ٹالسٹائی کون تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیو ٹالسٹائی کا شمار دنیائے ادب کے افق پر موجود چند ایک عظیم ترین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس عظیم لکھاری کے ناولز کسی ایک خطے یا وقت کی نہیں بلکہ ہر جگہ اور ہر زمانے کی عمومی انسانی صورتِ حال کی عکاسی کرتے ہیں۔ ناول کی تاریخ میں ضخیم ترین اور شاید عظیم ترین ناول لکھنے کا سہرا بھی ٹالسٹائی کے سر ہے۔ ٹالسٹائی ایک مذہبی مفکر، اخلاقیات کا پرچار کرنے والا معلم، اور فکر کو نئی جہتیں بخشنے والا دانشور ہے۔

ٹالسٹائی کے ناولز ’وار اینڈ پیس‘ اور ’اینا کرینینا‘ کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ یہ ناولز اتنے ضخیم ہیں کہ انہیں پڑھنا شاید ناممکن تو نہیں لیکن اتنا آسان کام بھی نہیں۔ ایک امریکی فلم کے دوران ایک کردار پہ قاتلانہ حملہ ہوتا ہے اور وہ چاقو کے وار سے صرف اس لئے بچ جاتا ہے کیونکہ اس نے قمیص کے نیچے ’وار اینڈ پیس‘ دبا رکھا ہوتا ہے۔ اس حملے سے بچنے کے بعد وہ ایک ذومعنی جملہ کہتا ہے کہ یہ ایک ایسا ناول ہے جس میں سے کوئی بھی پار نہیں گزر سکتا۔

کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کلاسک کہتے ہی ایسے کام کو ہیں جو ہر کوئی چاہتا تو ہے کہ اس نے پڑھ رکھا ہو لیکن وہ پڑھ نہ پائے۔ لیکن یہ محض مبالغہ آرائی اور غلط نقطۂ نظر ہے۔ ٹالسٹائی نے اپنے ناولز اس کمال مہارت سے لکھے ہیں اور انہیں ایسے آسان حصوں میں تقسیم کیا ہے کہ قاری پلاٹ کا ایک ایک نقطہ سمجھ رہا ہوتا ہے اور ایک بار ناول شروع کر دے تو اس کا تجسس اسے آخر تک لے جاتا ہے۔

ٹالسٹائی کی شخصیت بڑے دلچسپ تضادات کا مجموعہ تھی۔ اپنے ناولز میں وہ ایک مصلح کے طور پہ سامنے آتا ہے جب کہ ذاتی طور پہ وہ بڑا غصیلا اور جارحانہ مزاج کا آدمی تھا۔ کہتے ہیں کہ روزمرہ کے معاملات میں اس کا رویہ غار میں رہنے والے آدمی جیسا تھا۔ وہ جوانی میں مختلف قسم کی عیاشیوں اور جنسی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ یونیورسٹی کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر فوج کی ملازمت اختیار کر لی اور مختلف جنگوں میں حصہ لیا جس کی جھلک اس کے ناولز میں نظر آتی ہے۔ ٹالسٹائی نے صوفیہ نامی لڑکی سے شادی کی اور ان کے ہاں تیرہ بچے پیدا ہوئے جن میں سے چھ سنِ بلوغت تک پہنچنے سے پہلے ہی مر گئے۔ اتنا عرصہ ایک ساتھ گزارنے کے باوجود ٹالسٹائی اور صوفیہ کی شادی بالآخر ناکام ہو گئی۔

ٹالسٹائی کی شخصیت پہ روسو اور شوپنہاور کی تعلیمات نے انمٹ نشان چھوڑے۔ روسو کا خیال ہے کہ بچہ معصوم پیدا ہوتا ہے اور تعلیم، سائنس، آرٹ اور مادی ترقی اسے کرپٹ بنا دیتے ہیں۔ روسو کے مطابق دیہاتوں سے شہروں کی طرف ہجرت انسان کو گھٹیا بنا دیتی ہے۔ اس طرح انسان کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتا۔ انسان کو فطرت اور دیہات کی طرف واپس لوٹنا پڑے گا۔ گو کہ بعد میں آنے والے لوگوں نے روسو کے نظریات سے بڑے بنیادی اختلافات کیے اور ان میں موجود تضادات اور مغالطوں کو زیرِ بحث لایا لیکن ٹالسٹائی کے ناولز میں ہمیں جگہ جگہ روسو کے نظریات کا اثر نظر آتا ہے۔ اسی طرح شوپنہاور کی یاسیت اور عورت دشمنی بھی ٹالسٹائی کے ناولز میں بڑی واضح طور پہ نظر آتی ہے۔

ٹالسٹائی کے شخصی تضادات اور ناکام ذاتی زندگی سے قطعء نظر اس کے ناولز کا شمار آج تک لکھے گئے گنتی کے عظیم ترین ناولز میں ہوتا ہے۔ ٹالسٹائی کے ناولز ہمیں ایک خوبصورت اور مثالی دنیا کا وژن دیتے ہیں۔ زندگی کی مختلف جہتوں کی اتنی خوبصورت اور اتنی جامع عکاسی ٹالسٹائی کے علاوہ کوئی اور کر ہی نہیں سکتا۔ ٹالسٹائی کے ناولز ہم پہ ’لائف اینحینسنگ‘ اثر ڈالتے ہیں اور زندگی کی خوبصورتیوں سے روشناس کرواتے ہیں۔ جن کرداروں، جن مسائل، جس نظام، جس اخلاقی دیوالیہ پن اور جس فکری پستی کا اظہار ٹالسٹائی نے اپنے ناولز میں کیا ہے ایسا لگتا ہے کہ آج سو سال گزرنے کے باوجود وہ ساری باتیں اتنی ہی ریلیونٹ اور یونیورسل ہیں جتنی کہ وہ اس وقت تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *