نہ چین بتائے گا کہ ووہان میں کیا ہوا ، نہ ہم سے بارڈر بند ہونگے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1.دنیا انسانوں کا موت کدہ بنتی جا رہی ہے۔۔۔۔اور چین احتجاج کرتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کو چائینا وائرس کیوں کہا؟ میں کہتی ہوں صدر ٹرمپ نے بلکل ٹھیک کہا؟ یہ وائرس چین سے پھیلا ہے اور اس نے پوری دنیا کو حشر کا میدان بنا دیا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ چین دنیا کو اس وائرس کی وجوہات و حقائق سے آگاہ کرے وگرنہ یہ چائنا وائرس ہی کہلائے گا۔

اگر تو یہ بائیو وار کا حصہ ہے تو پھر بھی تمام دینا کے انسانوں کا یہ حق ہے کہ اسے حقائق سے اگاہ کیا جائے اور اگر چین اور چین کے حامیوں کو لگتا کہ صدر ٹرمپ نے نسل پرستی کا مظاہرہ کیا ہے تو پھر چین اصل حالات سے پردہ کیوں نہیں اٹھاتا۔ اگر کوئی اور ملک اس عالمی اور پوری انسانیت کے خلاف جرم میں ملوث ہے جیسا کہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں تو پھر چین خاموش کیوں ہے؟کیا یہ بعید از قیاس نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں جس طاقت کے ساتھ چین کھڑا ہے اس کے لیے یہ ممکن نہ ہو کہ وہ حقائق سے آگاہ ہو؟

چین کی خاموشی اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ چین نہ صرف حقائق جانتا ہے بلکہ وہ حقائق چین کی اپنی ہی غلطی سے متعلق ہیں۔ یہ معاملہ اب صرف چین کا نہیں پوری دنیا کا ہے۔چین خود تو اپنے وسائل کی بنیاد پر اس عفریت پر قابو پا کر بیٹھ گیا ہے اور لگا ہے جشن فتح منانے مگر دنیا کے ایک سو ستر سے زائد ممالک میں قیامت برپا ہے اور اس میں میرا غریب ملک بھی شامل ہے۔ کیا چین کو جشن مناتے وقت سڑکوں پر مرتے تڑپتے لوگ نظر نہیں آئے؟کیا ہم آدم اور حوا کہ اولاد نہیں ہیں؟

میں اٹلی اور ایران کی سڑکوں پر مرتے لوگ دیکھتی ہوں تو میرا دل خون روتا کے۔ پوری دنیا میں اب تک تین لاکھ انسان اس عالمی وبا سے متاثر ہو چکے ہیں۔ جن میں سے تقریباً چودہ ہزار اپنی زندگیاں ہار چکے ہیں، دو لاکھ ابھی بھی موت کے بستر پر ہیں، اور احتجاج کرنے والے احتجاج کرتے ہیں کہ ٹرمپ نے کرونا وائرس کو چائنا وائرس کیوں کہا ؟

اگر یہ چائینا وائرس نہیں ہے تو پھر چین دینا کو بتائے کہ آخر ووہان میں کیا ہوا تھا؟ کیا وجوہات تھیں اس وبا کے پھوٹنے کی اور دسمبر میں ڈاکٹر کی کی گئی تنبیہہ کو سنجیدہ لینے کے بجائے اسے ڈرا کر خاموش کیوں کروا دیا گیا؟اگر تو یہ کسی دوسرے ملک کی سازش اور بائیو وار کا حصہ ہے تو پھر ساری دنیا کے سامنے اس عالمی مجرم کا چہرہ لایا جائے۔ اور اگر اسکا سبب چین کی اپنی غلطی اور چین کی مارکیٹس میں کھایا جانے والا گند بلا ہے تو پھر چین سے سوال کیا جائے کہ جن غریب ممالک کی اکانومی بیٹھ گئی کیا تم ان کی بھرپائی کرو گے؟

وہ لوگ جو مر چکے کیا ان کے لواحقین کی تسلی کر پاؤ گے؟ کیا چین پوری انسانی دنیا سے معافی مانگے گا؟ شائد آپ میں سے بہت سے قاری مجھے پاگل اور مخبوط الحواس کہیں۔ کوئی بات نہیں کہہ لیجیے مگر جو قیامت ہم انسانوں پر پوری دنیا میں برپا ہے وہ کسی بھی حساس انسان کی ذہنی حالت بگاڑنے کے لیے کافی ہے۔

دنیا اب گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ اب یہاں کسی ایک بھی ملک کا انفرادی فعل نہ تو اسکا انفرادی فعل ہے اور نہ اس کا اندرونی معاملہ۔کیونکہ عالمی گلوبلائزیشن کی وجہ سے یہ براہ راست پوری دنیا پر اثر انداز ہوتا ہے۔چاہے وہ ملک کی اندرونی سیاست اور شہری حقوق کے ومعاملات ہوں یا پھر کسی قوم کی کھانے پینے کی عادات۔ خاص طور پر جب آپ پوری دنیا کو سستی لیبر و برآمدات کرنے والے ملک ہوں۔

