طور پر متبادل حکم پیش کرنے کا کام مجتہدین پر (یعنی امت پر) چھوڑ دیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر معروف ومنکرات میں اسلامی ریاست کی طرف سے کیے جانے والے تمام اضافے اور قیاس مقاصدِ شریعہ کی بنیاد پرہوتے ہیں۔ اسی طرح دیگر فقہی معاملات میں بھی۔ مثلا نکاح کے لیے لڑکی کے والد کو ولی بنایا گیا ہے تاکہ اُس کے حقوق کا تحفظ ہوسکے لیکن جب ولی خود اپنی بیٹی کے حقوق کا مالی یا سماجی منفعت کی بنیاد پر استحصال کرتا ہے تو ایسی صورت میں مقاصدِ شریعہ کو حاصل کرنے کے لیے لڑکی کی ولایت اسلامی ریاست کے پاس چلی جاتی ہے۔ قانون اس کو تحفظ دیتا ہے۔ اسی طرح بیسیوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔

ان مقدمات کی روشنی میں اصل بات کوسمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ و دیگرعلما نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے درج ذیل ہدایات دی ہیں :۔

۔ جمعہ کے خطبہ کو مختصر کیا جائے۔

۔ ایک صف سے دوسری صف کا فاصلہ رکھا جائے۔ وغیرہ

علاوہ ازیں کچھ علما کا واضح طور پر یہ بیان بھی تھا کہ باجماعت نماز اور خطبہ جمعہ موقوف نہیں کیے جاسکتے، ایسا کرنا حرام ہے۔

مقاصدِ شریعہ کی روشنی میں حفظ جان کے لیے نماز باجماعت اور جمعہ کو موقوف کیا جاسکتا ہے جب تک اس وبا سے نجات حاصل نہ کی جا سکے۔ جس طرح طوفان اور شدید بارش میں نماز گھر پر ادا کرنے کی رخصت ہے اسی طرح کسی وبائی مرض سے معاشرے کو بچانے کے لیے بھی اپنی سرگرمیوں کو محدود کیا جاسکتا ہے۔ قرآن مجید میں بعض مفسدین مجرموں کے لیے نفی فی الارض کا حکم ہے۔ امام ابوحنیفہ وفقہا کے نزدیک نفی فی الارض کا معنی محدودیت ہے یعنی مجرم کو جیل وغیرہ میں محدود کردیا جائے تاکہ معاشرہ اس کے فساد اور شر سے بچسکے۔ وبائی امراض میں بھی شریعت کے حفظ جان و صحت کے مقصدکے تحت لوگوں کو محدود کیا جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں بلکہایسا کرنا مقاصدِ شریعہ کی تکمیل اور تعمیل ہے۔

جہاں تک اس بات کاتعلق ہے کہ جمعہ مختصر کردیں اور نمازی صرف فرض کے لیے مسجد میں آئیں۔ یہ ہدایت اور پابندی اس لیے ہے کہلوگوں کا میل جول نہ ہو۔ خطبہ جمعہ حسبِ سابق ہو یا مختصر، مسجد میں فرض نماز کے لیے لوگ اکٹھے ہوں یا نوافل بھی پڑھیں مسئلہ اورعلت تو اختلاط ہے اور اختلاط دونوں صورتوں میں ہے۔ لہذا پابندی لگانی ہے تو فرض نماز اور خطبہ جمع کی بھی لگائیں تاکہ مطلق اختلاطہوہی نا۔

مذہبی طبقہ کی طرف سے نماز باجماعت اور خطبہ جمع عارضی طور پر موقوف نہ کرنے کے پیچھے ایک جواز یہ بھی ہے کہ لوگ دیگر معاشرتیسرگرمیوں کاروبار وغیرہ میں حصہ لے رہے ہیں نمازباجماعت اور خطبہ جمع موقوف کیوں؟ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے اور اس کی تلقین بھی ہونیچاہیے کہ موجودہ حالات میں اپنی سرگرمیوں کو محدودترکردینا چاہیے خواہ وہ معاشی سرگرمیاں ہوں، دینی یا معاشرتی۔ لیکن ایسے حالات میں سرگرمیوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

ناگزیر سرگرمیاں اور غیر ناگزیر سرگرمیاں۔ ناگزیر سرگرمیاں وہ ہیں جو معاشرتی بقا کے لیے ضروری ہیں مثلا ضروریات زندگی کی فراہمی اور ضروری روزگار۔ ان سرگرمیوں کا محدود پیمانے پر جواز ملتا ہے اور وہ بھی احتیاطی تدابیر اپنانے کے بعد۔ دیگر سماجی اور مذہبی سرگرمیاں ناگزیر نہیں۔ نمازباجماعت اور خطبہ جمعہ کے موقوف ہونے سے معاشرتی بقا کو خطرہ نہیں۔ حفظ دین کے لیے موجودہ زمانہ میں جدید ذرائع بھی استعمال ہورہے ہیں۔ مذہبی طبقہ معاملہ کی شدت کو سمجھے، خدانخواستہ اٹلی کی طرح پاکستان پر بھی ایک دن ایسا نہ آجائے کہ ناگزیر سرگرمیاں بھی ختم ہو جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *