معذور بچے اللہ کا عذاب نہیں، قابل ستائش ہوتے ہیں
نام تو یاد نہیں لیکن کسی شخصیت کے بارے میں شنید ہے کہ ان سے جب سوال کیا گیا کہ آپ نے اسلام کی کیا خدمت کی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ کی کہ اسے کبھی اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا۔ دین کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنا تو اپنے تئیں سمجھداروں کا عام عوام کی جہالت سے فائدہ اٹھانے کی ہمارے معاشرے کی زمانے سے روایت رہی ہے لیکن بدقسمتی سے اب یہ سلسلہ جہالت کی حدود ٹاپ کر مہا جہالت کی حدوں میں داخل ہو چکا ہے اور ایسے ایسے نابغہ روزگار جاہل بڑی تیزی سے کورونا کی طرح ادھر ادھر پھیلتے نظر آرہے ہیں اور بے وقوفی میں ایسی ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جو ان کے لئے تو باعث شرم شاید نہ ہوں کہ اگر ہوتیں تو بولنے سے پہلے تولتے سوچتے ضرور لیکن شاہکار جہالت کی وہ بے مثال باتیں دین کی ابجد سے واقف ان عام فہم رکھنے والوں کے لئے باعث شرمندگی ضرور بن جاتی ہیں جنہیں دین سے محبت کا دعوی ہوتا ہے کسی غیر ذمہ دار کے منہ سے عادتآ ایسی جاہلانہ بات نکل جائے کہ ”معذور بچے والدین پر اللہ کا عذاب ہوتے ہیں“ تو دین پر انگلیاں اٹھانے والوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔
فیاض الحسن چوہان نے ایک پریس کانفرنس میں یہ کہا کہ معذور بچے والدین کے گناہوں کی سزا ہوتے ہیں عذاب ہوتے ہیں۔
معذور بچے عذاب نہیں، آپ کی سوچ معذور ہے۔
یہ الفاظ ہی ان کے علم سے معذور ہونے کے ثبوت اور اخلاق سے عاری ہونے کا گواہ کہ تمام مہذب دنیا اور صاحب علم و اخلاق والے معذور کے بجائے خصوصی لفظ استعمال کرتے ہیں۔ خصوصی افراد کہلانے والے دنیا بھر میں کیا کیا کارنامے انجام دے چکے اور کیا کیا انجام دے رہے ہیں ان طرف بھی موصوف وزیر کے دھیان کے نہ جانے کی وجہ ان کی ذہنی معذوری ہی ہوسکتی ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ جیسے خصوصی افراد کے کارنامے ایک سے زیادہ کتابوں اور سنہری حروف میں لکھنے لائق ہیں جن میں پیدائشی نابیناؤں جیسے حفاظ کرام بھی یقینآ شامل ہیں۔
یہ خصوصی افراد عام افراد کے مقابلے میں فیصد کے حساب سے زیادہ حوصلہ مند ذہین اور محنتی ہوتے ہیں۔ اور ماؤنٹ ایورسٹ جیسی بلند و بالا چوٹیاں بھی ان کے عزم و حوصلے کے سامنے اپنی پستی کا اقرار کر کے ان کے سامنے سرنگوں ہوتی دیکھیں گئی ہیں لیکن کچھ لوگوں کی ذہنی پستیاں شاید ایورسٹ جیسی چوٹیوں سے بھی بلند ہوتی ہے اور شاید اسی لئے وہ ان خصوصی افراد کو والدین کا عذاب قرار دے کر سقراط کہلانے کی آرزو کرتے ہیں۔
معذور بچے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا نہیں ایک خصوصی رحمت ہے۔ ایک صوبائی وزیراطلاعات کا یہ بیان سن کر دل ہی جلا دیا ہے ان والدین کے دلوں پر کیا گزری ہوگی جن کے بچے معذور ہیں وہ والدین بہت عظیم ہوتے ہیں جو معذور بچوں کے خدمت اور پرورش کرتے ہیں معذور بچے تو اللّھ تعالیٰ کی طرف سے والدین پر آزمائش ہوتے ہیں۔ میں صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے جو بیان دیا ہے معذور اولاد کے حوالے سے اس کا سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اور وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صاحب سے اپیل کرتا ہوں کہ انہیں فی الفور اپنے عہدے سے ہٹایا جائے۔