کیا وقت آ نہیں گیا کہ دنیا کی سارے بڑے اب سر جوڑ کر بیٹھیں اور کچھ جنگلی حیاتیات و حشرات کے شکار و کھانے پر مکمل پابندی لگائیں ؟۔ جی ہاں وہی تصور جو اسلام میں حلال و حرام کا ہے۔ اب پوری دنیا کو بھی حلال و حرام کے کچھ پیمانے اپنانے ہونگے۔ کیونکہ عالمی روابط کے اس دور میں آپکے کھانے پینے کی عادات بھی آپکا انفرادی فعل نہیں ہیں اور اس کے مضر اثرات پوری دنیا میں تباہی پھیلا سکتے ہیں۔کیا کرونا جیسی وبائیں دنیا کی نصیحت کے لیے کافی نہیں ہیں؟

2. اہل تشیع، اہلسنت، اہل حدیث و دیوبند و دیگر مسالک کے وہ علماء جو اس عالمی وبا کی گھڑی میں لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے، ہاتھ ملانے ، گلے ملنے ، جلسے ، جلوس یا مساجد، امام بارگاہوں اور درگاہوں کا رخ کرنے پر اکسا رہے ہیں ان کو قرنطینہ میں لوگوں کو اور کرونا مریضوں کو بغیر ماسک دم کرنے اور ان کا اپنے طریقے سے علاج کرنے کی سعادت حاصل کرنے کا موقع مل جائے۔ اور اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے اگر کسی کرونا کے مریض کی موت ہوتی ہے تو میت کو غسل اور کفن دفن کی زمہ داری بھی انھی جید علماء کو دی جائے۔

جن کو دین کی زیادہ فکر ستاوے ہے ان کو اٹلی و ایران میں تبلیغ و علاج کے عظیم مقصد پر بھیجا جاوے۔ملک و قوم اور دین کی خدمت کا موقع ایک ساتھ مل جاوے گا۔ مجھے یقین ہے ساری مذہبیت جو یہ ہمیشہ دوسروں کے معاملے میں محسوس کرتے ہیں باہر آ جاوے گی۔ جو مذہب کے نام پر مذہب کے ہی خلاف جا رہے ہیں۔وقت آ گیا ہے کہ حکومت ایسے تمام شرپسند علماء کے خلاف فساد فی الارض کی کاروائیاں کرے۔

3. یہ سچ ہے کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہے اور بلا وجہ نقل و حرکت سے بھی احتراز کر رہی ہے مگر کیا فائدہ جب ان کے ارد گرد کے لوگ بلا وجہ کہیں بھی مونہہ اٹھائے پھرتے ہیں، جپھیاں ڈالتے، “ہاتھ سے ہاتھ ور ٹخنے سے ٹخنے” رگڑتے پھرتے ہیں۔یہ چاہے چند فیصد ہوں مگر اپنے ساتھ دوسروں کی جان بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔۔ان کی مثال اس بندر جیسی ہے جس کی پونچھ کو آگ لگی ہو اور وہ پورے شہر میں اچھل کود کر سارا شہر جلا کر راکھ کر دے۔

4. اپنی سیاست کے لیے بات بات پر اسلام آباد بند ہوگا، کراچی بند ہوگا، لاہور بند ہو گا،پورا پاکستان بند ہوگا کہنے والے اج لوگوں کی جان و مال اور صحت کی حفاظت کے لیے جزوی لاک ڈاؤن کرنے کو بھی تیار نہیں۔

3. ائیر پورٹس پر بیٹھے ایمانداری سے کام لینے کے بجائے چند پیسے لیکر ہر کسی کو کرونا سے کلیر قرار دینے سے باز آنے کو تیار نہیں۔ اور جن میں کرونا مثبت آتا ہے وہ اس سے آگے دوسروں کو بچانے کو تیار نہیں۔ زخیرہ اندوزوں اور تاجروں کے پیٹ اتنے بڑے ہیں کہ وہ باؤلے کتوں کی طرح بو سونگھتے پھرتے ہیں کہ جس چیز کی اس وبا کے دنوں میں ضرورت بڑھنے کا شائبہ بھی گزرتا ہے وہ اس کو ذخیرہ کر کے مہنگا کر دیتے ہیں۔وہ پینا ڈال کی گولی ہے یا ایک ماسک ۔ حکومت کا کیا ہےاسے عوام سے زیادہ قرضوں، ڈالروں، گرانٹس اور پیسے کے پڑی ہے اور جغرافیے کی حفاظت کی فکر میں اس جغرافیے کے باسیوں کو بھلائے بیٹھی ہے۔

4. اخے ناں لاک ڈاؤن ہوگا اور نہ بارڈر بند ہونگے۔۔۔۔۔۔اسے کہیں کہ برازیل کے روتے صدر اور یورپی یونین سے مدد مانگتے اٹالین صدر کی تصویر کو دیکھے اور سمجھے کہ بےبسی کسے کہتے ہیں! اپنے وقت کے حکمران ہیں لوگ جن کے سامنے ان کے لوگ مر رہے ہیں مگر یہ کچھ نہیں کر پا رہے۔۔۔۔۔اج سے چند دن پہلے اٹلی کے لوگ بھی ٹھٹھا اڑاتے تھے کرونا کا۔۔۔۔۔اور گھروں میں نہ بیٹھے۔۔۔ اج ان کو قبروں اور ہسپتالوں میں جگہ نہیں مل رہی۔ یہ امیر ملک کا امیر حکمران ہین۔۔۔۔اور ہنڈسم ٹھہرا غریب ملک کا ۔۔۔۔آہو۔۔۔پھر بھی نہ بارڈر بند ہونگے نہ لاک ڈاؤن۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *