کیا پاکستان کی ہر عورت مظلوم ہے؟


خواتین کے عالمی دن کے موقع پر حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک زبردست بحث ہوئی۔ ایک حلقے کا خیال ہے کہ ”پاکستان میں خواتین کو تمام حقوق عین اسلامی اور مشرقی روایات کے مطابق حاصل ہیں۔ خواتین کے حقوق کے نام پر، ہر سال 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منانا دراصل بیہودگی اور فحاشی کا ایجنڈا ہے“ تاہم، خواتین کی مختلف تنظیموں اور ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ ملک میں خواتین کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ وہ نہ صرف محرومیوں کا شکار ہیں بلکہ معاشرے میں ان کو کوئی تحفظ بھی حاصل نہیں اور وہ جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں عوام اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارا معاشی، معاشرتی اور سیاسی نظام ہے لیکن عورت اس معاملے میں دوھرے ظلم کا شکار ہے، ایک تو عمومی طور پر دوسرا معاشی محتاجی اور جہالت کی وجہ سے بھی وہ مرد کی زیادتیوں کا شکارہے۔

عورتوں کے دو طبقے ہیں، ایک شہری عورت، دوسری دیہی عورت۔ دونوں کے مسائل میں بڑا فرق ہے۔ جاگیردارانہ معاشرے کی وجہ سے دیہی عورت زیادہ جَبر جِھیلتی ہے کیونکہ وہ محنت کش بھی ہے۔ اس کی زندگی تقریباَ غلامانہ ہے۔ ذرا تصور کریں کہ جہاں مرد بھی اپنے روز مرہ کے معاملات، مثلاَ بیٹی کی تعلیم، اولاد کے رشتوں، شادی، پولنگ اسٹیشن پر ووٹ کاسٹ کرنے وغیرہ وغیرہ میں وڈیرے کے حکم کا محتاج ہو، وہاں عورت کا کیا حال ہوگا؟ گھر سے باہر مرد کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس کا سارا غصہ، شام کو وہ اپنی بیوی یا خاندان کی کسی اور عورت پہ اتارتا ہے۔ دیہی علاقوں میں عورت پہ جسمانی تشدد کرنا عام سی بات ہے۔

دیہی عورت ان گنت مسائل کا شکار ہے، جس کی وجہ جاگیردارانہ سماج، مردانہ تسلط اور فرسودہ رسومات ہیں۔ اسے اپنی زندگی کے متعلق تمام معاملات میں کوئی اختیار نہیں، بلکہ یہ اختیارات اس کے اپنے رشتہ داروں، خاندان کے کسی بھی مرد، معزز شخص، سرداروں، پئنچات یا جرگہ کے پاس ہیں۔ مثلاَ تعلیم، رشتہ، شادی یا ملازمت میں، اس کے رشتہ داروں یا وڈیرے کی مرضی چلتی ہے۔ اس کے علاوہ، ظلم کی نہ ختم ہونے والی داستان الگ ہے۔

خاندانی فیصلے، ذاتی تنازعات، وڈیروں، جرگہ اور پئنچات کے فیصلوں کا سارا نزلہ عورت پہ ہی گرتا ہے۔ جس میں، زبردستی کی شادی، اغوا، جسمانی تشدد، کاری قرار دینا، انفرادی یا اجتماعی جنسی زیادتی اور قتل کے انسانیت سوز واقعات شامل ہیں۔ عورت کو اپنے قریبی رشتہ داروں کی جانب سے ہوس کا نشانہ بنایا جانا بھی معمول کی بات ہے۔ پنجاب کے کچھ علاقوں میں، پنچایت کے فیصلوں میں عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور بازار میں بے لباس کر کے گھمانے کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں پسماندھ علاقوں میں کئی گاؤں ہیں جہاں عورت کو اپنا ووٹ ڈالنے کی اجازت ہی نہیں۔

دوسری طرف مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی شہری عورت، شہری معاشرے اور تعلیم کی وجہ سے دیہی عورت سے نسبتاَ زیادہ آرام میں ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے معاملے میں اسے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اس کے والدین بھی چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی پڑھی لکھی ہو تو بہتر۔ شادی کے معاملے میں بھی والدین آزاد ہیں کہ بیٹی کا رشتہ اپنی مرضی سے کریں۔ آج کل زیادھ تر، شہری لڑکیوں کی شادی ان کی اپنی پسند سے ہوتی ہے، جس میں ان کے والدین کی مرضی بھی شامل ہوتی ہے، کیونکہ شہری زندگی میں بیٹی کے رشتے کے بہت مسائل ہیں۔

ملازمت کرنی ہے یا نہیں، اس کا انحصار خود عورت یا اس کے خاندان پر ہے۔ کچھ گھروں میں عورت کو اپنے سسرال میں ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بیشتر شہری بچیاں / خواتین بلیک میلنگ کا شکار ہوتی ہیں، جو اکثر ان کے ٹیچر، باس، یا پیار کے نام پر دھوکیباز مرد کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے آج کل بہت ساری خواتین کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ بلیک میلنگ کے کچھ کیسز میں، عورت کو جنسی زیادتی کے کَرب سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔

کچھ خواتین خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، کچھ خاموش رہتی ہیں اور کچھ مقابلہ بھی کرتی ہیں۔ شہروں میں، اوباش نوجوانوں، دہشت گردوں اور عورت دشمن انتہا پسندوں نے، گھر سے باھر نکلنے والی خواتین کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ جس میں عورتوں پے تیزاب پھینکنا، اغوا، ریپ حتی کہ قتل کر دینا بھی شامل ہیں۔ شہروں اور قصبوں میں، دینی مدارس میں پڑھنے والی معصوم بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔

مجموعی طور پر، پاکستان میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا کیونکہ عام خیال یہ ہے کہ ”ان کے پاس دل، دماغ، عقل، خواہشات اور جذبات نہیں ہیں“ زندگی کے تمام معاملات میں سندھی میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ”عورت کی عقل ایڑی میں ہے“ در حقیقت مردانہ معاشرے میں عورت کو تعلیم سے محروم کر کے اسے جاھل ہی رکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے حقوق سے بے خبر ہے۔ خواتین کو جاہل رکھنے کا عمل خود مردوں کے لئے بہت ساری مشکلات پیدا کرتا ہے۔

حقیقت میں دیکھا جائے تو نچلے اور درمیانے طبقے کی عورت ہی ہر طرح کے ظلم، جبر اور ستم کا نشانہ بنتی ہے۔ لیکن اس کے خلاف سب سے بڑا انسانیت سوز ظلم، جنسی استحصال، جسمانی تشدد اور قتل ہے۔ جو بھی حلقے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں وہ حق بجانب ہیں۔ خواتین کے بنیادی حقوق کے حصول یا اوپر بیان کیے گئے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کو خوامخواہ غیر اسلامی اور مشرقی تہذیب کے خلاف سازش قرار دینا سراسر زیادتی ہے۔

پاکستان میں 8 مارچ کو خواتین کی حالیہ ریلیوں میں، کسی بھی قسم کا کوئی قابل اعتراض بینر نہیں تھا اور نہ ہی کوئی بیہودہ نعرہ لگا، لیکن پھر بھی کچھ عورت دشمن ”مفکرین“ نے اسے فحاشی کی ترغیب کی تحریک کہا ہے۔ ان کا یہ عمل نہ صرف زیادتی ہے بلکہ ظلم ہے۔ پاکستان میں، مختلف سیاسی جماعتوں کی خواتین ونگز موجود ہیں، ان کی مختلف سرگرمیوں یا جلسے جلوسوں میں شرکت کرنے پر کسی کو اعتراض نہیں، لیکن خواتین کے بنیادی حقوق کے حصول کے لئے، سماجی تنظیموں کی ہر سرگرمی کو رجعت پسند مرد، بے حیائی سمجہتے ہیں، افسوس ہے۔

ہاں، عورت کی ایک تیسری قسم بھی ہے، وہ ہے ”ٹاپ اپر کلاس کی آزاد خیال خواتین“ اِن خواتین کی تعداد آٹے میں نمک برابر بھی نہیں، یعنی خواتین کی کل آبادی کا ایک فیصد بھی نھیں۔ یہ خواتین اپنی فطرت میں مرد دشمن، انتہا پسند فیمینسٹ، اور ہر طرح کی پابندی سے آزاد ہیں۔ کوئی بھی اخلاقی حد ان کو قبول نہیں۔ ان کے مفاد میں جو کچھ اچھا ہے وہی ان کا دین و ایمان ہے۔ یہ خواتین معاشرے میں صرف اپنا تسلط چاہتی ہیں۔ ان کے گھر کے تمام مرد، بشمول شوہر اِن سے دبے ہوئے ہوتے ہیں۔ چونکہ ان کو زندگی کی تمام آسائشیں میسر ہوتی ہیں اس لئے ان کا مقصد صرف اپنے آپ کو خوش کرنا، ہر طرح سے زندگی کو خوب انجوائے کرنا، جس میں جنسی لذت (جس طریقے سے بھی حاصل ہو) کو اولیت حاصل ہے۔ ان کے لئے گناہ و ثواب کا کوئی Concept نہیں اور قانون بھی ان سے ڈرتا ہے۔ ایسی خواتین کی شادیاں اکثر ناکام ہوجاتی ہیں بلکہ یہ ”شوہر چھوڑ دو“ کے ایجنڈے پر کام کرتی ہیں لہذا وہ طلاق لینے میں دیر نہیں کرتیں۔

یہ خاندان کے ”یونٹ“ کی قائل نہیں۔ ان کو اگر بچے پیدا ہوں تو وہ ان کو اپنا دودھ نہیں پلاتیں کیونکہ ”ایسا کرنے سے ان کی فٹنیس خراب ہوتی ہے“ بچے کی پرورش نرس کے حوالے ہوتی ہے اس لئے ایسی ماؤں میں ممتا کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی بچوں کو اِن سے فطری پیار۔ اِن کے اپنے میٹنگ کلب ہیں، جن میں رقص، موسیقی، شراب اور عیش و عشرت کا سارا سامان موجود ہوتا ہے۔ ان کا اپنے گھر آنے جانے کا کوئی ٹائم نہیں ہوتا۔ بس ان کی اپنی الگ سی دنیا ہوتی ہے، جس میں کسی اور کلاس کی عورت کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔

اب ایسی ہی کچھ عورتیں، ملک میں یا ملک سے باہر، خواتین کے ”عالمی دن“ کے موقع پرکوئی بیہودہ بینر لیکر، مردوں یا مذہب کے خلاف نعرے لگاتی ہیں تو اس کو مثال بنا کر ملک کی تمام عورتوں پہ لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ وہ باقی % 99 خواتین کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ ویسے تو پاکستان میں ایک حقیر تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو الحاد کا پرچار کرتے ہیں تو ان سے اسلام جیسے وسیع ترین دین پہ کوئی فرق نہیں پڑتا نہ ہی وہ ملک کی اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بالکل یہی حیثیت ان عورتوں کی ہے۔ ان عورتوں نے تو حقیقت میں، لوئر، مڈل اور اپر کلاس کی معزز خواتین کے حقیقی مسائل کو نقصان پہنچایا ہے۔ لہذا، مخصوص مذہبی حلقوں یا تنگ نظر حضرات کی طرف سے تمام عورتوں پر یہ الزام عائد کرنا کہ وہ اپنے مطالبات کی آڑ میں، ملک میں صرف بے حیائی اور فحاشی پھیلانا چاہتی ہیں درحقیقت زمینی حقائق سے منہ موڑنے اور مظلوم خواتین کے زخموں پہ نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔ ہر معاملے کو صرف میرٹ کی بنیاد پہ پرکھنا چاھئے۔ مظلوم کی بِلا تفریق حمایت اور ظالم کی مذمت کرنا ہی اعلی انسانی اقدار ہیں۔

Facebook Comments HS