پی پی اور مراد علی شاہ دونوں زندہ باد ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اخے غریب مر جان گے ۔ یہ فرمانا ہے کپتان کا ۔ اسی وجہ سے وہ لاک ڈاؤن کا حکم نہیں دے رہا ، یہ وقت تھا کہ سر جی سوٹی ہاتھ میں پکڑتے اور جاتے وزیراعظم ہاؤس پر وہ لگتا جمہوریت پر پورا ایمان لا کر کہیں آرام کر رہے ہیں
 
کپتان دو ہزار گیارہ کے پمپاو بم  جلسے سے پہلے جتنے عظیم الشان جلسے کرتا تھا زیادہ تر ان آنٹیوں کے گھر کے پچھلے لان میں ہوتے تھے جن کے دل کپتان کی فاسٹ باؤلنگ دیکھ کر کبھی  لیر لیر ہوئے وے تھے ۔
 
شہزادوں جیسے ہمارے عظیم لیڈر نے تب تک نہ کوئی غریب ویکھا تھا نہ کبھی کسی غریب سے ہاتھ ملانے کی زحمت کی تھی ۔ ویسے پی ٹی آئی کا غریب ہے کون ، کسی کو کوئی یاد آیا ہو تو بتا دے مجھے اک ممبر اسمبلی یاد آ گیا ہے پر رہنے دیتے ہیں ، اس کو کیوں مشہور کر کے پارٹی میں غربت کا نشان بنائیں ۔
 
غریبوں کو کرونے والی موت سے بال بال بچا لیا ہے لاک ڈاؤن نہ کر کے ، اس پر کپتان کی بلائیں لینی چاہئیں غریبوں کو ۔
 
ساتھ ہی کپتان کا کہنا ہے کہ لوگ گھروں میں رہیں جسے نزلے ذکام کا شبہ ہے وہ وہ تنہائی اختیار کرے ۔ جب لوگ گھروں میں رہیں گے تو اس کے بعد لاک ڈاؤن ہونا نہ ہونا اک برابر نہیں ہے ؟
 
غریبوں سے ووٹ لینے والی اک ہی اصل پارٹی ہے ۔ مراد علی شاہ اس کے وزیر اعلی ہیں ۔ گردن گردن تک غریبوں کی یہ جماعت ہیرا پھیریوں میں ڈوب جاتی ہے جب اقتدار ملتا ہے ، میڈیا میں جتنی ان کی ہوتی ہے ، ڈھٹائی اور برداشت کے پورے نمبر لیتی ہے، جب لوگوں سے متعلق کوئی معاملہ ہو ، یا ان کے حق کی بات تو پھر یہ ڈٹ کر کھڑی ہو جاتی ہے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ آئین اور قانون سازی کے حوالے سے پی پی کا اعتراف کرنا ہی پڑتا ہے  ۔
 
مراد علی شاہ پر اک اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ بہت ہی افسر طبعیت ہیں سیاست دان کم اور ٹیکنوکریٹ زیادہ ہیں ۔ فرق دیکھ لیں جیسے ہی رولا بنا ہے غریبوں کی یہ پارٹی ہی ہے ، جو سب سے زیادہ سرگرم ہے ۔
 
غریب ان کے دیکھے بھالے ہیں ، انہیں پتہ ہے کہ اب کیا کرنا ہے ، کدھر کیسے سختی کرنی ہے کیسے بچانا ہے کدھر ان کو لے جا کر تاڑنا ہے ، ضرورت پڑے تو ڈانگ سوٹا کیسے کرنا ہے ۔
 
مراد علی شاہ کے حوالے سے اک میسج بھی چل رہا ہے کہ حکومت بجلی گیس کے کم بل نہ دینے پر کنیکشن نہ کاٹے ، جو مالک مکان ہیں وہ دکانوں مکانوں کے کرائے پر اصرار نہ کریں ، یہ بل قسطوں میں وصول کر لیں ۔
 
اس کے علاوہ متاثرین کو گھر پر خوراک پہنچانے کا آئیڈیا بھی سندھ حکومت کو ہی سب سے پہلے آیا ۔
 
ہم سب ہنس رہے تھے جگتیں لگا رہے تھے جب سندھ حکومت کرونا متاثرین کے پیچھے دوڑ دوڑ کر انہیں پکڑ رہی تھی۔
 
غریب نہیں مرے گا کیسے مرے گا میرے بھائی  ، آپ اس کے اردگرد رہتے ہونگے اور وہ بھوک سے مر جائے گا ؟ یہ کیسے اور کیوں ہو گا ۔ ہر کوئی اپنے اردگرد رہنے والوں کا ذمہ دار ہے ، مل جل کر کام چل سکتا ہے ، کچھ قرض وصول نہ کریں کرائے اک آدھ مہینہ نہ مانگے ملتوی کر دیں اگر چھوڑ نہیں سکتے ہیں تو۔  گھر بیٹھیں اک دوسرے کا خیال رکھیں ۔ وقت ہے یہ بھی گزر ہی جائے گا ۔ 
 
اس دوران حکومت کو کرونا کے متاثرین ڈھونڈ کر انہیں شناخت کرنا چاہئے ، اکثریت کو تو گھر میں ہی  الگ رکھ کر ہی ٹھیک کیا جا سکتا ہے ۔ اک ذرا سے نظم و ضبط سے کام چل سکتا ہے ۔
کپتان سے فیصلہ ہو نہیں پا رہا ، اس نے نہ غریب دیکھے ہیں نہ ان کی نہ ان کے رہن سہن کی سمجھ رکھتا ہے ، جنہیں سمجھ ہے ان کی کارکردگی بھی اچھی ہے اور وہ اس وبا میں سرخرو ہو کر سامنے آ رہے ہیں۔ پی پی اور مراد علی شاہ کرونا کے پیدا کردہ بحران میں ڈٹ کر کھڑے ہیں اور پورے نمبروں سے پاس ہیں ۔ 
 
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 375 posts and counting.See all posts by wisi

One thought on “پی پی اور مراد علی شاہ دونوں زندہ باد ہیں

  • 22/03/2020 at 7:59 pm
    Permalink

    حق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *