ملائیشیا کرونا وائرس سے کیسے نمٹ رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پوری دنیا کی طرح ملائیشیا بھی اس وقت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے سے نبرد آزما ہے۔ اس وقت تک ملائیشا میں کل سات سو نوے کیسیز کنفرم ہوچکے ہیں جن میں سے دو ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ ملائیشیا میں تازہ ترین اضافہ یہاں موجود ایک تبلیغی اجتماع کے بعد دیکھنے میں آیا جہاں ہزاروں لوگ اکٹھے ہوئے تھے۔

کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے حکومت ملائیشیا کے اب تک لئے گئے اقدامات نہایت قابل تحسین اور قابل تقلید ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے وائرس سے نمٹنے کے لئے حکومتی اور انفرادی سطح پر لئے گئے اقدامات بطور مثال آپکے سامنے پیش کیے جائیں ؛

حکومتی اقدامات سے پہلے انفرادی سطح پر خود ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے لوگوں نے آپس میں میل جول اور اپنے طور اطوار میں غیر معمولی تبدیلی پیدا کی ہے۔

میں حال ہی میں اٹلی ایک کورس سے شرکت کرکے واپس لوٹا ہوں اور 14 دن کا عرصہ گزار چکا ہوں، یہ جانتے ہوئے کہ میں اپنا مکمل میڈیکل ٹیسٹ کروا چکا ہوں یونیورسٹی میں فیکلٹی نے بہت اہم میٹینگ جسمیں میری شرکت تھی کو موخر کردی ہے۔ اسی طرح میری پروجیکٹ لیڈ کے ساتھ پروجیکٹ ریوو میٹینگ بھی بذریعہ ویڈیو کال ہی کی گئی۔

یہاں لوگوں نے ایک دسرے سے ہاتھ ملانا چھوڑ دیا ہے اور خود ہی ایک مناسب فاصلہ اختیار کیے رکھتے ہیں۔

لاک ڈاون سے پہلے کچھ گروسری کرنے مارکیٹ جانا ہوا، مارکیٹ میں ہر دکان میں داخل ہوتے ہی سامنے ہینڈ سینیٹایزر موجود ہے تاکہ آتے جاتے لوگ اس سے ہاتھ صاف کرتے رہیں۔ اس کے علاوہ لفٹس کے داخلی راستوں پر، ٹیکسی، دیگر گاڑیوں کے اندر اور ہر آفس کے باہر ہینڈ سینیٹائزر مفت مہیا کئیے گئے ہیں۔

گزشتہ روز شاپنگ مال میں، میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ ہر ہر ایسکیلیٹر (برقی زینہ) کے سامنے ایک اہلکار متعین ہے اور وہ مسلسل زینہ کی بیلٹ پر جہاں لوگ عموما ہاتھ رکھتے ہیں کو جراثیم کش سپرے سے صاف کررہا ہے اور یہ عمل مسلسل جاری ہے۔

ہماری یونیورسٹی (یونیورسٹی آف ملایا) میں بھی وائرس سے نمٹنے کے لئے خصوصی اقدامات کئیے گئے ہیں۔ تمام کلاسز آن لائین موڈ پر شفٹ ہو چکی ہیں (یونیورسٹی میں عام حالات میں بھی ہرسمسٹر میں ایک ہفتہ آن لائن کلاسز لازمی ہیں اور یہ عمل کئی سال سے جاری ہے ) ، اس کے ساتھ سمسٹر بریک کا آغاز جلد کردیا گیا ہے تاکہ بعد ازاں تعلیمی عمل کو مکمل کیا جاسکے۔

تمام وائی واز، ڈیفنس، اور دیگر اہم میٹینگز موخر کردی گئی ہیں۔

چاٰئنہ اور دیگر متاثرہ ممالک سے آنے والے طلبہ کے لئے یونیورسٹی میں ہی ایک ہاسٹل قرنطینہ کے لئے مختص کیا گیا ہے جہاں طلبہ کو الگ الگ کمروں میں تمام سہولیات بمع خوراک مہیا کی گئی ہیں۔ قرنطینہ ہاسٹل کے باہر پولیس تاعینات کی گئی ہے تاکہ پابندی کو موثر بنایا جاسکے۔

یونیورسٹی میں کھیل کے تمام میدان، سٹیڈیمز، سوئیمنگ پولز اور ٹینس کورٹس کو بند کردیا ہے اور طلبہ کو اپنے کمروں میں رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس عرصہ کو چھٹیاں نا سمجھیں بلکہ اس دوران اپنی تعلیمی سرگرمیاں اور پروجیکٹس پہلے کی طرح جاری رکھیں۔

دوسری طرف حکومتی سطح پر بھی مناسب اقدامات لئے گئے ہیں :

1۔ وائرس کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے ملائشیا میں ملکی سطح پر اٹھارہ سے اکتیس مارچ تک مکمل لاک ڈاون کا اعلان کردیا گیا ہے۔ اس دوران صرف ضروری خدمات مہیا کرنے والے ادارے کھلے رہیں گے باقی ہر قسم کے بزنس اور دیگر سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں۔

2۔ تمام مالز، عوامی مقامات اور بازار مکمل بند ہیں صرف گروسری سٹورز کھلے ہیں اس کے علاوہ کھانے پینے کے ریستوران اور فاسٹ فوڈ چینز پر صرف ٹیک۔ اوے اور ہوم ڈیلوری کی سہولت میسر ہے۔

3۔ غیر ضروری سفر پر پابندی عائد کردی گئی ہے شہروں کے درمیان بس اور ٹرین سروس معطل ہے۔

4۔ مساجد اور دیگر عبادت گاہوں میں نمازوں اور جمعہ کے اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

5۔ ان احکامات کی پابندی کے لئے عوامی جگہوں اور سڑکوں پر پولیس تاعیینات کردی گئی ہے تاکہ احکامات کو موثر بنایا جاسکے۔

یہ قابل تقلید احکامات و حفاظتی تدابیر کم و بیش ہر ملک میں انفرادی اور حکومتی سطح پر اپنائے جاسکتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ابتدائی سطح پر وبا سے نمٹنے کے لئے صرف وسائل ہی نہیں بلکہ انتظامی اہلیت اور بہتر مینجمنٹ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ دعا ہے خداوند تعالی انسانیت اور کرہ ارض کو اس ابتلا سے جلد از جلد چھٹکارا دلائے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *