پاکستانی رویے اور کرونا وائرس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کیا ہے کیسے پھیلتاہے یہ تو آپ نے اب تک ہزاروں واٹس ایپ میسجز کے اندر پڑھ ہی لیا ہوگا۔ اب میں کچھ پاکستانی رویوں کا جائزہ پیش کرتا ہوں جس سے اندازہ ہوسکے گا کہ پاکستانی لوگوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ اس سے پہلے ایک چھوٹی سی کہانی سناتا ہوں جس سے اس قوم کے رویوں کو سمجھنے میں کچھ آسانی ہوگی۔

لیہ کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے کوٹ سلطان اس کی ایک بستی میں سے خبر ملی کہ وہاں بم پڑ ا ہے پھر کیا تھا انتظامیہ حرکت میں آچکی تھی بم سکواڈ کو بلایا جا چکا تھا 1122 کی گاڑیاں سائرن بجاتی اس بستی تک جو کہ مین روڈ سے 3 سے 4 کلومیٹر مشرق کی طرف تھی پہنچ رہی تھیں فائربرگیڈ کی گاڑیاں آچکی تھیں رات ہونے کو تھی اب انتظار تھا کہ بم سکواڈ پہنچے بالآخر خدا خدا کرکے وہ بھی جائے وقوعہ پر پہنچے لائٹس آن کی گئیں بم سکواڈ نے جاکر دیکھا کہ وہ لال کلر کے پائپس ہیں ان کے ساتھ ایک ٹائمر اور تاریں جڑی ہوئی ہیں لیکن ان کے اندر بارود کے بدلے ریت بھری ہوئی ہے۔

پھر کیا تھی کہ انتظامیہ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے واپس ہوگئی اس سب میں سب سے دلچسپ بات جو میں نے ابھی نہیں بتائی کہ اس بم کی اطلاع پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ فلاں علاقے میں بم ملا ہے اور پھر لوگ جوق در جوق وہاں پر اکٹھے ہونے شروع ہوئے شام تک 3 سے 4 ہزار بندہ وہاں اکٹھا ہو چکا تھا ایسے لگتا تھا جیسے میلہ سا سج گیا ہو۔ کہیں نوجوان ٹولیوں کی صورت میں بم دیکھنے پہنچ رہے تھے کہیں بزرگ اپنی موٹرسائیکلوں پر ریڑھی بان بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے انہوں نے بھی بم کی اطلاع والے علاقے کا رخ کیا کہ کچھ رزق کما سکیں۔ یہ میں کیوں بتا رہا ہوں کہ اگر خدا نخواستہ وہ بم اصلی ہوتا اس میں ریت کی جگہ بارود بھرا ہوتا اور وہ کتنا نقصان کر سکتا تھا۔

دوسرا واقعہ سانحہ احمد پور شرقیہ ہے جہاں پکا پل کے قریب آئل ٹینکر گرگیا جس میں سے گرنے والے پٹرول کو اکٹھا کرنے کے لیے 300 کے قریب لوگ اکٹھا کرنے پہنچ گئے جب اس ٹینکر کو آگ لگی تو تقریبا 250 لوگ جل کر مر گئے۔ تیسرا واقعہ تھا ایک جگہ دہشت گردوں نے بلاسٹ کیا اس کے نتیجے میں 500 بندے اور اکٹھے ہو گئے کہ دیکھ لیں کیا ہوا ہے دہشت گردوں نے دوسرا دھماکہ کیا جس میں اور زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔

یہ کوئی ایک دو واقعات نہیں ہیں ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ ہمارے یہاں لوگوں کو اگر پتہ چلے کہ فلاں ہسپتال میں کرونا کا مریض آیا ہوا ہے 500 سے 1000 لوگ صرف اس کو دیکھنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ لوگوں کو سوشل ڈسٹنس رکھنے کے لیے کہا گیا لیکن ان کی دلیلیں ختم نہیں ہوتی ہیں اس ملک میں کرونا کے آنے سے پہلے ہی اس کے اوپر بنائے گئے لطیفے بنائے گئے اس ملک میں ہر ایک کے اپنے علاج کے سسٹم ہیں کوئی پیر صاحب شف شف کرکے لوگوں کو کرونا سے بچا لیتے ہیں کسی بنگالی بابا نے کرونا کا شرطیہ علاج دریافت کیا ہے اور کسی نے کبوتر کے پوٹے سے علاج دریافت کر لیا ہے۔ ہر کام کروا لیں ان لوگوں سے صرف نہیں کرنی تو احتیاط نہیں کرنی۔

حکومت کو تو داد دیتا ہوں جنہوں نے بروقت فیصلہ کیا سکول بند کیے لیکن اس سے کچھ نہیں ہوگا میں بطور انتھروپالوجسٹ ان لوگوں کے رویوں کو پڑھتا رہتا ہوں میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مشکل ترین فیصلہ لے۔ یہ قوم لاتوں کی بھوت ہے باتوں سے ان کا کچھ نہیں بنتا ہے۔ یہاں 144 دفعہ کا مذاق ہی بنا ہوا ہے۔ میں لیہ واپس آیا تو دیکھا یہاں سکولوں کی چھٹیاں ہوئیں تو 100 سے 200 نوجوان اکٹھے ہو کر والی بال کھیل رہے ہیں میں سوچ رہا تھا خدا نا کرے ایک بندہ بھی کرونا انفیکٹد ہو اور وہ اس بال کو چھو لے تو اتنے نوجوان جو کھیل رہے ہیں ان سب تک وہ وائرس جا سکتا ہے اور پھر ان سے ان کی فیملی تک۔

میرے دوست ہیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہے نعیم بخش صاحب میں ان کے پاس گیا موجودہ حالات ابھی یہ بھی نہیں بنے تھے ان کو غصہ تھا اس قوم پر ان کا غصہ جائز تھا کہ ہم قوم نہیں ہیں ہم صرف ہجوم ہیں ہم منتشر خیال لوگ ہیں۔ ہم کرونا کے ڈاکٹر، فلاسفر، حکیم ہیں اور ہم اس چکر میں مارے جائیں گے۔ میں ان کی بات سن کر واقعی خود سے سوال کر رہا تھا کہ ان کی بات تو سو فیصد درست ہے ہم قوم نہیں ہیں صرف ہجوم ہیں ہم وہ بھانڈ ہیں جن سے مخول کروا لیں جگت بازی تو کروا لیں، احتیاط نہیں کریں گے۔

ٓآپ کو لگ رہا ہوگا کہ میرے لکھے لفظ اتنے کڑوے اتنے سخت کیوں ہیں کیونکہ میں اس قوم کی سائیکالوجی کو جانتا ہوں۔ کرونا کا کیس آنے سے پہلے ماسک غائب اور 200 گنا زیادہ قیمت سے فروخت ہو رہے تھے۔ سینیٹائزر مارکیٹ سے غائب ہیں جہاں ہیں اتنے مہنگے ہیں لوگ لینے کا سوچ نہیں سکتے۔ یہاں کرونا کا پازیٹیو کا کیس 6000 ہزاررشوت دے کر وہاں سے نکل کر گھر آ جاتا ہے۔ یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے کچھ بھی۔

عمران خان صاحب اٹلی سے سبق سیکھیں۔ اب بھی وقت ہے ابھی کچھ نہیں گیا ہاتھ سے پاکستان کو اٹلی بننے سے روکیں۔ ہم اس مصیبت کا اس ہجوم کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتے آپ سپیشل کرفیو لگوا دیں آپ کسی بھی گھر کے فرد کو بغیر وجہ کے نکلنے بھی ناں دیں۔ آپ اس کام کے لیے پولیس سے کام لیں وہ ویسے بھی اس کام کی ماہر ہے بس ان کو ڈنڈے دیں اور اجازت دیں۔ قانون اور قانونی باتیں تب کر لیں گے جب زندہ رہیں گے۔ ہاں غریب اور نادار لوگ دیہاڑی دار مزدور کے گھر میں آپ ایک ہفتہ کا راشن پہنچائیں۔

لاک ڈاؤن ہی اس کا بہتر حل ہے پھر دوسرا مرحلہ آتا ہے سپرے کا ڈس انفکشن کرنے کا اس کے لیے آپ مرحلہ وار کام کر سکتے ہیں۔ ہمارے سماجی رویے اس قابل نہیں ہیں کہ ہم اس وائرس سے لڑ سکیں۔ آپ فوج کی مدد لیں لیکن لوگوں کو گھروں کے اندر تک محدود کرلیں۔ ہم نان سیریس رویوں کے مالک ہیں ہم سختی کے بغیر کچھ بھی نہیں کریں گے اور ہم میں سے کسی ایک کو بھی ہوا تو سمجھیں ہم میں سے ایک ایک بندہ 100 سے 200 بندوں تک وہ وائرس ثواب سمجھ کر پہنچائے گا۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں وقت رہتے کچھ کر لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply