کورونا وائرس سے ہمیں کیا خطرہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تصویر میں نظر آنے والی فوجی گاڑیاں اٹلی میں کورونا سے مرنے والے لوگوں کو لادنے کے لیے آئی ہوئی ہیں کیونکہ میتیں اٹھانے والی گاڑیاں کم پڑ گئیں ہیں. یہ یورپ کا حال ہے وہ یورپ جو ہم سے کہیں ترقی یافتہ اور امیر ہے وہاں میتیں ان فوجی ٹرکوں میں بھر کر بغیر کسی غسل کفن یا آخری رسومات کے دفنائی جا رہی ہیں۔ اس وقت اٹلی میں اموات کی تعداد چین سے زیادہ ہو چکی ہیں ادھر ایران میں ہر دس منٹ میں اک بندہ فوت ہو رہا ہے اور ایران بحران سے نپٹنے اور ادویات خریدنے کے لیے پابندیاں ہٹوانے کی درخوستیں کر رہا ہے۔

اب ذرا خود پہ نظر ڈالیں ہمیں کورونا کی صورت میں اک نیا مذاق مل گیا ہے دنیا جہان کی جگتیں کی جا رہی ہیں حکومت کے اقدامات پہ چیخ رہے ہیں کہ سب بند کیوں کیا جا رہا ہے۔ کچھ منچلے چھٹیوں اور شہر بند ہونے کی خوشیاں منا رہے ہیں۔ پتنگ بازی ہو رہی ہے، بار بی کیو کے انتظام ہو رہے ہیں، گانے بجائے جا رہے ہیں۔ اس بات سے بے خبر کہ پورے ملک میں وینٹی لیٹرز کی تعداد ڈھائی ہزار سے بھی کم ہے وہ وینٹی لیٹرز جو سنجیدہ مریضوں کی آخری لائف لائین ہوتا ہے وینٹی لیٹر نہ ملنے کی صورت میں موت پکی۔ پنجاب میں سرکاری اور غیرسرکاری ملا کر کل 1700 سو وینٹی لیٹر ہیں، بلوچستان میں کل 49، کے پی میں ڈیڑھ سو اور سندھ میں یہ تعداد کل چھ سو سے آٹھ سو کے لگ بھگ ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں ہزاروں پرائیویٹ اسپتال ہیں، ان اسپتالوں کے پاس وینٹی لیٹرز کی کل تعداد 175 ہے باقی تمام اسپتال محض نزلے کھانسی اور بخار کے علاج کے لیے ہیں۔

اب ذرا سوچیں کہ وبا پھیلتی ہے جو پھیل چکی ہے رات مریضوں کی تعداد سات سو کراس کر چکی تھی اب ان مریضوں کو وینٹی لیٹرز درکار ہوں گے وبا امیر غریب کا فرق نہیں رکھتی، ہم رکھتے ہیں۔ اس لیے دستیاب وینٹی لیٹرز پہ اشرافیہ کا حق ہو گا ہم جیسے مریضوں کا وہی حال ہو گا جو آپ نے مختلف ہسپتالوں سے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا ہو گا مریض تڑپ تڑپ کر مر رہا ہے گھر والے دروازے پیٹ رہے ہیں لیکن مدد کو کوئی نہیں۔

ہم سے کم آبادی اور سپر پاور کہلائے جانے والے امریکہ کے پاس پونے دو لاکھ وینٹی لیٹرز ہیں لیکن وہ خوف سے کانپ رہا ہے سرحدیں بند کر دیں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا یوم دعا منا رہے ہیں الگ سے فنڈز مختص ہو رہے ہیں۔ ادھر ہم چیخ رہے ہیں، تعلیمی ادارے اور مارکیٹیں کیوں بند کیں؟

دنیا پہ نظر ڈالیں۔ ہم سے کہیں آگے بھارت اتوار سے کرفیو لگا رہا ہے۔ آسٹریلیا نے ملک میں داخلہ بند کر دیا ہے۔ چین اور جنوبی کوریا نے محض لاک ڈاؤن کر کے کورونا کو شکست دی ہے۔ ہماری حکومت نے چار افراد سے زائد کے اجتماع پہ پابندی کیا لگائی، عوام چیخنے لگے۔ اب حکومت پہ دباؤ ڈال رہے ہیں کہ کاروبار زندگی بحال کرے جبکہ حکومت کرفیو کے متعلق سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ لاک ڈاؤن سے شدید معاشی نقصان ہو گا کیونکہ ہم نام کے مسلمان بہت ظالم ہیں۔ ہمیں وبا میں بھی منافع کا اک موقع نظر آتا ہے، ذخیرہ اندوزی ہو گی، دکاندار ملازم کو بغیر کام تنخواہ نہیں دے گا، دیہاڑی دار مزدور جن کا چولہا دو دن سے بند ہے وہ بے بس ہو گا مگر ہم نے لاک ڈاؤن نہ کیا تو اگلا نقصان اسے سے زیادہ بھیانک ہے۔ چند سال پہلے صرف اک شہر کراچی میں آئی ہیٹ سٹروک کو یاد کریں۔ چار دن میں حشر یہ تھا کہ سرد خانے مردہ لاشوں سے بھر چکے تھے کفن دفن کرنے والا کوئی نہ تھا، ٹینٹ لگا کر میتیں رکھنا پڑی تھیں۔ ہمیں مصیبت کی اس گھڑی میں قوم بننا ہو گا۔ صاحب استطاعت مزدور اور دیہاڑی دار طبقے کا خیال کرے، اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور کم از کم اک خاندان کو اک مہینے کا راشن ڈلوا دیں۔ محلہ کمیٹیاں بنائیں، چندہ اکٹھا کریں اور غریبوں کو لاک ڈاؤن میں چین سے جینے کا وسیلہ بنیں۔

دوسری طرف ان چھٹیوں کو فیسٹیول سمجھنا بند کریں۔ محکمہ صحت کی ہدایات پہ عمل کریں، خود ساختہ قرنطینہ میں چلے جائیں۔ بلا ضرورت گھر سے نہ نکلیں، اجتماعات نہ کریں، بار بار ہاتھ دھوئیں، صفائی کا خیال رکھیں۔ خدارا کچھ سنجیدگی کا ثبوت دیں۔ یہ ساری دنیا پاگل نہیں ہے جو اپنے کاروبار سمیٹ کر بیٹھ گئی ہے۔ یہ وقت فیس بک پر میمز بنانے اور ٹویٹر پر عثمان بزدار کو رگڑنے کا نہیں، ایک قوم بن کر اس بحران سے نبٹنے کا ہے۔ یہ وبا ہے، یہ تیسری عالمی جنگ کے درجے کی ایمرجنسی ہے، اسے سمجھیں اور اپنا کھلنڈرا پن ایک طرف رکھ کر پوری قوم سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ اللہ پہ توکل اچھی بات ہے لیکن آپ کو نظر نہیں آتا کہ کعبہ و کلیسا بند ہیں۔ احتیاط اور علاج سنت ہیں۔ اگر آپ وبا کے معاملے میں اللہ پرہی بھروسا کرنا چاہتے ہیں تو پھر رزق کے معاملے میں بھی کریں۔ لاک ڈاؤن کو سنجیدہ لیں۔ یقیناً یہ مشکل ہے، ضرور تنگی ہوگی، غذائی قلت اس وقت سب سے بڑا خطرہ بن کر سامنے کھڑی ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمیں خوراک کے معاملے میں محتاط ہونا ہے، خوراک کا ضیاع نہ کریں ذمہ داری سے اشیائے خوردونوش خریدیں سٹور خالی اور ٹرالیاں بھرنے سے قبل دوسروں کا سوچیں۔ فالتو کی دعوتیں بند کردیں، باہر نہیں جاسکتے تو یہ مطلب نہیں کہ ڈیلیوری بوائے سے کھانا منگوا کر کھایا جائے۔ اس وقت وینٹی لیٹر کے بعد خوراک کا بحران دوسرا بڑا چیلنج ہے۔ یاد رکھیں حکومت تنہا اس معاملے سے نہیں نبٹ پائے گی۔ آپ کو، مجھے ہم سب کو مل کر ساتھ کھڑے رہ کر اس بحران سے نپٹنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *